جوبائیڈن کو 8 ریاستوں اور واشنگٹن میں کامیابی

70

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں رواں برس نومبر میں ہونے والے وسط مدتی صدارتی انتخابات سے قبل ڈیمو کریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات کے لیے 8 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ووٹ ڈالے گئے جس میں سابق نائب صدر اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ریاست اڈاہو، انڈیانا، میری لینڈ، مونٹانا، نیو میکسیکو، پنسلوانیا، ریوڈز آئی لینڈ اور جنوبی ڈکوٹا میں رائے شماری سے قبل ووٹرز کے لیے کورونا وائرس کے تناظر میں ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ کرفیو کے ضوابط، وبا سے بچنے کی رہنما ہدایات اور ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت کو پیش نظر رکھیں۔ ماہرین کے مطابق ریاست پنسلوانیا ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے لیے فیصلہ کن مقام ہے، جہاں دونوں جماعتیں اپنی سیاسی برتری حاصل کرنے کے لیے تگ و دو میں مصروف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کے لیے مزید کامیابیاں سمیٹنا زیادہ مشکل نہیں کیوں کہ ان کے زیادہ تر حریف مقابلے سے نہ صرف دستبردار بلکہ ان کی حمایت بھی کر چکے ہیں۔ گزشتہ روز ہونے والی رائے شماری کے نتائج آنے کے بعد جو بائیڈن صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے سامنے مضبوط امیدوار کی حیثیت سے سامنے آ چکے ہیں۔ امریکا میں سیاہ فام شہری کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد حالات شدید کشیدہ ہیں، جس کی وجہ سے حکام نے اعلان کیا تھا کہ کرفیو میں ووٹ ڈالنے والوں کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس اور نسلی فسادات پھیلنے کے بعد امریکا میں سیاسی مہم کا رخ بالکل تبدیل ہوکر رہ گیا ہے اور دونوں جماعتوں نے انتخابات میں کامیابی کے لیے اپنے نعروں اور آیندہ کی حکمت عملی کی ترجیحات میں بھی تبدیلی کی ہے۔