چار برس سے بازاروں میں غیرمنظورشدہ باٹ اوراوزان کا استعمال جاری

316

کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری) شہر قائد میں اشیاء ضروریہ کی خریدوفروخت کیلئے غیر منظور شدہ ترازو،باٹ اور اوزان کا استعمال جاری ہے۔گزشتہ 4برس سےناپ تول کے پیمانے،باٹ اور اوزان پاس ہی نہیں ہو سکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سالہا سال سے محکمہ بیورو آف سپلائی اینڈ پرائس کراچی کے بازاروں، مارکیٹوں اور علاقوں میں جاکر باٹ، کنڈا، ترازو، گز،میٹر ودیگر پیمانے چیک کرتی تھیں اور معمولی فیس کی وصولی پر ان کو باقاعدہ مہر لگا کر ایک سال کیلئے پاس کردیا جاتا تھا۔

ذرائع کے مطابق  کمشنر کراچی کے زیر نگرانی محکمہ اوزان و پیمائش کی سستی لاپروائی کی وجہ سے گزشتہ 4برسوں سے پیمانے اور اوزان وغیرہ چیک کرنے کا سلسلہ بند ہوچکا ہے جس کی وجہ سے دکاندار غیر منظور شدہ کنڈے ،باٹ اور پیمانے سرعام استعمال کر رہے ہیں۔

 وزن اور پیمانہ کم ہونے سے صارفین اور دکانداروں میں لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔

محکمہ اوزان و پیمائش کا شہریوں کو لوٹنے والے پھل و سبزی فروشوں اور دکانداروں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز ہے، مہنگائی کے ہاتھوں پریشان شہری ان دکانداروں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

 شہریوں کی جانب سے ادا کی گئی قیمتوں کے تناسب سے ناپ تول میں کمی دکانداروں اور سبزی اور گوشت فروشوں کا معمول بن گیا ہے ۔

محکمے کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ناپ تول کے پیمانے کی معمول کی چیکنگ ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ دکاندار چند سوروپے کا نذرانہ دے کر پورا سال غیر معیاری ناپ تول کے پیمانوں کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سبزی،پھل اور گوشت فروش آج کے جدید دور میں بھی الیکٹرونک یا محکمہ اوزان و پیمائش سے منظور شدہ اوزان اور باٹ استعمال کرنے کے بجائے کم وزن کے باٹ اور برسوں پرانے کنڈے استعمال کر کے شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔

ایک سروے کے مطابق  کراچی کےمرکزی بازاروں سمیت شہر کی دیگر مارکیٹوں میں غیر تصدیق شدہ اور پرانے ترازو استعمال کئے جا رہے ہیں۔

محکمہ اوزان و پیمائش کی منظور شدہ لوہے کے باٹ کے بجائے اینٹ اور پتھر کے خود ساختہ باٹ ابھی تک استعمال ہو رہے ہیں جو محکمہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے شہر میں ناپ تول کی کمی اور غیر معیاری ترازو کے استعمال کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

کراچی میں پرائس کنٹرول اور کوالٹی کے ڈیمانڈ وسپلائی کے تمام ادارے بے بس ہوگئے ہیں۔سندھ حکومت کاادارہ بیورو آف سپلائی اینڈ پرائس صرف نمائشی طور پر اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے اور یہ ادارہ کرپشن کا گڑ ھ بن کر رہے گیا  ہے۔

بیورو آف سپلائی اینڈ پرائسز عوام کو ناپ تول میں پوری مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ٹاسک میں بھی نہ کام ہوچکا ہے، اس ادارے کے ہونے کے باجود شہر میں پیٹرول پمپ پر صارفین کو کم پیٹرول کی فراہمی جاری ہے۔

کپڑا فیشن ایبل بازاروں میں اب بھی ’’گز‘‘ میں فروخت ہورہا ہے، جبکہ ’’میٹر ‘‘کا نظام کا رائج ہے، اسی طرح تھوک میں دودھ کی فروخت’’ لیٹر‘‘ کے بجائے ’’سیر‘‘میں کی جاتی ہے،لیکن بیورو آف سپلائی اینڈ پرائسز کا ادارہ خاموش ہے۔

جس کے باعث مارکیٹوں اور بازاروں میں اوزان و پیمائش کے پیمانوں میں گڑ بڑ کر کے ہونے والی لوٹ مار کی مکمل روک تھام ممکن نہیں ہو سکی اور گزشتہ 4 برس کے دوران جہاں روزمرہ کی اشیاءکی خریدو فروخت میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

اوزان و پیمائش کے پیمانوں میں ہیرا پھیری کر کے کراچی کے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہاہے۔بتایا جاتا ہے کہ ناپ تول میں گڑ بڑ کے ساتھ ہر سطح پر صارفین منافع خوروں کے ہاتھوں مجبور ہو کہ اشیا کی خریداری کر رہے ہوتے ہیں۔

محکمہ اوزان و پیمائش کا محکمہ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر سو رہا ہے۔صارفین  کے حقوق کے لئے کام کرنے والی کنزیومر ایسوسی ایشنز نےبھی خاموشی اختیارکر رکھی ہے۔

اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ دکانداروں نے اپنے پیمانے بنا رکھے ہیں اور کم وزن کی چیزیں فروخت کرکے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمے کی جانب سے گزشتہ 4 سال سے کوئی چیکنگ کی گئی ہے اور نہ ہی باٹ وغیرہ پاس کئے گئے ہیں اگر کوئی سرکای محکمہ چیک نہ کرے تو وہ کس سے پاس کروائیں۔