انسانی جسم کے 5 غیر ضروری اعضاء

676
ہر چیز کی طرح انسانی جسم بھی صدیوں پر محیط ارتقائی مراحل سے گزرا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اندر کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں جس کے نتیجے میں کئی اعضاء غیر ضروری ہوگئے اور انسان کو ان کی ضرورت نہ رہی۔ درجہ ذیل انہی اعضاء کے بارے میں آپ کو معلومات فراہم کی جارہی ہے۔

 

1) تتمہ (Appendix)

Appendix آپ کی بڑی آنت کے  ساتھ نچلے حصے سے منسلک ہوتا ہے جہاں چھوٹی آنت بڑی آنت سے ملتی ہے۔

تتمہ، جیسا کہ آپ کو اسکے محل و وقوع سے لگ رہا ہوگا کہ ہاضمے میں مدد دیتا ہوگا جبکہ ایسا ہرگ نہیں ہے۔ تتمہ ہاضمے میں کوئی مدد نہیں دیتا ہے بلکہ اگر اس میں کسی مرض کی وجہ سے کوئی زخم پڑجائے تو اس کو نکال ہی دیا جاتا ہے اور جسم کے اندرونی نطام پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Appendix  دراصل اُن جانوروں میں فعال ہوتا ہے جن کی غذا پیڑ پودوں یا گھانس پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ اُن کے ہاضمے میں مدد دیتا ہے۔

 

2) دُم نما ہڈی (Tailbone)

اگر آپ کو کبھی انسانی ڈھانچہ دیکھنے کا تجربہ ہوا ہو تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ انسان کی ریڑھ کی ہڈی کے سب سے نچلے حصے کی آخر ہڈی تکون کی شکل میں ہوتی ہے جسے انگریزی میں Coccyx کہا جاتا ہے۔

یہ دراصل حمل کے 5 سے 8 ہفتوں میں بچے کی دم کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں شامل ہوکر Coccyx بن جاتی ہے۔ دم کئی جانوروں میں توازن برقرار رکھنے کا کام کرتی ہے۔ چونکہ انسان کو اس کی ضرورت نہیں تو قدرت نے بھی اسے جسم کا حصہ نہیں بنایا۔

 

3) سرِ پستان (Nipples)

انسانی جسم کے غیر ضروری اعضاء میں مردوں کے نپلز بھی ہیں اور اس کی وجہ شائد آپ کو حیرت میں ڈال دے کیونکہ حمل جب ٹہھرتا ہے تو اول وقت میں رحم کی شروعات مادہ جنس سے ہی ہوتی ہے جسکے بعد ٹیسٹوسٹیرون ہارمون مداخلت کرکے اُسے نر جنس میں تبدیل کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے نر جنس بننے سے پہلے جو نپلز تشکیل پاتے ہیں وہ مرد کے جسم پر تاعمر رہتے ہیں۔

4) رونگٹھے کھڑے ہونا (Goose bumps)

رونگٹھے کھڑے ہونا صرف سردی لگنے کی علامت ہی نہیں بلکہ کئی جانوروں میں ان کا کام اپنے شکاری کو ڈرانا بھی ہوتا ہے۔ ایسے جانور جب خطرہ محسوس ہونے کی صورت میں اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں تو خوف ان کے عضلاتی فائبرز کو فعال کردیتا ہے جس کی وجہ سے ان کے بال سیدھے کھڑے ہوجاتے ہیں تاکہ یہ اپنے دشمن کو قدآور دکھائی دیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ہمارے  قدیم آباؤ اجداد کی نشانی ہے جن کے جسم پر بالوں کی مقدار زیادہ تھی ا ور یہ خطرناک جانوروں اور دیگر سخت حالات و موسموں میں اُن کیلئے اُس وقت فعال ہوتا تھا۔

5) عقل داڑھ (Wisdom teeth)

16 سے 21 سال کی عمر کے درمیان ہمارے منہ کے اندر سب سے پچھلی جانب کے آخری حصے میں 2 دانت اوپر نکلتے ہیں اور 2 دانت نیچے جنہیں ہم عقل داڑھ کہتے ہیں لیکن اکثر یہ نکل نہیں پاتے کیونکہ مکمل طریقے سے نکلنے کیلئے انہیں مناسب جگہ میسر نہیں ہوتی۔

سائسدانوں کی تحقیقات کے مطابق انسان کا قد وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹا ہوتا گیا جس کے نتیجے میں انسان کے جبڑے بھی چھوٹے ہوتے گئے۔ قدیم انسان چونکہ بڑے تھے تو عقل داڑھ کے نکلنے کیلئے مناسب جگہ موجود تھی۔

عقل داڑھ اکثر و بیشتر نکل نہیں پاتی اور جب نکلتی ہے تو شدید تکلیف کا باعث بنتی ہے۔  امریکی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ہر سال تقریباً 1 کروڑ افراد کی عقل داڑھ نکالی جاتی ہے۔