صنعتوں کو شپنگ لائنز ایجنٹس اور ٹرمینل آپریٹر نے یرغمال بنالیا،کے سی سی آئی

53

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) نے برآمدکنندگان اور درآمدکنندگان کی بے بسی پر مایوسی اور تشویش کا اظہار کیاہے کیونکہ شپنگ لائنزنے پچھلے دو ماہ سے زائد عرصے تک رہنے والے لاک ڈاؤن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کنٹینر ڈی ٹینشن چارجز اور بھاری جرمانے عائد کرکے ان کا استحصال کررہی ہیں۔ لاک ڈاؤن کی طویل مدت اور صنعتوں کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے درآمدکنندگان کسٹمز سے اپنا مال کلیئر کروانے سے قاصر رہے اور فری مدت گزرنے کے بعد بھی اپنا درآمدی مال نہیں اٹھاسکے جس کے نتیجے میںشپنگ لائنز کے ایجنٹس جرمانے کی مد میں یومیہ 150ڈالر سے 250ڈالر فی کنٹینر چارجز وصول کررہے ہیں جو کہ دیگر صوابدیدی چارجز اور جرمانوں کے علاوہ ہیں۔مزید برآں زرمبادلہ کے ضوابط کویکسر نظر انداز کرتے ہوئے اپریل اور مئی2020میں 159 تا 161روپے کے سرکاری ریٹ کے برخلاف ڈالر کے بدلے 167سے168روپے فی ڈالر وصول کیے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستانی بندرگاہیں پورے خطے کے مقابلے میں کافی غیر منظم ہیں جہاں واضح رہنما اصول نہ ہونا، ریگولیٹری فریم ورک کا فقدان یا کنٹینر ڈی ٹینشن، ٹرمینل ہینڈلنگ چارجز( ٹی ایچ سی ) اور دیگر متفرق چارجز کو وصول کرنے کے لیے مخصوص نرخنامہ نہ ہونے کی وجہ سے ناجائز اور غیر قانونی چارجز وصول کیے جاتے ہیں۔وزارت بحری امور نے موجودہ حکومت کے دو سالوں میں شپنگ لائنز اور ان کے ایجنٹس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے شاید ہی توجہ دی ہو۔کسمٹز ایکٹ 1969 اور متعلقہ قواعد میں بعض دفعات کسٹمز حکام کو شپنگ لائنز کے امور کو ریگولیٹ کرنے اور ان کے چارجز پر نظر رکھنے کے اختیار دیتے ہیں لیکن کورونا وبا کے باعث غیر معمولی بحران میں ایف بی آر اور کسٹمز پریوینٹیو درآمد کنندگان کو اور پاکستان کے معاشی مفادات کو بچانے میں ناکام رہے ہیں۔درآمدکنندگان اور کلیئرنگ ایجنٹس کو یہ صوابدیدی چارجز بلامقابلہ ادا کرنے پر مجبورکیا جارہاہے کیونکہ ایک دن کی تاخیر سے درآمدی مال کی لاگت میںاضافہ ہوجاتا ہے اور ایسی مثالیں بھی ملی ہیں جن میں ڈی ٹینشن چارجز اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ مال کی اصل لاگت سے بھی زیادہ ہوجاتے ہیں اور پھر کسٹمز حکام کو واجبات وصول کرنے کے لیے مذکورہ مال کی نیلامی کرنی پڑتی ہے۔خام مال درآمد کرنے والے درآمدکنندگان اور صنعتوں کی پریشانی مزید اُس وقت بڑھ جاتی ہے جب نجی ٹرمینل آپریٹرز کو واجب ادابھاری ڈیمرج کا سامنا ہوتا ہے ۔یہ ٹرمینل آپریٹرز وزارت بحری امور اور کے پی ٹی کی جانب سے درآمدکنندگان کو رعایت دینے کی واضح احکامات کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔تاہم بعدازاں چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل جمیل اختر کے ساتھ ساتھ بزنس مین گروپ کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے پی ٹی بورڈ آف ٹرسٹیز سراج قاسم تیلی اور کراچی چیمبر کے صدر آغا شہاب احمد خان کی مداخلت کے بعد کے پی ٹی، ٹرمینل آپریٹرز اور ایسے درآمدکنندگان جن کی نمائندگی کے سی سی آئی کررہا ہو ان کے درمیان ایک مصالحتی فارمولے طے پایا ۔