سیاہ فام امریکی کی موت یا سرمایہ دارانہ نظام کی موت؟

438

امریکا میں 26 مئی 2020 کو ایک پولیس آفیسر کے ہاتھوں ایک سیاہ فام امریکی کی ہلاکت پر شدید ہنگامے پھوٹ پڑے جو امریکی سرحدوں سے باہر نکل کر برطانیہ فرانس اور جرمنی تک پہنچ گئے حالت یہ ہوگئی کہ اس کالے کے ’’غم‘‘ میں گورے فٹبالر بھی جرمنی میں ہونے والے کورونا کے بعد منعقدہ پہلے ٹورنامنٹ کے کالے گورے کھلاڑی بھی غم سے نڈھال ہوگئے۔ امریکی صدر نے اس ہنگامہ آرائی کا ذمے دار بائیں بازو کی ایک تنظیم انٹیفا کو قرار دے دیا اور اطلاعات کے مطابق اس پر پابندیاں بھی لگا دی گئیں کیا کوئی امریکی تنظیم وہ بھی غیر معروف اور بائیں بازو کی اتنی موثر مستحکم منظم اور طاقتور ہو سکتی ہے کہ چند دنوں ہی میں پورے امریکا کی اینٹ سے اینٹ بجا دے اور باہر نکل کر برطانیہ فرانس اور جرمنی کو ناکوں چنے چبوا دے ہماری رائے میں دنیا کے کسی بھی ملک میں بائیں بازو کی کوئی تنظیم خواہ کتنی ہی طاقتور ہو با اثر ہو وہ ملکی سرحدوں کو پار کرکے کو کام کر نہیں سکتی لیکن یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے کہ ایک کالے کے قتل پر اس قدر واویلا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ امریکا جو جرائم کی ماں مانا جاتا ہے نیویارک کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں عام آدمی کا داخلہ ممکن نہیں اور جہاں پولیس والا بھی اپنی کار کو اندر سے لاک کر کے گاڑی چلاتا ہے جہاں سیکڑوں قتل روز ہوجاتے ہیں لاکھوں انسان روڈ پر لوٹ لیے جاتے ہیں کوئی امریکی کسی دکان پر کھڑا ہو اور اس کو جیب سے 100 ڈالر کا نوٹ نکالنا ہوتو پہلے وہ آگے پیچھے دیکھ کر اطمینان کر لیتا ہے کہ یہاں کوئی کالا یا لٹیرا نہیں ہے پھر وہ 100 ڈالر کا نوٹ نکال کر دکاندار کو دیتا ہے ایسے جرائم زدہ ملک میں ایک کالے کی موت کیا وقعت رکھتی ہے۔
زندگی کی قیمت سب کی برابر ہے کالا ہو یا گورا امریکی ہو یا افریقی یہی تو اسلام نے انسانیت کو درس دیا ہے کہ دنیا میں امن چین اور سکون سے رہنا ہے تو اس بنیادی اصول کو اپنانا ہوگا ورنہ ہر ایک دوسری نسل کی تباہی کے درپے ہو جائے گا، اس طرح دنیا کے کسی بھی حصے میں امن قائم کرنا دیوانے کا خواب ہی ثابت ہوگا۔ بہرحال امریکا اور یورپ کے عوام کیا واقعی اس کالے کے خون کا بدلہ لینے کے لیے نکلے ہوئے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے امریکی شہروں کے درو دیوار پر ایک جملہ دیکھنے میں آیا Corona is a virus … Capitalism is a Pandemic کورونا ایک وائرس ہے جبکہ سرمایہ دارانہ نظام ایک وبا ہے۔ جو لوگ امریکا اور یورپ کے گن گاتے نہیں تھکتے ان کو اندازہ نہیں ہے کہ امریکی عوام کس کرب سے گزر رہے ہیں سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کی زندگی کو کس طرح جکڑ رکھا ہے بلکہ انسانوں کو کس بری طرح جکڑ رکھا ہے سرمایہ دارانہ نظام کے سرخیلوں کے پیش نظر ایک ہی نظریہ کارفرما نظر آتا ہے ’’جو کام کرے گا وہی کھائے گا‘‘ بنظر غائر تو اس جملے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی مگر اس کے دور رس منفی اثرات نے امریکا کے معاشرے میں خونی رشتوں اور ہر قسم کی تعلق داری کو ختم کردیا ہے ہر ایک بھرے معاشرے میں خود کو تنہا محسوس کرتا ہے اور اپنے ہی لیے کمانے کی فکر میں سرگرداں نظر آتا ہے کیونکہ معیشت آزاد ہے اس لیے چند ساہوکاروں نے معیشت کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیا ہے اور ان کا پیسہ اربوں اور کھربوں تک پہنچ گیا مگر ایک عام مزدور Hire and Fire کی زد میں ہے اور یہی تلوار ہے جو اس کے سر پر لٹکا دی گئی ہے انسان کا اپنا وجود خود اس پر ہی بھاری پڑ چکا ہے تو وہ اپنے والدین چھوٹے بہن بھائیوں قریبی رشتہ داروں ہمسایوں دوستوں کا کس طرح خیال رکھ سکتا ہے جبکہ ان ہی رشتوں اور تعلق داریوں سے کوئی معاشرہ جنم لیتا ہے اور ان کے درمیان قدرتی اور فطری رشتے مضبوط ہوں تو وہ معاشرے ہی امن کا گہوارہ ہوتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک غیر معروف تنظیم میں اتنی طاقت کہاں سے آ گئی کہ پورے امریکا میں کورونا کے سخت ترین لاک ڈائون کو توڑ دے اور حکومتی احکامات کو اپنے قدموں تلے روند دے۔ دراصل ایک سیاہ فام کی موت نے لوگوں کے اندر ابلتے جذبات اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف سینوں میں جلتی ہوئی آگ اسی بہانے بھڑک اٹھی کیونکہ امریکا اور یورپی عوام سمجھ چکے ہیں کہ ان کو سرمایہ داروں اور ساہوکاروں کی ہوس دولت کی چکی میں پیسا جا رہا ہے اور وہ دو ٹانگ کے جانور سمجھے جا رہے ہیں جو صرف ان دولت مندوں کے نزدیک دو ٹانگ کے جانور سے زیادہ کی حیثیت نہیں اسی لیے ان کو بھڑاس نکالنے کے لیے کسی Issue کی ضرورت تھی جو ان کو خود ایک حکومتی اہل کار نے فراہم کردی۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ معاملہ اب رکنے والا نہیں چاہے کرفیو لگادیا جائے لیکن سینوں میں بھڑکتی آگ کو ٹھنڈا کرنا کسی کے بس کی بات نہیں جب تک کہ عوام کو خاطر خواہ ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا اس آگ پر جلتی کے تیل کا کام بل گیٹس کے مجرمانہ عزائم جو اب دنیا کے سامنے آ چکے ہیں اور امریکی اس معاملے میں بہت حساس واقع ہوئے ہیں کہ وہ دنیا کی آبادی ایک تہائی کم کرنے کی سازش کر رہا ہے اور یہ کہ ہر انسان کی انفرادی زندگی کو چلتے پھرتے قید کرنے کے لیے جسم میں چپس لگانے کے لیے سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس طرح دنیا کا ہر انسان ان کی رینج میں ہوگا اور پوری دنیا کھلی جیل کا منظر پیش کرے گی۔ مگر افسوس ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے لوگ سڑکوں پر آگئے اور یہی تحریک ان سازشوں کی طرف بھی مڑ سکتی ہے جو سرمایہ دار ساہوکار انسانوں کو غلام بنانے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔
کیسی عجیب بات ہے کہ ایک عام سیاہ فام کے قتل کا بدلا لینے کے لیے عوام نے وہائٹ ہائوس کا گھیرائو کر لیا اور اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جان بچانے کے لیے وہائٹ ہائوس میں بنے ہوئے بنکر میں جا کر چھپ گئے اس بنکر کے بنانے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے کیا امریکی دانشوروں پالیسی سازوں کو یقین تھا کہ ان کی پالیسیوں کے خلاف ایک نہ ایک روز چکی کے دو پاٹوں میں پسے ہوئے امریکی عوام ان پر حملہ آور ہوجائیںگے شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ چور جاتے وقت اپنی جوتی ضرور چھوڑ جاتا ہے اور چوری سے پہلے نکلنے کا راستہ دیکھ لیتا ہے۔ امریکی عوام کس طرح ڈالر ڈالر جوڑ کے اپنے مستقبل کے لیے پیسہ اکھٹا کرتے ہیں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں صرف جمع شدہ ڈالر ہی ان کا ساتھ دے سکتے ہیں یا پھر اولڈ ہائوس ان کا مقدر ہوگا جہاں وہ جانوروں سے زیادہ بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہوںگے امریکا کے اولڈ ہائوسز میں مقیم بوڑھے زیادہ تر ذہنی مریض بن چکے ہیں کیونکہ ان کی اولاد اپنے نان نفقے کے چکر میں پڑی رہتی ہے وہ تو اپنی اولاد کو بھی بمشکل پال رہے ہوتے ہیں پھر بوڑھے ماں باپ کی طرف کیسے توجہ کر سکتے ہیں یہ ایک فطری امر ہے کہ اولاد چاہتی ہے کہ وہ والدین کے بڑھاپے میں ان کا ساتھ دے لیکن نظام کی ظالمانہ چکی میں ایسے پیس دیے جاتے ہیں کہ وہ کوئی نیک کام کرنے سے بھی قاصر رہتے ہیں امریکا میں ایک خاتون سے پوچھا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ تم گھر میں بچوں کی دیکھ بھال، تعلیم و تربیت اور صحت و صفائی کا کام اپنی ذمے داری سمجھ کر کرو اور تمہارا شوہر باہر کام کرکے گھر کو چلانے کے لیے پیسہ کمائے اور سب ملکر ایک خاندان کی طور پر رہو تو کہنے لگی کیا اس دنیا میں ایسا کہیں ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ بیچارگی جو دو سو سال کے سرمایہ دارانہ نظام نے تخلیق کیا ہے کہ نسل در نسل ان کو بس یہی معلوم ہے کہ جو کھائے گا وہ کمائے گا نہ کوئی رشتہ نہ احساس ذمے داری نہ گھرداری۔ اب امریکا میں تنگ آمد بجنگ آمد کی صرتحال پیدا ہو گئی ہے اور بات اب دور تک جائے گی۔