کورونا کے مریضوں کو اسپتالوں سے کوئی رہنمائی نہیں ملتی،میئر کراچی

60

کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پر سینٹرل ہیلپ لائن قائم کرے جس کے تحت، ڈاکٹروں، مریضوں اور ان کے لواحقین کویہ پتا چل سکے کہ کس اسپتال میں مریضوں کے لیے بیڈ اور وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں، فوری طبی امداد کے منتظر مریضوں کو ان کے لواحقین جگہ جگہ لیے پھرتے ہیں، لیکن انہیں کوئی رہنمائی فراہم نہیں کی جاتی کہ وہ مریض کو لیکر کہاں جائیں۔ یہ بات انہوں نے کورونا وائرس کے حوالے سے کے ایم سی کے اسپتالوں میں انتظامات اور ضروریات کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، میئر کراچی نے کہا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے کوئی میکنیزم موجود نہیں ہے اور اب تک کوئی ایسی ہیلپ لائن نہیں بن سکی جس پر ڈاکٹرز یا مریضوں کے لواحقین فون کرکے معلوم کرلیں کہ کن اسپتالوں میں کتنے بیڈز خالی ہیں اور سیریس مریضوں کو کس اسپتال میں بھیجا جائے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں قائم مختلف کلینکس میں ہر روز 6 سے 7 مریض لائے جارہے ہیں، ڈاکٹرز چیک کرنے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن انہیں کہیں سے بھی کوئی رہنمائی نہیں ملتی، میئر کراچی نے کہا کہ اسپتالوں کے درمیان کوآرڈینیشن قائم کرنے اور اسپتالوں میں گنجائش کی اطلاع دینے کے لیے ایک سینٹرل ہیلپ لائن کا قائم کرنا انتہائی ضروری ہے، میئر کراچی وسیم اختر نے کراچی میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور شہریوں سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ تمام تر احتیاطی اقدامات پر عمل کریں اگر کورونا وائرس سے بچنے کے حفاظتی اقدامات پر پورے طریقے سے عمل نہیں کیا گیا اور لوگوں کا رویہ یہی رہا تو کراچی میں بہت بڑی تعداد میں لوگ کورونا وائرس میں مبتلا ہوجائیں گے، میئر کراچی نے کہا کہ مارکیٹیں، شاپنگ مالزاور پبلک ٹرانسپورٹ کھلنے کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہوتی جارہی ہے اور پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز چین سے بھی بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتیجے میں زیادہ تر افرادکا ٹیسٹ مثبت آرہا ہے اس کے باوجود شہری احتیاط کا دامن تھامنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے حوالے سے تشویشناک صورتحال ہے اور لوگ اس وباء کو تمام تر ہلاکتوں کے باوجود سنجیدہ نہیں لے رہے۔