بجٹ اور آئی ایم ایف کے احکامات

355

آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے سے قبل ہی تنازعات کا شکار ہوگیا ہے ۔ اس امر کے باوجود کہ رواں مالی سال اہل پاکستان کے لیے انتہائی سخت تھا، آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت کو واضح ہدایات جاری کردی ہیں کہ ملازمین کی تنخواہوں میں کسی بھی قسم کا کوئی اضافہ نہ کیا جائے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافے کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کی جانب سے دی جانے والی سخت ہدایات تھیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے مالی سال میں وہ سب کچھ پورے عروج پر رہا جس سے بچنے کے لیے تبدیلی کا نعرہ لگاتی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدا رمیں آئی تھی ۔کون سا مالی اسکینڈل ہے جس میں عمران خان نیازی کی ٹیم شامل نہیں ہے ۔ گو کہ پاکستان تحریک انصاف سے قبل کے مالی اسکینڈلوں میں بھی عمران خان کی ٹیم کے ہی ارکان کے نام آتے رہے ہیں مگر یہ سارے ارکان اُس وقت پرویز مشرف اور پھر زرداری کی ٹیم کا حصہ تھے ۔ ایک چور سے جو اندیشے ہوتے ہیں ، وہ سارے اندیشے بہ اہتمام عمران خان کی کابینہ نے درست ثابت کیے ۔ مرے پر مزید سو درے یہ ہوئے کہ عمران خان نے معاشی بحالی کے جتنے بھی وعدے کیے تھے ، ان سے بھی وہ ببانگ دہل مُکر گئے ۔ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر تو وہ کیا دیتے ، ان کی پالیسیوں کے سبب کئی کروڑ برسرروزگار افراد ضرور بے روزگار ہوگئے اور غربت کے سبب کھلے آسمان تلے آگئے ۔ ایک جانب عمران خان کے یہ کمالات ہیں تو دوسری طرف ان کی حکومت مسلسل پیٹ بھرے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بے دریغ اضافہ کیے چلے جارہی ہے ۔ پہلے ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں بھاری اضافہ کیا گیا اور اب ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافے کے بل کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا مہنگائی کی شرح میں صرف ارکان پارلیمنٹ کے لیے اضافہ ہوا ہے ۔ مہنگائی کا یہ بم تو ان ہی ارکان پارلیمنٹ نے پوری قوم پر گرایا ہے ۔ ان کی اس ناقابل بیان کارکردگی پر اصولی طور پر تو ان سب کو فارغ کرکے ان سے وہ تنخواہیں اور مراعات مع جرمانہ وصول کرلینی چاہییں جو انہوں نے اب تک وصول کی ہیں ۔ مگر ان ارکان پارلیمنٹ کی کارکردگی کا احتساب کون کرے گا ۔ عمران خان کا تو خود ماضی گواہ ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں ایک دن بھی شرکت نہیں کی مگر مراعات اور تنخواہیں انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے پوری وصول کیں ۔ کورونا کے نام پر کیے جانے والے لاک ڈاؤن نے تو معیشت کی رہی سہی کمر بھی توڑ کر رکھ دی ہے ۔ ایسے میں زراعت سے کچھ اچھی امیدیں تھیں تو وہ حکومت کی نااہلی کے سبب ٹڈی دل کی نذر ہوگئی ہیں ۔ پوری دنیا میں کورونا کی وجہ سے ہونے والی معاشی گراوٹ کے تدارک کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے اور شہریوں کو حقیقی مدد فراہم کی گئی مگر پاکستان میں اس کے قطعی برعکس اقداما ت کیے گئے ۔سرکاری انتظام میں موجود پی آئی اے کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد تک کٹوتی کا حکم نامہ جاری کردیا گیا ۔ پولیو مہم کے لیے رکھے گئے گیارہ ہزار ملازمین کی خاموشی سے چھٹی کردی گئی ۔ ملک میں صحت و تعلیم کی سہولتوں کے معیار سے ارکان پارلیمنٹ سمیت سب ہی آگاہ ہیں۔ ایک بھی رکن پارلیمنٹ ، سیاستداں، بیوروکریٹ یا فوجی افسر سرکاری اسپتالوں سے علاج کروانے پر تیار نہیں ہے ۔ ان کی اکثریت کی اولادیں بیرون ملک تعلیم حاصل کررہی ہیں ۔