دانشوری کا زعم

349

=پرانے وقتوں میں نیکی کرکے دریا میں ڈال دیا کرتے تھے۔ فی زمانہ نیکی کرنے والے کو دریا برد کر دیا جاتا ہے گویا وقت بدلتا ہے تو آدمی کے قول و فعل میں بھی تبدیلی آجاتی ہے۔ کہا جاتا ہے سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اس لیے سیاست دان جو دل چاہے کرتے رہیں البتہ یہ بات طے شدہ ہے کہ سیاست کے سر میں دماغ نہیں ہوتا یہ ہر کام بے دماغی سے کرتے ہیں۔ کوئی ایسا منصوبہ نہیں بناتے جس میں دماغ کا عمل دخل ہو۔ ایسی کوئی کمیٹی یا منصوبہ نہیں لگاتے جو منطقی انجام تک نہ پہنچے۔ اس پس منظر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ سیاست کے سر میں دماغ نہیں ہوتا یہی وجہ سے کہ سیاست دان حزب اختلاف میں ہوں یا حزب اقتدار میں۔ ان کے قول و فعل میں بد دماغی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے ایوان اقتدار ہو، عدلیہ ہو یا انتظامیہ صرف تعلیمی اسناد کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایوان اقتدار میں جانے کے لیے خوشامد کا ہنر بہت ضروری ہے انتظامیہ کے لیے صاحب ثروت ہونا بہت ضروری ہے۔ عدلیہ میں جانے کے لیے قانون کو مذاق بنانے کا ہنر آتا ہو۔ بعض ستم ظریفوں کا کہنا حق بجانب لگتا ہے کہ وکلا کے لیے جھوٹ میں دسترس رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جو وکیل بے خوفی سے غلط بیانی کرتا ہے وہ معروف اور ممتاز وکیل سمجھا جاتا ہے کہنے والوں کا یہ کہنا بھی درست ہی لگتا ہے کہ ممتاز اور معروف جج وہی سمجھا جاتا ہے جو مقدمے کو ببل گم بنانے کا ماہر ہو۔ تاخیری حربوں کے لیے وکلا برداری مفت میں بدنام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں وکالت کا مرحلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ وکیل ترقی پا کر ہی جج بنتا ہے اسی لیے مقدمے لٹکانے کے بجائے اسے ببل گم بنانے میں مہارت رکھتا ہے۔ کوئی بھی وکیل پیشی در پیشی کھیلنے کے لیے ایک ہفتے یا ایک ماہ کے لیے مراقبے میں جانے کی سکت رکھتا ہے کیونکہ اس کا تاخیری حربہ جج کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔ مگر جج کا تاخیر ی حربہ قانون کے کان کھیچنے کے مترادف ہوتا ہے۔
سال ڈیڑھ سال پہلے کا واقعہ ہے بہاولپور کی ایک عدالت میں مدعا علیہ نے جج سے کہا تھا سر آپ کس حوالے سے زیر نظر مقدمے کی سماعت فرما رہے ہیں جج صاحب کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ شدید غصے کی حالت میں گویا ہوئے تم مجھے قانون سکھانے کی کوشش کررہے ہو کیا تم نہیں جانتے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ جانتا ہوں جناب والا! اچھی طرح جانتا ہوں، آپ مجھے گولی نہیں مار سکتے نا عمر قید سنا سکتے ہیں اور جہاں تک میرے سوال کا تعلق ہے یہ سو فی صد قانونی ہے کیونکہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن کا ارشاد گرامی ہے کہ ثبوت کے بغیر کسی مقدمے کی سماعت ایک شرمناک عمل ہے اور دنیا کی ہر عدالت اس کی مذمت کرتی ہے۔ آپ ایک ایسے مقدمے کی سماعت فرما رہے ہیں جسے محکمہ مال رجسٹری آفس اور سول کورٹ عدم ثبوت کی بنا پر خارج کرچکی ہے۔ آپ مسلسل دو سال سے مجھے عدالت کے دھکے کھانے پر مجبور کررہے ہیں، جج کا اولین فرض یہی ہے کہ وہ ناقابل سماعت
مقدمے کو پہلی ہی سماعت میں خارج کردے مگر آپ اس بے بنیاد مقدمے کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں جج صاحب نے کہا اپنے وکیل کو بلائو میں آج ہی کیس خارج کردوں گا۔ وکیل صاحب کو بلایا گیا تو فائل انتظار میں رکھ کر دو بجے تک وکیل صاحب کو بلانے کا حکم صادر فرمایا گیا اور جب وکیل صاحب حاضر ہوئے تو مقدمہ عدم پیروری کی بنیاد پر خارج کردیا گیا۔ مدعا علیہ نے کہا جناب والا یہ ظلم کی انتہا ہے، وکیل ہفتے دو ہفتے کی پیشی مانگتا ہے آپ نے تو ڈیڑھ دو سال کی لمبی پیشی صادر فرما دی میں یہ سمھجنے سے قاصر ہوں کہ آپ کس مذہبی کتاب کے حافظ ہیں۔ یہ سنتے ہی جج صاحب کا پارہ ہائی ہوگیا اس سے پہلے کہ جج صاحب کوئی حکم صادر فرماتے وکیل نے اپنے کلائنٹ کو پکڑا اور جج صاحب سے درخواست کی کہ میں ابھی اپنے کلائنٹ کو سمجھا کر لاتا ہوں اور اس کی جانب سے معذرت خواہ ہوں۔ مظلوموں کی باتوں پر توجہ دینے کی روایت پڑ گئی تو جیلیں کم پڑ جائیں گئیں۔ مظلوم اپنی مظلومیت کے اظہار کے لیے احتجاج کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ اس واقعہ کو لگ بھگ دو سال ہونے والے ہیں مگر مقدمہ ابھی تک بحالی کے مرحلے میں ہے اور کہا جارہا ہے کہ مقدمہ بحال کرنے کی اجازت دے دیں ہم مقدمہ بحال کرتے ہی خارج کردیں گے۔ مگر وکیل صاحب کا کہنا ہے کہ مقدمہ بحالی کے قابل ہی نہیں کیونکہ مالک مکان نے مکان فروخت ہی نہیں کیا ہے یہ کھلی جعلسازی ہے۔ ایک فراڈ مقدمے کو حق استقرار قرار دینا قانون کی توہین ہے۔