پاکستان اسٹیل بند کرنے کا فیصلہ!

333

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان اسٹیل کے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ وفاقی کابینہ کے منظور کردہ منصوبے کے تحت پاکستان اسٹیل کے 9 ہزار 350 ملازمین کو ایک ماہ کے اندر اندر ان کے واجبات دے کر فارغ کردیا جائے گا۔ یوں عمران خان نے ملک کے ایک سنہرے دور کا اختتام کردیا۔ عمران خان اور ان کے دست راست اسد عمر نے اقتدار میں آنے سے قبل اسی پاکستان اسٹیل میں کھڑے ہو کر محنت کشوں کو یقین دلایا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ پاکستان اسٹیل کو بحال کریں گے ۔ اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان جس طرح سے ڈاکٹر عافیہ کو امریکی قید سے چھڑا کر وطن واپس لانے کا وعدہ بھول گئے ، بالکل اسی طرح انہوں نے پاکستان اسٹیل کی بحالی کا وعدہ بھی فراموش کردیا ۔ پاکستان اسٹیل کو بحال کرنے کے اقدامات کے بجائے انہوں نے اس کی وزارت عبدالرزاق داؤد کے سپرد کردی جن کے اپنے کاروباری مفادات اس امر کے متقاضی تھے کہ پاکستان اسٹیل بند ہی رہے ۔ کسی بھی ادارے کی تباہی کا آسان سا نسخہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہاں پر نااہل اور کرپٹ انتظامیہ کا تقرر کردیا جائے ۔ بار بار توجہ دلانے کے باوجود عمران خان نے پاکستان اسٹیل میں مستقل چیف ایگزیکٹو آفیسر، چیف فنانشیل آفیسر سمیت سارے ہی سینئر عہدوں پر مستقل افراد کے تقرر سے جان بوجھ کر گریز کیا ۔ حتیٰ کہ اتنے اہم ادارے میں جنرل منیجر بھی قائم مقام ہی تھے ۔ پاکستان اسٹیل کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کا ایک بھی رکن نہ تو میٹلرجی یا اسٹیل انڈسٹری کا ماہر تھا اور نہ ہی اسے اسٹیل انڈسٹری کی ابجد سے کچھ واقفیت تھی ۔ ایسے میں امید کی کرن پاکستان اسٹیل کے اسٹیک ہولڈرز کا گروپ تھا جو بار بار قابل عمل تجاویز لے کر ایوان اقتدار کے چکر کاٹ رہا تھا ، جس کے تحت نہ صرف پاکستان اسٹیل کو بحال کیا جاسکتا تھا بلکہ اپنے ہی وسائل سے یہ اپنے سارے واجبات بھی ادا کرسکتا تھا ۔ حیرت انگیز طور پر عمران خان اور عبدالرزاق داؤد نے ملازمین کو بٹھا کر تنخواہیں دینے کا غلط فیصلہ کیا مگر ملز کی بحالی ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر سکی۔ پاکستان اسٹیل ملک کی معیشت کے لیے بلاشبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا جسے عمران خان کی حکومت نے شعوری طور پر توڑنے کی طرف پیش قدمی جاری رکھی ۔ تاریخ میں یہ بات ہمیشہ کے لیے درج ہوگئی ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو بھارتی قبضے میں جانے کے معاملے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا گیا تو ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے اسٹیل ملز میں جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ وہ ایک ناسور میں تبدیل ہوگیا ۔ پاکستان اسٹیل کو اب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں اسی طرح سے دے دیا جائے گا جس طرح سے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو دیا گیا ۔ کے ای ایس سی اب کے الیکٹرک میں تبدیل ہوچکی ہے اور اس میں اب بھی حکومت پاکستان کے حصص موجود ہیں مگر جس طرح سے کراچی کے عوام کو اندھا دھند لوٹا جارہا ہے ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کہیں پر بھی موجود نہیں ہے ۔ اتنا بڑا دارہ جسے قائم کرنا ہر ملک کا خواب ہوتا ہے ،وہ مفت میں ہی کسی چہیتے کے حوالے کردیا جائے گا اور یوں پاکستانی قوم کو معاشی غلامی میں دینے کا ایک مرحلہ اور مکمل ہوگیا ۔ سوال یہ ہے کہ یہ 9 ہزار 350 افراد بے روزگار ہو کر کہاں جائیں گے۔ گولڈن شیک ہینڈ کب تک کام آئے گا۔ اور ابھی تو بیرونی ممالک سے لاکھوں پاکستانی بے روزگار ہو کر واپس آرہے ہیں۔ انہیں کہاں کھپایا جائے گا اور کیا اب دیگر اداروں کی نج کاری ہوگی؟