افکار سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ

150

غلط بات
غلط بات نہ اِس دلیل سے صحیح ہو سکتی ہے کہ وہ پہلے سے ہوتی چلی آ رہی ہے، اور نہ اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ بڑے بڑے لوگ اِس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
حق کا اِثبات اگر ہو سکتا ہے تو خدا کی کتاب اور رسولوں کی سْنت ہی سے ہو سکتا ہے۔
( تفہیمات)
٭…٭…٭
امت مسلمہ
خدا کی شریعت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بِنا پر اہلِ حدیث، حنفی، دیوبندی، بریلوی، شیعہ سْنّی وغیرہ الگ الگ اْمّتیں بن سکیں۔ یہ اْمّتیں جہالت کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ اللہ نے صرف ایک اْمّت ’’اْمّتِ مْسلمہ‘‘ بنائی تھی‘‘۔ (خطبات)
٭…٭…٭
بندگی کے طریقوں میں اختلاف
بندگی کے طریقوں میں اختلاف ہوجانے سے دین میں اختلاف نہیں ہوتا، بشرطیکہ آدمی جس طریقے پر عمل کرے نیک نیتی کے ساتھ یہ سمجھ کر عمل کرے کہ خدا اور اس کے رسول نے وہی طریقہ بتایا ہے، جس پر وہ عمل پیرا ہے، اور اس کے پاس اپنے اس طرز عمل کے لیے خدا کی کتاب یا اس کے رسولؐ کی سنت سے کوئی سند موجود ہو۔ (خطبات)
٭…٭…٭
اسلامی سزائیں
لوگ بڑا غضب کرتے ہیں کہ اسلام کے پروگرام کی ساری تفصیل چھوڑ کر اس کی سخت سزاؤں پر گفتگو شروع دیتے ہیں۔ اسلام پہلے عام لوگوں میں ایمان پیدا کرتا ہے۔ پھر عوام کے اخلاق کو پاکیزہ بناتا ہے پھر تمام تدابیر سے ایک ایسی مضبوط رائے عامہ تیارکرتا ہے جس میں بھلائیاں پھولیں پھلیں اور برائیاں پنپ نہ سکیں۔ پھر وہ ایسا معاشرتی اور سیاسی نظام قائم کرتا ہے جس میں بدی کرنا مشکل اور نیکی کرنا آسان ہوجائے۔ وہ ان تمام دروازوں کو بند کرتا ہے جس سے فواحش و جرائم نشوونما پاتے ہیں۔ اس کے بعد ڈنڈا وہ آخری چیز ہے جس سے ایک پاک معاشرے میں سر اٹھانے والی ناپاکی کا قلع قمع کیا جاتا ہے۔ اب اس سے بڑا ظالم اورکون ہوسکتا ہے جو ایسے برحق نظام کو بدنام کرنے کے لیے آخری چیزکو پہلی چیز قرار دیتا ہے اور بیچ کی سب چیزوں کو نگل جاتا ہے۔ (تصریحات)
٭…٭…٭
مصائب میں ایک مومن کا نقطۂ نظر
آفات اور مصائب اور آلام کا خواہ کیسا ہی ہجوم ہو، مومن کو اپنے ایمان اور اللہ کے ساتھ اپنے تعلق پر آنچ نہ آنے دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اِس دنیا میں ہم کو ہر طرح کے حالات میں ڈال کر آزماتا ہے۔ غم بھی آتے ہیں اور خوشیاں بھی آتی ہیں۔ مصیبتیں بھی پڑتی ہیں اور راحتیں بھی میسّر آتی ہیں۔ نقصان بھی ہوتے ہیں اور فائدے بھی پہنچتے ہیں۔ یہ سب آزمائشیں ہیں اور اِن سب سے ہم کو بخیریت گزرنا چاہیے۔
اِس سے بڑھ کر ہماری کوئی بدقسمتی نہیں ہو سکتی کہ ہم مصیبتوں کی آزمائش سے گزرتے ہوئے ایسے مْضطرب ہو جائیں کہ اپنا ایمان اور اعتقاد بھی خراب کر بیٹھیں۔ کیونکہ اس طرح تو ہم دنیا اور دین دونوں ہی کے ٹوٹے (خسارے) میں پڑ جائیں گے۔ (رسائل و مسائل چہارم)
٭…٭…٭
دین کو قائم کرنے کی جدوجہد
خدا کے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد کرتے ہوئے ہمیں اس فکر میں نہیں پڑنا چاہیے کہ جو طاقتیں اس راہ میں مزاحم ہیں اس کی رسی خدا نے کتنی کوتاہ رکھی ہے۔ ہمیں اپنا فرض صبر و حکمت کے ساتھ بہر صورت ادا کیے چلے جانا چاہیے۔ خواہ اس کے نتائج ہماری آنکھیں دیکھ سکیں یا نہ دیکھ سکیں۔(تصریحات)