جنگ احد میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہہ کی شہادت

148

ماہِ شوال 3ھ میں غزوہ احد پیش آیا۔ اس میں صحابہؓ کی تعداد سات سو اور دشمن تین ہزار تھے۔ آپؐ نے درّے پر پچاس تیراندازوں کو ذمے داری سونپی کہ وہ وہاں سے ہرگز نہ ہٹیں، جب تک انہیں دوسرا حکم نہ ملے۔ جنگ شروع ہوئی اور کفار کے بہادر جنگجو قتل ہوئے تو انہوں نے پسپائی اختیار کی۔ اس پر درّے والوں نے سوائے دو تین افراد کے اپنی جگہ چھوڑ دی۔ دشمن نے درّہ خالی دیکھا تو پہاڑ کے پیچھے سے گھوڑ سوار دستوں کے ذریعے حملہ کیا، جبکہ پیدل فوج بھی واپس پلٹ آئی۔ یوں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ میدان جنگ میں سیدنا حمزہؓ جس جانب نکلتے دشمنوں کی صفیں الٹ دیتے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں تلوار لیے محو پیکار تھے۔ ارطاء بن شرحبیل کو قتل کرنے کے بعد سباع بن عبدالعزیٰ غبشانی ان کے سامنے آیا۔ یہ شخص بڑا بہادر تھا اور ابونیار کی کنیت سے معروف تھا۔ سیدنا حمزہؓ نے اسے پکار کر کہا: ’’او ام انمار کے بیٹے! کہاں جاتا ہے؟ ادھر أ‘ ذرا دو دو ہاتھ کر لیں‘‘۔ یہ سن کر وہ بھی ہنکارتا ہوا آپ کی جانب بڑھا۔ دونوں بہادر بھی تھے اور جنگ کے رموز واسرار سے واقف بھی؛ چنانچہ دونوں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے۔ سیدنا حمزہؓ نے ایسا کاری وار کیا کہ ابونیار ڈھیر ہوگیا۔
جنگ بدر میں سیدنا حمزہؓ کے ہاتھوں قریش کے معزز گھرانوں کے بہت سے ذی وقار سردار موت کے گھاٹ اتر گئے تھے۔ مکہ سے چلتے ہوئے جبیر بن مطعم نے اپنے حبشی غلام وحشی بن حرب سے مخاطب ہو کر کہا: ’’’تم اگر جنگ میں حمزہ بن عبدالمطلب کو قتل کردو تو تمہیں آزاد کر دیا جائے گا‘‘۔ جبیر بن مطعم کا چچا طعیمہ بن عدی جنگ بدر میں حمزہؓ کے ہاتھوں قتل ہوا تھا۔ وحشی کو اس کے آقا کے علاوہ قریش کے بہت سے دیگر سرداروں نے بھی انعام کا لالچ دیا تھا۔ خاص طور پر سالار لشکر ابوسفیان کی بیوی ہندہ بنت عتبہ نے وحشی کو یہ کارنامہ سر انجام دینے کی ترغیب دلائی تھی۔ مکہ سے چلنے کے وقت سے لے کر حمزہؓ کی شہادت تک جب بھی ہندہ کو وحشی نظر آتا اس سے کہتی:’’اے وحشی! تو ہمارا سینہ ٹھنڈا کر ہم تیرا دل خوش کر دیں گے‘‘۔
وحشی‘ سیدنا حمزہؓ کے مقابلے پر آنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا، مگر اس کے پاس ایک ایسا فن تھا، جس پر اعتماد کرتے ہوئے اس نے حمزہؓ کو قتل کرنے کی ہامی بھر لی۔ وہ دور سے نشانہ باندھ کر اس مہارت سے نیزہ یا خنجر پھینکتا تھا کہ اس کا نشانہ کم ہی خطا ہوتا تھا۔ سیدنا حمزہؓ زرہ نہیں پہنتے تھے۔ سباع بن عبدالعزیٰ کو قتل کرنے کے بعد ان کا پاؤں پھسلا اور وہ گر گئے۔ اٹھنے لگے تو پتھر کی اوٹ سے وحشی نے نیزہ پھینکا جو ان کی ناف کے نیچے لگا اور جسم سے پار ہوگیا۔ انہوں نے اپنے قاتل کو دیکھ لیا، زخم کھا کر وہ لڑکھڑائے اور گر پڑے اس کے باوجود ہمت کر کے اٹھے اور اپنے قاتل کی طرف بڑھنا چاہا‘ مگر پھر گر گئے اور شہید ہوگئے۔ سیدنا حمزہؓ کی شہادت پر کفار نے بے پناہ خوشیاں منائیں۔ ہندہ نے سیدنا حمزہؓ کی لاش کا مُثلہ کیا، ناک اور کان کاٹ لیے، پیٹ چاک کر کے جگر اور کلیجہ نکال لیا۔ جگر کے ٹکڑے چبانا چاہے، مگر نگل نہ سکی۔ ناک کان اور دیگر اعضائے جسم کا ہار پرو کر گلے میں ڈال لیا۔ وہ خوشی سے جھوم اٹھی اور اس نے فی البدیہہ اشعار کہے :ہم نے تم سے یوم بدر کا بدلہ لے لیا ہے اور ایک جنگ کے بعد دوسری جنگ کے شعلے تو بھڑکتے ہی ہیں۔
مجھے اپنے باپ عتبہ کے قتل پر اور اپنے بھائی ولید اور چچا شیبہ اور بیٹے بکر (مراد ہے حنظلہ) کی جدائی پر صبر اور چین نہیں آتا تھا۔
آج میرا دل مطمئن ہوگیا ہے اور میں نے اپنی مانی ہوئی نذر پوری کرلی ہے۔ اے وحشی تو نے میرے سینے کا غم دور کر دیا ہے اور میرے دکھوں کا مداوا مہیا کر دیا ہے۔ وحشی کے احسان کا شکر ساری عمر کے لیے میرے اوپر واجب ہوگیا ہے‘ جو میں ہمیشہ ادا کرتی رہوں گی۔ یہاں تک کہ میری ہڈیاں قبر میں گل سڑ جائیں۔
ہندہ بنت عتبہ کے اشعار کا جواب اس کی ہم نام صحابیہ سیدہ ہندہ بنت اثاثہ بن عبادؓ نے دیا جن کا ذکر ابن ہشام نے اپنی تاریخ میں کیا ہے۔ ان اشعار میں سے پہلا شعر ہے: تو بدر میں بھی ذلیل و رسو ا ہوئی اور بدر کے بعد بھی ذلت ہی ذلت تیرا مقدر ہے۔ اے بہت غیبت کرنے والے بڑے کافر کی بیٹی! سیدنا حمزہؓ کی شہادت تاریخ انسانی کے ان واقعات میں سے ہے، جن کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس واقعے میں بغض اور کینے کی بدترین مثال اور سنگ دلی و شقاوت کا بدترین نمونہ نظر آتا ہے اور صبر و استقامت اور تقویٰ و عزیمت بھی پوری عظمت کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔
جنگ کے بعد جب آپؐ نے اپنے عظیم چچا کی لاش کے ٹکڑے میدان میں بکھرے ہوئے دیکھے تو آپؐ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ فرط ِغم سے آپؐ ایسے بے قرار ہوئے کہ تمام صحابہ بھی رونے لگے۔ آپ نے اپنے شہید چچا کی لاش سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’اللہ کی رحمت تمہارے اوپر سایہ فگن ہو‘ تم رشتے داروں کا بہت خیال رکھتے تھے اور ہر کار خیر میں سبقت لے جاتے تھے؛ اگر مجھے صفیہ کے غم و رنج کا خیال نہ ہوتا تو میں تمہارے جسم کے ٹکڑے یونہی میدان میں چھوڑ دیتا، تاکہ انہیں درندے اور پرندے کھا جائیں اور تم قیامت کے دن انہی کے پیٹ سے اٹھائے جاؤ۔ خدا کی قسم میں تمہارے بدلے میں کفار کے ستر آدمیوں کا مُثلہ کروں گا‘‘۔
آپؐ کے اس ارادے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو وحی کے ذریعے تذکیر کی گئی۔ ’’اور اگر تم سزا دو تو ویسی ہی سزا دو جیسی تمہیں اذیت پہنچائی گئی اور اگر تم صبر کرو تو بلاشبہ صبر کرنے والوں کے لیے صبر ہی اچھا ہے اور تم صبر کرو اور تمہارا صبر کرنا خاص اللہ ہی کی توفیق سے ہے‘‘۔ (سورہ النحل آیت 126) ابن کثیر اور امام القرطبیؒ نے اپنی تفسیروں میں ان آیات کے شان نزول میں یہی واقعہ بیان کیا ہے۔ اس حکم ربانی کے بعد آپ نے یہ ارادہ ترک کردیا اور قسم کا کفارہ ادا فرمایا۔ نا صرف یہ‘ بلکہ آپ نے مُثلے سے سختی کے ساتھ منع فرمادیا اور حکم ہوا کہ ’’مُثلہ ہرگز نہ کرنا؛ حتیٰ کہ پاگل کتے کا بھی‘‘۔
نبی اکرمؐ کا دل سخت غمگین تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے صبر کی تلقین بھی کی اور آپؐ کے زخم پر مرہم بھی رکھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے جبریل امینؑ نے خوشخبری سنائی ہے کہ حمزہ بن عبدالمطلب کو ساتوں آسمانوں پر (اور جنت الفردوس میں) اسد اللہ و اسد رسولہ لکھ دیا گیا ہے‘‘۔ سیدنا حمزہؓ کی بہن صفیہ بنت عبدالمطلب جنگ کی خبر سننے کے بعد مدینہ منورہ سے احد کی طرف روانہ ہوئیں۔ جب نبیؐ کو پتا چلا تو آپؐ نے سیدہ صفیہؓ کے بیٹے زبیرؓ کو حکم دیا کہ وہ انہیں میدان جنگ سے دور ہی روک لیں اور مدینہ واپس لے جائیں، کیونکہ اگر وہ اپنے بھائی کی مُثلہ شدہ لاش کو دیکھیں گی، تو صبر کا بندھن ٹوٹ جائے گا۔ جب ان کے بیٹے نے انہیں واپس جانے کے لیے کہا تو انہوں نے فرمایا: ’’میں اپنے بھائی کے بارے میں ساری خبر سن چکی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ یہ اللہ کی راہ میں دی گئی قربانی ہے۔ میں جاہلیت کے طور طریقوں سے متنفر ہوں۔ میں نہ بین کروں گی اور نہ گریبان پھاڑوں گی‘‘۔ چنانچہ آپؐ نے انہیں میدان میں آنے کی اجازت دے دی۔ جب عزیز بھائی کے جسم کے ٹکڑے بکھرے ہوئے دیکھے تو آنکھوں سے اشکوں کا سیل رواں جاری ہوگیا، مگر زبان سے انا للہ و انا الیہ راجعون کے الفاظ ہی بار بار نکلے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے التجا کی: ’’اے اللہ یہ قربانی تیری راہ میں دی گئی ہے، تو اسے قبول فرمالے‘‘۔ اس کے بعد صفیہؓ آپؐ کے حکم سے واپس مدینہ چلی گئیں۔
سیدنا حمزہؓ کے جسم کے ٹکڑوں کو جمع کیا گیا اور کفن پہنا کر جنازے کے لیے صفوں کے سامنے رکھ دیا گیا۔ صفیہؓ نے جاتے ہوئے زبیر کو دو چادریں دی تھیں اور فرمایا تھا: ’’اپنے ماموں کو ان میں دفنا دینا‘‘۔ زبیرؓ نے دیکھا کہ ایک انصاری صحابی شہید ہوگئے تھے، جن کے جسم پر معمولی کپڑے تھے۔ انہوں نے ایک چادر میں اپنے ماموں کو کفنا دیا اور دوسری چادر سے انصاری صحابی کو کفن پہنا دیا۔ ایک روایت کے مطابق؛ سب شہداء کا جنازہ ایک ساتھ ہی پڑھا گیا‘ جبکہ ایک دوسری روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ آپؐ نے سب سے پہلے سیدنا حمزہؓ کا جنازہ پڑھایا‘ پھر ہر شہید کو باری باری لایا جاتا اور حمزہؓ کے سامنے رکھ دیا جاتا اور ہر ایک کی نماز جنازہ آپؐ کی اقتدا میں پڑھی جاتی‘ اسی طرح حمزہؓ کا جنازہ ستر مرتبہ پڑھا گیا۔ صحابہ کو اجتماعی قبروںمیں دفن کیا گیا۔ سیدنا حمزہؓ کو ان کے بھانجے عبداللہ بن جحشؓ کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا گیا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ سیدنا مصعب بن عمیرؓ بھی ان کے ساتھ ہی دفن کیے گئے تھے۔ (البدایہ والنہایہ)