چینی اسکینڈل میں ملوث ہر فرد کا احتساب ہونا چاہیے،سینیٹر سراج الحق

173

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق  کا کہنا ہےکہ چینی اسکینڈل میں ملوث ہر فرد کا احتساب ہونا چاہیے، ملک میں چینی، ادویات، گندم اسکینڈلز کی گویا سیریز چل رہی ہے۔

منصورہ میں ہونے والے مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ چینی اسکینڈل میں بینی فشریز کے ساتھ ساتھ منصوبہ سازوں کو بھی شامل کیا جائے، عوام کا خون نچوڑنے والے کسی رعائت کے مستحق نہیں، آئندہ بجٹ دفاع کے بعد افراد پر خرچ کیا جائے،فوڈ اور ہیلتھ سیکورٹی کے بعد تعلیم اور زراعت کو ترجیح دی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے لاکھوں چھوٹے بڑے ادارے بند ہوگئے ہیں جس سے ایک کروڑ 70لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ہے،حکومت ایمرجنسی بنیادوں پر ان داروں کی بحالی کی طرف توجہ دے۔

سینیٹر سراج الحق نے مزید کہاکہ کورونا سے نجات تک جماعت اسلامی کی رجو ع اللہ اور توبہ و استغفار کی مہم جاری رہے گی۔کرپشن،سود،ملاوٹ،مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہماری مہم کے اہم اہداف ہیں۔پٹرول کی عدم دستیابی سے عوام کو قیمتوں میں کمی کا فائدہ نہیں مل رہا۔

    سینیٹر سراج الحق  کا مزید کہنا تھا کہ عوام کا خون نچوڑنے والوں کے ساتھ ساتھ اس کی اجازت دینے والوں کو بھی کٹہرے میں لایا جائے،جب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جارہا تھا کیا حکمران سوئے ہوئے تھے،حکومت نے کس بنیاد پر اربوں کمانے والوں کو سبسڈی دی اور لٹیروں کے لیے قومی خزانے کے منہ کھول دئیے، چور اور چوکیدار ملے ہوئے ہیں ایسا نہیں ہوسکتا کہ چور کو پکڑا اور چوکیدار کو چھوڑ دیا جائے۔

    سینیٹر سراج الحق نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ میں حکو مت اپنے سیروتفریح اور غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پائے،کورونا وبا کی وجہ سے بجٹ خسارہ پہلے ہی ناقابل برداشت ہوچکا ہے،اس لیے دفاع کے بعد ترجیحات کا تعین کیا جائے اور خوراک،علاج تعلیم اور زراعت کو ترجیح اول میں رکھا جائے۔

انہوں نے مزید  کہا کہ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ناممکن ہوگیا ہے،غریب اور دیہاڑی دار مزدوروں کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت ہے،حکومت کا فرض ہے لوگوں کو بھوک کے ہاتھوں مرنے سے بچانے کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائے۔ سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی ناکامیوں کا سلسلہ ہے ان میں کوئی فرق نہیں۔

     سینیٹر سراج الحق  کا مزید کہنا تھا کہ حکمرانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کورونا سمیت قدرتی وباؤ ں اور آزمائشوں سے اجتماعی توبہ و استغفار اوررجوع الی اللہ ہی سے بچا جاسکتا ہے،کورونا کی مہلک بیماری کے باوجود ملک میں کرپشن سود اور ملاوٹ جیسی بیماریاں عام ہیں،جن کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری کی وباء مسلسل پھیل رہی ہے۔