…مگر پاکستان کیا کر رہا ہے؟

337

پاک فوج کے ترجمان نے بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ آگ سے نہ کھیلے ، اس کی مہم جوئی کے نتائج اس کے کنٹرول میں نہیں ہوں گے ۔ اک ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران انہوں نے بھارت کو یاد دلایا کہ بھرپور طاقت سے جواب کا مظاہرہ گزشتہ برس دیکھ چکا ہے ۔ پاک فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ چین بھارت میں تین کلومیٹر اندر گھس چکا ہے جبکہ اسے نیپال کے معاملے پر بھی شرمندگی کا سامنا ہے ۔ بھارت کے یوں تو ہر پڑوسی ملک کے ساتھ ہی سرحدی تنازعات ہیں ، مگر پاکستان کے ساتھ معاملا ت اس لیے جدا ہیں کہ اس نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ پر بزور قوت قبضہ کررکھا ہے ۔ قیام پاکستان کے وقت یہاں کے عوام نے پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ دیا تھا جسے بھارتی قیادت نے بزور قوت دبا دیا ۔ اقوام متحدہ میں بھارت نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ اس نے کشمیر پر قبضہ کررکھا ہے اور اس نے وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے گا اور ان کی رائے کا احترام بھی کرے گا ۔ کشمیر کو قائد اعظم نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دینے کے بعد اس کی خصوصی حیثیت رکھی گئی تھی جس کے تحت کسی غیر کشمیری کو کشمیر کے دونوں طرف نہ تو جائیداد خریدنے کی اجازت ہے اور نہ ہی اسے وہاں پر سرکاری ملازمت دی جاسکتی ہے ۔ گزشتہ برس پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر و لداخ کی اس خصوصی حیثیت کا خاتمہ کردیا ۔ بعدازاں لداخ کو بھار ت میں ضم کرنے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کو مزید تقسیم بھی کردیا ۔ اب وہاں پر متنازع شہریت بل لاکر غیر کشمیریوں کو کشمیر کا ڈومیسائل بنا کر دیا جارہا ہے اور انہیں کشمیر میں جائیداد خریدنے کی نہ صرف اجازت دے دی گئی ہے بلکہ سرکاری زمینیں اونے پونے داموں بھارتی ہندوؤں کے حوالے بھی کی جارہی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ہزاروں بھارتی ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں سرکاری ملازمتیں بھی دے دی گئی ہیں ۔ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا بلکہ اس کی تیاری کئی برس سے جاری تھی ۔ اب تو پانچ اگست کو بھی گزرے گیارہ ماہ ہونے کو آگئے ہیں ۔ اس عرصے کے دوران پاکستان کی جانب سے بھارتی اقدامات کی روک تھام تو دور کی بات ہے ، زبانی جمع خرچ بھی نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارتی بنیے کے حوصلے بلند ہوتے چلے گئے ۔ کچھ سمجھ میںنہ آنے والی بات ہے کہ بھارت کو کس بات کا ڈراوا دیا جارہا ہے کہ وہ آگ سے نہ کھیلے۔ بھارتی قیادت بہت اچھی طرح سے آگاہ ہے کہ اس نے کشمیر کو بھارتی ریاست میں ضم کرنے کا جو قدم اٹھایا تھا ، اس کے جواب میں پاکستان کی طرف سے مزاحمت تو دور کی بات ہے ، عملی طور پر اس کی حمایت ہی کی گئی ۔ بھارتی عزائم پہلے دن سے واضح ہیں کہ اس نے پہلے قدم کے طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر و لداخ کو بھارتی ریاست میں ضم کیا اور اب اس کے ناپاک عزائم کا اگلا مرحلہ پاکستان کے ساتھ ملحقہ کشمیر ، گلگت و بلتستان پر قبضہ ہے ۔ اگر پاکستان پہلے ہی مرحلے میں بھارت کا بازو مروڑ چکا ہوتا تو آج پاکستان کو یوں بھارت کو گیدڑ بھبکیاں دینے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ پوری پاکستانی قیادت اسی پر شاداں ہے کہ چینی فوج لداخ میں بھارتیوںکو دور دھکیل چکی ہے مگر پاکستانی قیادت یہ سمجھنے پر راضی نہیں ہے کہ ہر قوم کو اپنے حصے کی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے ۔ چین نے جو کچھ کیا ، اس کے ذریعے اس نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کی ہے ۔ نیپال نے جو کچھ کیا ، اس کے ذریعے اس نے عالم اقوام کو بتادیا ہے کہ نیپال ایک چھوٹا ملک ضرور ہے مگر اس میں اپنے وطن کی حفاظت کا جذبہ اور ہمت موجود ہے ۔ پاکستان نے گزشتہ پانچ اگست کے بعد جو رویہ اختیار کیا ، اس کے ذریعے اس نے پوری دنیا کو بتادیاکہ پاکستان اپنی ایک ایک انچ زمین کے دفاع کی بات تو ضرور کرتا ہے مگر عملی طور پر یہ بھارت مخالف کچھ بھی نہیں کرے گا ۔ بھارت چاہے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرلے اور چاہے آزاد کشمیر کی طرف پیش قدمی کرلے ، پاکستانی قیادت کے منہ سے اُف بھی نہیں نکلے گی ۔ بھارت اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت کامیابی سے عمل پیرا ہے۔ پہلے بھی جنگ چھیڑنے کے لیے بھارت نے گنگا ٹریپ سے کام لیا تھا ، اب بھی وہ بمبئی دھماکے ، پلوامہ ون اور پلوامہ ٹو جیسے کئی منصوبے رکھتا ہے ۔