الرجی: کیوں، کب اور کیسے؟

646
جب آپ کا مدافعتی نظام کسی ایسی چیز پر ردعمل ظاہر کرتا ہے جو عام طور پر بے ضرر ہے، تو ایسے ردِ عمل کو الرجی کہتے ہیں۔

جو محرکات الرجی کا سبب بنتے ہیں انہیں ڈاکٹرز الرجن (Allergens) کہتے ہیں۔ یہ محرکات زرگُل، پھپہوندی، جانوروں کے بال، مخصوص غذائی اشیاء اور دیگر چیزوں پر مشتمل ہوسکتے ہیں جس سے رابطے میں آنے کے بعد آپ کو نزلہ، چھینکیں، جلد پر خارش اور دیگر علامات ہوسکتی ہیں۔

ایک امریکی رپورٹ کے مطابق کم از کم 5 میں سے 1 امریکی کو کسی نہ کسی چیز سےالرجی ہے۔

الرجی کی شروعات:

الرجی اس وقت شروع ہوتی ہے جب آپ کسی ایسے محرک کے ساتھ رابطے میں آجاتے ہیں جو یا تو آپ کی جلد کو چھولے یا پھر سانس کی ذریعے یا نگلنے سے آپ کے جسم میں داخل ہوجائے۔

جب یہ محرک آپ کے جسم میں داخل ہوتا ہے تواس کے جواب میں آپ کا مدافعتی نظام اس کیخلاف IgE نامی پروٹین بنانا شروع کرتا ہے، جو allergens کیخلاف تریاقچہ کا کام کرتا ہے۔ IGE کے ساتھ ساتھ ہسٹامین اور دیگر مدافعتی کیمیکلز بھی خون میں خارج ہوجاتے ہیں جسکے نتیجے میں آپ کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔

الرجی کی علامات؟

الرجی کے دوران ظاہر ہونے والی علامات اس بات پر منحصر ہیں کہ آپ کس طریقے سے اُس مخصوص محرک یا Allergen سے رابطے میں آئے ہیں؟ آیا کھانے کے ذریعے، جلد کے ذریعے، کیڑے کے ڈنک سے، سونگھنے سے یا سانس ک ذریعے سے۔

1) – اگر Allergen آپ کی ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوا ہے تو اسکی علامات سمندرجہ ذیل ہیں:
کھجلی ، آنکھوں سے پانی بہنا۔
چھینک آنا۔
خارش ، ناک بہنا۔
تھکاوٹ یا بیماری کا احساس ہونا۔

2) – اگر جِلد الرجی کا سبب بنی ہو تو اس کی عام علامات میں خارش اور جلد پر پھنسیاں ( جلد پر بڑے سرخ دھبے) ہیں۔

3) – اگر الرجی کسی چیز کے کھانے کی  وجہ سے ہوئی ہو تو اسکی علامات پیٹ میں درد ، الٹی اور اسہال ہوسکتی ہیں۔

4) – اگر کیڑے کا ڈنک الرجی کا محرک ہو تو جہاں کیڑے نے ڈنک مارا ہے وہاں سوجن، سرخی اور درد ہوسکتا ہے۔

علامات عام طور پر کم تکلیف دہ ہوتی ہیں جو کہ محرک کے ختم ہوجانے کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہیں جبکہ بعض اوقات علامات خطرناک بھی ہوسکتی ہیں۔

مخصوص الرجک ردِعمل (allergic reactions) میں جسم شدید اور خطرناک حد تک ردِعمل دے سکتا ہے اور اگر طبی عملے سے فوری رجوع نہیں کیا جائے تو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

انتہائی الرجک ردعمل کو انافائلیکسس (anaphylaxis) کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے ردِ عمل میں پورا جسم متاثر ہوتا ہے  اور خطرناک علامات ظاہر ہوسکتی ہیں جیسے کہ:

. پورے جسم پر سرخ دھبے اور شدید خارش۔

. سانس لینے میں دشواری اور خرخراہٹ۔

. آواز متاثر ہونا اور گلے میں جکڑن۔

. ہاتھوں، پیروں، ہونٹوں یا سر میں جلن ہونا۔

anaphylaxis جان لیوا ہے لہذا جب بھی اس قسم کی علامات ظاہر ہوں تو 911 پر فوراً رابطہ کیا جائے اور صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔ اگر آپ کے پاس الرجی کے اثرات کو کم کرنے والا  epinephrine آٹو انجیکشن ہو تو اُس کا استعمال کریں اور اگر کمی نہ آئے تو 5 سے 15 منٹ بعد دوبارہ اس عمل کو دہرائیں۔

لیکن خیال رہے کہ اس کے بعد بھی اُپ کو طبی عملے سے رجوع کرنا پڑے گا بھلے علامات ختم ہوگئی ہوں کیونکہ الرجی ری ایکشن تھوڑی دیر بعد دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔