بلدیہ : من پسند افسران کا راج ، متعدد پوسٹنگ نہ ہونے پر مایوس ہوکر چھٹیوں پر چلے گئے

47

کراچی(رپورٹ : محمد انور ) بلدیہ عظمیٰ کراچی میں مختلف ڈپارٹمنٹس کے سربراہوں کو ہٹاکر من پسند اور جونیئر افسران کو دہرے چارج دینے کا سلسلہ عروج پر پہنچانے والے سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم کی معطلی کے باوجود تاحال انتظامی امور کی اصلاح نہیں ہوسکی ہے ، جس کی وجہ سے ایک درجن سے زاید قابل اور اہل افسران بغیر تعیناتی کے تنخواہیں لینے پر مجبور اور دہری و تہری اسامیوں پر من پسند افسران ہنوز تعینات ہیں۔ گزشتہ روز سٹی انسٹیٹیوٹ آف امیج مینجمنٹ ( سی آئی ایم ایم ) کے ڈائریکٹر کو بھی عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کرکے ان کی جگہ محکمہ ایڈمنسٹریشن کے جونیئر افسر کو تعینات کردیا گیا ہے۔ سی آئی ایم ایم کے ڈائریکٹر محمد شاہد کو واٹس ایپ گروپ چلانے کے الزام میں عہدے سے ہٹایا گیا ہے حالانکہ وہ کے ایم سی کے اپنے آفیسرز ویلفیئر ایسوسی کے سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے مذکورہ گروپ کے ایڈمن تھے۔ محمد شاہد کا کہنا ہے کہ وہ ایسوسی ایشن کے صدر و معطل سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم کی ہدایت پر ہی یہ گروپ چلایا کرتے تھے۔ محمد شاہد کے تبادلے کے بعد کے ایم سی میں آو¿ٹ آف پوسٹنگ رہنے والے افسران میں مزید ایک کا اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ اضافہ سینئر ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز مینجمنٹ کی طرف سے پیر کی شب جاری کیے جانے والے ایک حکم کے تحت محکمہ سی آئی ایم ایم کے ڈائریکٹر محمد شاہد کو مبینہ طور پر ذاتی رنجش کی بناءپر ہٹانے سے ہوا ہے۔ محمد شاہد کی جگہ محکمہ ایچ آر ایم کے ڈائریکٹر سروسز محمد اسماعیل کو مقرر کردیا گیا۔ حکم نامے کے مطابق محمد اسماعیل ڈائریکٹر سروسز کا عہدہ بھی اپنے پاس بطور اضافی چارج رکھیں گے۔ کے ایم سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کو حکومت نے قائم مقام سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم جمیل فاروقی دراصل سینئر ڈائریکٹر ویٹرنری سروسز ہیں اور گزشتہ 2برس ڈائریکٹر ایچ آر ایم کی حیثیت سے اضافی ذمے داریاں انجام دے رہے تھے معطل کرکے انہیں محکمہ لوکل گورنمنٹ بورڈ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کے مطابق کے ایم سی ملک کا وہ واحد ادارہ بن گیا ہے جہاں ان دنوں گریڈ 19 اور 18 کے تمام چہیتے افسران2اور3عہدے سنبھالے ہوئے ہیں۔ان میں سینئرڈائریکٹر ہیومن ریسورسز مینجمنٹ جمیل فاروقی سرفہرست تھے جن کے پاس سینئر ڈائریکٹر ویٹرنری اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ویٹرنری کے ساتھ چیف فائر آفیسر کی بھی اضافی ذمے داریاں تھیں۔ ان کی معطلی کے بعد یکمشت4 اسامیاں خالی ہوگئی ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کی ویب سائٹ کے مطابق سینئر ڈائریکٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی مسعود عالم ، سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن کی اسامی کے مزے بھی لے رہے ہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سے ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر خدمات انجام دینے والے نعمان ارشد بھی سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز کے ساتھ ڈائریکٹر سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کی اضافی پوسٹ پر بھی متعین ہیں۔ سینئر ڈائریکٹر اسٹور فرید تاجک ، سینئر ڈائریکٹر کچی آبادی اور ڈائریکٹر وہیکل اور ڈائریکٹر کوآرڈینشن کی پوسٹ پر بھی کام کررہے ہیں۔ ڈائریکٹر لینڈ شیخ کمال اپنے پاس ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ کا بھی اضافی عہدہ رکھتے ہیں۔عبدالرحیم ڈائریکٹر ایم پی ایچ کے ساتھ پروٹوکول افسر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیںجبکہ سینئر ڈائریکٹر اکاﺅنٹس اینڈ فنانس ریاض کھتری کو ان کی محنت اور صلاحیتوں کے عوض فنانشل ایڈوائزر کی اضافی ذمے داری بھی دی ہوئی ہے۔ سینئر ڈائریکٹر اکاﺅنٹس عمران احمد میئر کے ڈائریکٹر کوآرڈینیشن کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسپنسر آئی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈینٹ ڈاکٹر بیربل گنانی کو سینئر ڈائریکٹر میڈیکل سروسز کی اضافی ذمے داریاں تفویض کی گئی ہےں جبکہ اس عہدے پر تعینات ڈاکٹر سلمی کوثر کو ڈائریکٹر ایچ ار ایم کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری طرف متعدد باصلاحیت اور تجربہ افسران کو بغیر پوسٹنگ کے بٹھادیا گیا ہے۔ ان میں صباح الاسلام، ڈاکٹر ایس ایم فاروق ، مختار حسین ، شارق الیاس ، منصور قاضی ، احسن مرزا ، راشد نظام اور اصغر درانی و دیگر شامل ہیں۔ پوسٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے متعدد افسران چھٹیاں لے چکے ہیں۔ میئر کی عدم توجہ اور صرف اپنے چہیتے افسران کو اہمیت دینے کی وجہ سے کے ایم سی کی مجموعی صورتحال انتہائی ناگفتہ بے جبکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت سندھ اس صورتحال پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔