مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے ظلم کی انتہا کردی،مزید 3 نوجوان شہید

44

سری نگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع پلوامہ میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہیدکر دےے۔ ان تازہ شہادتوں کے نتیجے میں پیر کے روز سے شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر 18ہوگئی‘ کشمیری نظر بند رہنما اور کارکنان جیلوں میں طبی و دیگر سہولیات سے بدستور محروم ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوج نے تینوں کو ضلع کے علاقے کنگن میں محاصرے اور گھر گھر تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا‘ قابض انتظامیہ نے ضلع میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔ جموں و کشمیر پیپلز لیگنے ایک بیان میں شہید نوجوانوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نوجوان آزاد ی کے ایک مقدس مقصد کی خاطر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ بھارتی پیرا ملٹری اہلکاروں نے معروف ماہر وبائی امراض ڈاکٹر مظفر احمد کو ضلع بڈگام کے علاقے چاڈورہ میں بے رحمی سے مارا پیٹا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ پولیس نے انہیں ایک ناکے پر روک کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ دریں اثنا مقبوضہ کشمیر میں 30 سے زاےد تجارتی تنظیموں کے رہنماﺅں نے سری نگر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے کاروباری برادری کی حالت بہت خراب ہے۔ بھارتی فضائیہ نے جنوبی کشمیرمیں ضلع اسلام آباد کے علاقے بیج بہار ہ میں سری نگر جموں شاہراہ سے متصل 3 کلومیٹر لمبے ہنگامی رن وے کی تعمیر شروع کردی ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے تمام بنیادی حقوق سلب کرنے کے بعد مودی حکومت نے اب کشمیری طلبہ کو تعلیم کے حق سے بھی محروم کرنا شروع کردیا ہے۔ تازہ ترین اقدام میں آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن نے ایک ایڈوائزری میں مقبوضہ علاقے کے طلبہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے تکنیکی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کریں۔ حریت آزاد کشمیر شاخ کے رہنماﺅں محمد فاروق رحمانی، عبدالمجید ملک، زاہد اشرف اور سید اعجاز رحمانی نے اپنے بیانات میں مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔