مئی 2020 میں سیمنٹ انڈسٹری کی مقامی کھپت37.63 فیصد کمی کا شکار رہی

61

کراچی(اسٹاف رپورٹر) عمران خان حکومت کی طرف سے اعلان کردہ کنسٹرکشن پیکیج سے سیمنٹ انڈسٹری کو اب تک کوئی سہارا نہیں ملا اور مئی میں 2020ءمیں سیمنٹ کی مقامی کھپت میں 37.63 فیصد کمی واقع ہوئی اور اس کی فروخت 2.27 ملین ٹن رہ گئی جو گزشتہ سال مئی 2019ءمیں 3.64 ملین ٹن تھی۔ اس طرح رواں مالی سال میں تیسری بار مسلسل ماہانہ کھپت دوہرے ہندسے میںکمی کا شکار ہوئی ہے۔اسی طرح برآمدات میں بھی 24.81 فیصد کمی واقع ہوئی اور جو گزشتہ سال کی کھپت 0.483 ملین ٹن، مئی 2019ءسے کم ہو کر 0.363 ملین ٹن مئی 2020ءمیں رہ گئی ہے۔آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے)کے مطابق کھپت میں کمی صرف covid-19 وباءکے باعث نہیں ہے بلکہ عوامی ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر بھی اس کا سبب ہے ۔غیر ہنر مند افراد کو روزگار فراہم کرنے کے لیے تعمیراتی شعبہ سب سے زیادہ بڑا شعبہ ہے۔ مقامی سیمنٹ کی کھپت میں کمی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں انتہائی محدود پیمانے پر ہورہی ہیں جس کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس بات ادراک کرے۔ مینوفیکچررز کی مقامی فروخت اور برآمدات 2.63 ملین ٹن مئی 2020ءریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ سال اسی مدت کے لیے 4.12 ملین ٹن تھیں اس طرح اس میں 36.12 ملین ٹن کمی واقع ہوئی۔Covid-19 وبائی اثرات اور عید کی چھٹیوں کی وجہ سے بھی تعمیراتی سرگرمیاں ماند رہی ہیں۔ملک کے شمالی حصے میں مقامی کھپت 2.001 ملین ٹن رہی جو گزشتہ سال مئی 2019ءمیں 3.05 ملین ٹن تھی۔ ملک کے جنوبی حصے کی کھپت کم ہوکر 0.269 ملین ٹن رہ گئی جو گزشتہ سال مئی 2019ءمیں 0.589 ملین ٹن تھی۔ اسی طرح برآمدات بھی کم ہو کر شمالی حصے میں کم ہو کر 7520 ٹن رہ گئیں جو گزشتہ سال مئی میں 0.164 ملین ٹن تھیں۔ سیمنٹ برآمدات کے مرکز ملک کے جنوبی حصے میں برآمدات میں معمولی اضافہ ہوا جہاں گزشتہ سال مئی 2019ءکی برآمدات 0.319 ملین ٹن تھیں ۔