وحی اور عقل

154

محی الدین غازی

وحی اللہ کی عظیم نعمت ہے، اور عقل بھی اللہ کی عظیم نعمت ہے، دونوں نعمتوں میں ایک بات مشترک ہے کہ جان بوجھ کر گمراہی کی جستجو کرنے والوں کو ان دونوں سے گمراہی ہاتھ آتی ہے، اور ہدایت تلاش کرنے والوں کو اگر وہ عقل کا استعمال کریں تو وحی سے ہدایت مل جاتی ہے۔ عقل اور وحی دونوں کا اصل مقصد تو ہدایت دینا ہی ہے، البتہ اس دار الامتحان میں اللہ کی یہ سنت بھی کارفرما رہتی ہے کہ جو لوگ خود ہدایت سے بیزار یا بے نیاز ہوں، اور ضلالت وگمراہی کو اپنا شیوہ بنالیں، انھیں نہ وحی سے کوئی فیض پہنچتا ہے، اور نہ عقل کا ہونا ان کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔
وحی اور عقل میں گہرا رشتہ ہے، وحی صحیح راستے اور صحیح منزل کا پتا دیتی ہے، عقل صحیح راستے اور صحیح منزل کی جستجو میں رہتی ہے، اور اسی وقت مطمئن ہوتی ہے، جب وہاں تک رسائی ہوجاتی ہے۔ عقل اور وحی کا ملن ہوتا ہے تو عقل کو لگتا ہے کہ گویا آنکھوں کے سامنے سے اندھیرا چھٹ گیا اور روشنی پھیل گئی۔
یہ درست ہے کہ عقل کے پاس غیب کا علم نہیں ہوتا ہے، غیب کی باتوں پر ایمان لانے کے لیے وحی کی ضرورت ہوتی ہے، اور اسی لیے خالق حکیم نے عقل سے نوازنے کے بعد وحی کے ذریعے ہدایت کا انتظام کیا۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ عقل کے پاس غیب کا علم تو نہیں ہوتا ہے، لیکن غیب کی طرف منسوب دعووں کو جانچنے کی صلاحیت اللہ تعالی نے ضرور دی ہے۔ توحید کا تعلق غیبیات سے ہے اور شرک کا تعلق بھی غیبیات سے جوڑا جاتا ہے، آخرت کے حساب کتاب کا تعلق بھی غیبیات سے ہے، اور آواگمن کا رشتہ بھی غیبیات سے جوڑا جاتا ہے۔ سچے نبی کے پاس غیب سے وحی آتی ہے، اور جھوٹا نبی بھی غیب سے وحی آنے کا دعوی کرتا ہے، غرض غیب کی طرف بہت سی مختلف اور متضاد باتیں منسوب کی جاتی ہیں، ایسے میں انسان کے پاس عقل ہی وہ واحد چیز ہے جو غیب سے منسوب مختلف باتوں میں صحیح اور غلط کا فیصلہ کرتی ہے۔
غرض وحی کو وحی ماننے کے لیے بھی انسانوں کے پاس واحد ذریعہ عقل ہے۔ یہی جھوٹے نبی اور سچے نبی میں فرق کرتی ہے، یہی انسانی کلام اور خدائی کلام میں امتیاز کرتی ہے، اور یہی اس فرق وامتیاز کے سلسلے میں اصول بتاتی ہے۔ وحی کی ظاہری دلالتوں کو سمجھنے اور وحی کے باطنی اسرار اور حکمتوں تک پہنچنے کا کام بھی عقل کرتی ہے۔
وحی اور عقل ہم آہنگ ہوتے ہیں
وحی اور عقل میں ٹکراؤ نہیں ہوسکتا ہے، اگر ٹکراؤ محسوس ہو تو سمجھا جائے کہ یا تو وحی کے فہم میں غلطی ہوئی ہے، یا عقل کے برتنے میں کوتاہی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ عقل کو برتنا اور وحی کو سمجھنا یہ دونوں انسانی عمل ہیں، اور انسانی عمل میں غلطی کا امکان بہرحال رہتا ہے، اور اس امکان کو کم سے کم کرنے لیے، ہر انسانی عمل کی طرح اس انسانی عمل کا بھی مسلسل جائزہ لیتے رہنا اور اسے بہتر سے بہترکرنے کی کوشش کرنا ناگزیر ہے۔ امام ابن تیمیہ کی یہ بات قابل توجہ ہے: ’’عقل صریح سے جو بات معلوم ہو وہ شریعت سے متعارض ہوجائے اس کا تو تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ حق یہ ہے کہ عقل صریح سے ثابت بات نقل صحیح سے ثابت بات سے ہرگز ہرگز نہیں ٹکرا سکتی ہے۔ میں نے اس پر غور کیا ان بحثوں میں جو لوگوں کے درمیان ہو ا کرتی ہیں، میں نے پایا کہ صحیح اور صریح نصوص کی خلاف وہ فاسد شکوک ہوا کرتے ہیں جن کا باطل ہونا عقل سے ہی معلوم ہوجاتا ہے، بلکہ عقل سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ بات جو ان شکوک کے خلاف ہے اور شریعت کے مطابق ہے وہی درست ہے۔ اس پر میں نے بڑے اصولی مسائل میں غور کیا ہے جیسے توحید، صفات، تقدیر، نبوت اور آخرت کے مسائل۔ اسی طرح میں نے پایا کہ عقل صریح سے جو معلوم ہوتا ہے اس سے کوئی منقول دلیل کبھی نہیں ٹکراتی ہے، بلکہ وہ منقول دلیل جسے اس کا مخالف سمجھا جاتا ہے، وہ کوئی موضوع حدیث ہوتی ہے یا کوئی ضعیف دلالت ہوتی ہے، وہ اتنی کمزور ہوتی ہے کہ اگر عقل صریح سے نہیں ٹکرائے تو بھی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے، چہ جائے کہ عقل صریح سے اس کا تعارض ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ رسول ایسی چیزوں کی خبر دیتے ہیں جو عقل کے نزدیک محال تو نہیں ہوتی ہیں پر حیران کن ضرور ہوتی ہیں۔ یعنی وہ ایسی چیزوں کی خبر نہیں دیتے ہیں جن کا نہیں ہونا عقل سے معلوم ہوتا ہو، بلکہ ایسی چیزوں کی خبر دیتے ہیں جن کا معلوم کرنا عقل کے بس سے باہر ہوتا ہے‘‘۔ درء تعارض العقل والنقل (1/147)
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عقل اور وحی میں ٹکراؤ کی صورت میں ہم وحی کو ترجیح دیں گے، تو ہم غیر محتاط بیان دیتے ہیں، کیوں کہ عقل اور وحی کا حقیقی ٹکراؤ وحی کی پوزیشن کم زور کرتا ہے، خواہ ہم ذاتی طور پر وحی کی صف میں کھڑے ہوجائیں اور اس کو ترجیح دے دیں۔ محتاط بیان یہ ہے کہ عقل اور وحی کے بظاہر ٹکراؤ کی صورت میں ہم جستجو جاری رکھیں گے، تا آنکہ ٹکراؤ دور ہوجائے۔کیوں کہ وہ ٹکراؤ ہماری کسی غلطی یا کوتاہی کی وجہ سے ہی نظر آتا ہے۔