“بغیر علامات کورونا ٹیسٹ نہیں احتیاط ناگزیر ہے “

439

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) کورونا وائرس دیگر امراض کی طرح ایک بیماری  مگر یہ کوئی ایسا مرض نہیں ہے جس سے موت یقینی ہو ، اسے خوف کی علامت بھی نہیں سمجھنا چاہیے اور بغیر علامات کے اس کا ٹیسٹ بھی نہیں کرانا چاہیے ۔ اس بات کا اظہار ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے شعبہ مالیکیولر پتھالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعید خان نے ” جسارت ” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست ہے کہ کورونا ٹیسٹس کے رزلٹ سو فیصد درست نہیں آتے ، منفی یا مثبت دونوں غلط ہوسکتے ہیں ، اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں ، کٹس کا مستند نہ ہونا بھی ایک وجہ ہے جبکہ ٹیسٹ لینے والے لیب ٹیکنشن کا تجربہ کار نہ ہونا  اور ٹیسٹ کے لیے ناک اور گلے سے حاصل کیے جانے والے مادہ کی مقدار بھی ضرورت کے مطابق نہ ہونا بھی ہے۔

ڈاکٹر پروفیسر سعید خان کا کہنا تھا کہ سب سے بات یہ ہے کہ ” کوئی بھی شخص کوروناوائرس ٹیسٹ کیوں کروا رہا ہے ؟ اگر کسی بھی شخص کو وہ واضح علامات ظاہر نہیں ہورہی ہیں تو اسے بلاوجہ یا شک کی بنیاد یہ ٹیسٹ نہیں کرانا چاہیے کیونکہ کچھ لیبارٹریز کی کٹس کے حوالے سے شکایات ہیں جبکہ لیبارٹریز اور اسپتالوں میں رش بھی ہے جس کہ وجہ سے وائرس کی منتقلی کے خدشات بڑھ جاتے ہیں ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال اور آغا خان اسپتال میں  روش کمپنی کی حکومت سے منظور شدہ  کٹس ٹیسٹ اور مشینیں استعمال کی جارہی ہے ۔

انہوں نے بتایا ہے علامات جن میں تیز بخار ، سانس کا رکنا یا سانس لینے میں تکلیف ، بدن میں درد اور سونگھنے کی صلاحیت ختم ہوجائے تو صرف احتیاط کرنی چاہیے جیسے کسی بھی وباء  سے بچنے کے لیے کی جاتی ہیں ، ٹیسٹ اگر پازیٹیو بھی آجائے تب بھی پریشان ہوئے بغیر اپنے اپ کو آئیسولیشن میں کرلیا جائے تاکہ دوسرے اس وائرس سے محفوظ رہ سکیں ۔

آئسولیشن کے دوران تین دن کے دوران بخار ہوسکتا ہے تو پیناڈول وغیرہ لی جاسکتی ہے بخار اور دیگر علامت  کی شدت  میں اضافہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ وائرس موجود پے اس لیے سب کو احتیاط کے طور پر ماسک پہنے رکھنا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمہیں احتیاط بھی صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے کرنی چاہیے کیونکہ جس کی قوت مدافعت اچھی ہوگی اسے اس وائرس سے کچھ بھی نہیں ہوگا لیکن جس کی  یہ قوت کمزور ہوگی وائرس اس تک منتقل ہوکر اسے نقصان پہنچاسکتا ہے ، اس کی جان بھی لے سکتا ہے ۔ اس لیے یہ بات کہی جاتی ہے کہ زائد عمر کے افراد اور  بچوں کو بہت احتیاط کرنا ضروری ہے۔

ماہر مالیکیولر پتھالوجی ڈاکٹر سعید خان کا کہنا تھا کہ ” صرف بخار نزلہ یا کھانسی کورونا کی علامت نہیں ہے اس سے پریشان مت ہونا چاہیے یہ پہلے بھی ہوا کرتے تھے اور لوگ پہلے بھی احتیاط کیا کرتے تھے اس لیے احتیاط ضروری ہے ” ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ پہلے سے مختلف امراض ، خصوصا دل ، پھپھڑوں وغیرہ کے مریضوں کا قوت مدافعت کا نظام کمزور ہوجاتا ہے اس لیے ان کو یہ وائرس زیادہ تیزی سے نقصان پہنچا سکتا ہے ” ۔

ڈاکٹر پروفیسر سعید خان کا کہنا تھا کہ ” دنیا بھر میں کورونا وائرس ٹیسٹ کے دس فیصد نتائج غلط ارہے ہیں لیکن ہمیں مجموعی طور اسے درست ہی سمجھنا چاہیے ۔#