پیٹرول اور ڈیزل کا بحران،آئل کمپنیوں کے پاس صرف 3روز کا اسٹاک باقی

185

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ملک بھر کی آئل کمپنیوں کےپاس صرف 3روز کا اسٹاک رہ گیا ہے،چیئرمین آل پاکستان پیٹرولیم ریٹیلرز نے کہا ہے کہ اتوارتک صورتحال زیادہ خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

کراچی سمیت ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کا بحران شدت اختیار کرگیا،آئل کمپنیوں کےپاس صرف 3روز کا اسٹاک رہ گیا، آل پاکستان پیٹرولیم ریٹیلرز نے کہا ہے کہ پی ایس او کے علاوہ کوئی کمپنی تیل خریداری نہیں کررہی ہے۔

چیئرمین سمیرنجم الحسن کا کہنا تھا کہ مسلسل کوٹےمیں کمی ہورہی ہےنیاکوٹہ خریدا نہیں جارہا،اتوارتک صورتحال زیادہ خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے،آئل کمپنیاں پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کرتی ہیں تاہم پی ایس او پر پورے ملک کی ڈیمانڈ کا لوڈ بڑھ گیا ہے۔

پی ایس او نے ڈیمانڈ پوری کرنے کیلئے ہائی اوکٹین قیمت بھی کمی کردی ہے ، نئی قیمت 142 روپےجس کا اطلاق آج سے ہورہا ہے، پہلے ہائی اوکٹین کی قیمت 157 روپے لیٹر تھی۔

دوسری جانب سی سی پی نے ملک بھرمیں پٹرولیم مصنوعات کی قلت پرنوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کاآغاز کردیا ہے، ترجمان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی جارہی ہیں یہ قلت کسی غیرمسابقتی سرگرمی کانتیجہ تونہیں، ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت قیمتوں میں کمی کےوقت ہوئی ہے۔

ترجمان کے مطابق کورونا کی وجہ سےپٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں بھی کمی ہوئی،سپلائی محدود یا ذخیرے سے مصنوعی قلت پیدا کئے جانے کے خدشات ہیں، کچھ کمپنیوں کی بالادست پوزیشن کے غلط استعمال کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ انکوائری میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت میں ملوث اداروں کاتعین کیاجائےگا۔خیال رہے سی سی پی کوملک بھرسےقلت،عوامی تحفظات اورشکایات موصول ہوئی تھیں۔

یاد رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات سستی کے ہونے کے بعد مارکیٹنگ کمپنیوں نے گٹھ جوڑ کر کے پیٹرول ہی غائب کر دیا تھا جس کے بعد پیٹرول کا بحران پیدا ہو گیا،جس پر گزشتہ روز اوگرا نے نوٹس لیا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔