ڈاکٹر آصف فرخی کی یاد میں

348

احمد حاطب صدیقی
[ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر آصف فرخی حرکت قلب بند ہو جانے سے اچانک انتقال کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے مشفق استاد ڈاکٹر اسلم فرخی کے لائق و فائق صاحب زادے تھے۔ ان کی ناگہانی وفات پر دل بہت دُکھی ہے۔ کچھ لکھنے کی ہمت نہیں ہے۔ فی الحال اُن کی یاد میں ہم اپنا ایک پرانا کالم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جو ۱۵؍ اپریل ۲۰۱۴ء کو شائع ہوا تھا۔]
_________
’’ہمارا ادبی نصاب اور نظامِ تعلیم جہالت کو فروغ دے رہا ہے‘‘۔
یہ قولِ فیصل ہمارا نہیں۔ ہمارے ملک کے ممتاز ادیب، افسانہ نگار، نقاد، مترجم، مدیر اور ناشر ڈاکٹر آصف فرخی کا ہے۔ ہم اُن کے اِس قول کی تردید یا تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ تردید اِس وجہ سے نہیں کرسکتے کہ … ’بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رُسوائی کی‘ … اور تصدیق اِس بنا پر نہیں کر سکتے کہ ہم اور ڈاکٹر آصف فرخی ایک ہی نصاب اور ایک ہی نظامِ تعلیم کے ’جہالت یافتہ‘ ہیں۔ تصدیق کا کام کسی اور ’ڈاکٹر‘ کو کرنا چاہیے۔ تو کیوں نہ یہ ’کیس‘ ڈاکٹر طاہر مسعود کو ’ریفر‘ کر دیا جائے؟
اکثر معترضین کا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ ’ہمارے نصابِ تعلیم اور نظام تعلیم دونوں کا حاصل کچھ نہیں ہے‘۔ مگر ایک ایسا شخص جو مروجہ نصاب اور مروجہ نظام سے ڈاکٹریٹ کر چکا ہو، اگر یہ کہتا ہے کہ یہ ’’جہالت کو فروغ دے رہا ہے‘‘ تو ہمارے خیال میں معترضین کے خیال کا ابطال ہو جاتا ہے۔ آخر کچھ تو فروغ دے رہا ہے۔ اُردو کا ایک محاورہ، اب یاد نہیں پڑتا، مگر شاید کسی ’ادبی نصاب‘ میں پڑھا تھا کہ ’قبر کا حال مُردہ ہی جانتا ہے‘۔
دراصل ڈاکٹر آصف فرخی کا ایک فکر انگیز انٹرویو ہفت روزہ ’’فرائیڈے اسپشل‘‘ کے حالیہ شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس انٹرویو میں جہاں عقل والوں کے لیے غور و فکر کا وسیع مواد موجود ہے، وہیں ہمارے کالم کے لیے بھی بڑا مال پڑا ہوا ہے۔ انٹرویو کے آغاز ہی میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے آپ کو ’’ایک بہت کمزور اور بے بس ادیب‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ ڈاکٹر صاحب کے انکسار کی انتہا ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر نشان دہی کر چکے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ادیب ہی نہیں، نقاد بھی ہیں۔ سو، دیکھنے والوں نے بڑے بڑے ’طاقتور اور بااختیار‘ ادیبوں کو اُن کی طرف ’کمزوری اور بے بسی‘ سے دیکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس انٹرویو میں ڈاکٹر آصف فرخی نے اُن کاموں کا بھی ذکر کیا ہے، جن کاموں کے نہ کرنے کا اُنہیں قلق رہ گیا ہے۔ ان میں سے ایک کام کے متعلق اُن کا کہنا ہے:
’’میں چاہتا ہوں کہ انتظار حسین صاحب کی خدمات پر ایسا کام کرجاؤں جو قابل ذکر ہو۔ (میں نے ان پر ایک مختصر کتاب لکھی ہے)‘‘۔
ممکن ہے کہ اُن کی لکھی ہوئی مختصر کتاب پڑھ کر خود انتظار حسین صاحب نے دِل سے دُعا کی ہو کہ ’یااللہ! یہ کوئی مفصل کتاب نہ لکھیں‘۔ اگر ایسا ہے تو اسے بھی انتظار حسین صاحب کا انکسار ہی سمجھیے۔ ورنہ ہم سمجھتے ہیں کہ انتظار حسین صاحب کی خدمات پر ایک ایسا مفصل کام ہونا بہت ضروری ہے جو ’قابل ذکر‘ ہو۔ یعنی کام ایسا مفصل ہو کہ انتظار صاحب جہاں جائیں، ہر شخص اُسی کا ذکر لے کر بیٹھ جائے۔
ڈاکٹر صاحب کی ایک تشنہ تکمیل تمنا ’’حسن منظر کے حوالے سے کچھ لکھنا‘‘ بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں:
’’ایک ادیب ایسا بھی ہے، جسے میں نے بہت دل لگا کر پڑھا ہے اور جن سے میری ذاتی واقفیت بھی رہی ہے۔ ان سے فن کے اسرار و رموز سمجھتا ہوں۔ وہ ہیں حسن منظر۔ لیکن معاشرے میں اُن کی وہ پزیرائی نہیںہوئی جو ہونا چاہیے تھی‘‘۔
یہاں ایک ایسی غلط فہمی جنم لے سکتی ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔ آخری فقرے میں حسن منظر کی جس معاشرتی ناقدری کا رونا رویا گیا ہے، اس کا سبب، اس سے قبل کے فقروں میں نہیں بیان کیا گیا ہے۔ اصل سبب کچھ اور ہے۔
اس انٹرویو کا سب سے دلچسپ حصہ وہ ہے جس میں انٹرویو لینے والے ’شرارتی نوجوان‘ (اے اے سید) نے دو طرفہ گلوں شکووں کی آگ کو پھونک مار مار کر کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔ ہوا یوں کہ محترم ڈاکٹر طاہر مسعود نے کچھ عرصہ قبل روزنامہ ’نئی بات‘ میں شائع ہونے والے اپنے کالم ’دامِ خیال‘ میں ایک بات کہی تھی جو اسی جریدے کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بھی دوہرا دی تھی۔ سو، انٹرویو لینے والے نے سوال کیا:
’’آپ کے ایک معاصر اور دوست ڈاکٹر طاہر مسعود نے حال ہی میں فرائیڈے اسپشل کو انٹرویو میں کہا کہ آپ حسن عسکری صاحب اور سلیم احمد صاحب کا ذکر بہت کرتے ہیں لیکن جو ادبی کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں ان میں فیضؔ اور جالبؔ کو تو یاد رکھتے ہیں لیکن اِن دونوں افراد کے حوالے سے کوئی کام نہیں کرتے۔ اسے وہ ادب سے غداری قرار دیتے ہیں۔ اس پر آپ کیا کہیں گے؟‘‘
جواب میں ڈاکٹر آصف فرخی صاحب نے بھی ایک طویل ’گُل افشانی ٔ گفتار‘ کی اور اس میں اپنا انٹرویو شائع کرنے والے مؤقر جریدے کو بھی لپیٹ لیا۔ انٹرویو نگار سے کہا:
’’بحمدللہ میں آپ کا رسالہ نہیں پڑھتا‘‘۔
ہو سکتا ہے کہ اس انکشاف پر مذکورہ انٹرویو شائع کرنے والے رسالے نے بھی اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنی شروع کردی ہو۔ بہر حال ڈاکٹر آصف فرخی نے انٹرویو لینے والے کو مخاطب کیا اور فرمایا:
’’آپ کی طرح طاہر مسعود صاحب بھی حسن عسکری اور سلیم احمد صاحب کو ایک ہی بندوق سے مارنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
گویا ڈاکٹر آصف فرخی صاحب مہنگائی اور مفلسی کے اس زمانے میں ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب کا آٹا گیلا کرنے کے متمنی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب حسن عسکری مرحوم کو مارنے کے لیے الگ بندوق خریدیں اور سلیم احمد مرحوم کو مارنے کے لیے الگ بندوق۔ پھر دونوں بندوقیں اپنے ڈرائنگ روم کی دیوار پر سجا کر ہم جیسے عقیدت مندوں کو فخر سے دکھایا کریں کہ:
’’اِس بندوق سے میں نے حسن عسکری مرحوم کو مارا اور اُس بندوق سے سلیم احمد مرحوم کو۔ دونوںکے مارے جانے کے بعد ڈاکٹر آصف فرخی بچ رہے۔ اب کچھ دنوں سے تیسری بندوق خریدنے کے لیے مزید پیسے جمع کر رہا ہوں‘‘۔
ڈاکٹر آصف فرخی نے ڈاکٹر طاہر مسعود کے متعلق مزید کہا:
’’طاہر مسعود نے چوں کہ ناراض ہونے کی قسم کھالی ہے تو انہیں شاید یاد ہی نہیں یا ان کے علم میں نہیں کہ پچھلے فیسٹیول میں (جو فروری میں کراچی میں ہوا تھا) عسکری صاحب پر گفتگو ہوئی تھی‘‘۔
ہمیں شبہ ہو رہا ہے کہ اوّل الذکر ڈاکٹر صاحب نے ثانی الذکر ڈاکٹر صاحب کو چپکے چپکے کچھ کھاتے دیکھ لیا ہوگا اور اپنی ’ڈاکٹری‘ کے زور سے پتا لگا لیا ہوگا کہ موصوف قسم کھا رہے ہیں۔ لیکن اگر ڈاکٹر طاہر مسعود اپنی جان سے بیزار ہوکر خود کُشی کی نیت سے اِس قِسم کی کوئی قَسم کھا بیٹھے ہیں تب بھی تشویش کی کوئی بات نہیں۔ قسم کا کفّارہ ادا کیا جاسکتا ہے۔ دونوں میں سے جو چاہے ادا کردے۔ ہم حاضر ہیں۔
ڈاکٹر آصف فرخی نے یہ بھی فرمایا:
’’فیسٹیول میں عسکری صاحب پر جو سیشن ہوا اُس میں اگر وہ خود نہیں آئے تو میں کیا کروں؟ اب کیا انہیں پالکی بھیج کر بلواؤں؟‘‘
ہر چند کہ ہمیں مولانا محمد اسمٰعیل میرٹھیؒ نے وصیت فرما رکھی ہے:
جب کہ دو موذیوں میں ہو کھٹ پٹ
اپنے بچنے کی فکر کر جھٹ پٹ
مگر چوں کہ یہاں ’کھٹ پٹ‘ دو موذیوں میں نہیں، ہمارے دو ’محسنوں‘ میں ہو رہی ہے، چناں چہ ہم بیچ بچاؤ کے لیے اس ادبی میدانِ جنگ میں کودتے ہیں اور نہایت ادب و احترام سے ڈاکٹر آصف فرخی سے عرض کرتے ہیں کہ پالکی بھیج کر بلوانا بھی ’نہ بلوانے‘ ہی کے مترادف سمجھا جائے گا۔ یہ زمانہ جو سیاہ، بلٹ پروف، شیور لیٹ کاروں کا زمانہ ہے، اس زمانے میں جامعہ کراچی کے اسٹاف ٹاؤن سے کہاروں کے کندھے پر سوار ہوکر کلفٹن پہنچتے پہنچتے تو فیسٹیول ہی ختم ہو جائے گا۔ فیسٹیول ختم نہ بھی ہوا تو عسکری صاحب پر ہونے والا سیشن تو ضرور ہی ختم ہو جائے گا۔ نتیجہ یہ کہ وہاں پہنچ کر بھی ڈاکٹر طاہر مسعود کو سیشن سنے بغیر، یہ شعر سناتے ہوئے بے نیلِ مرام واپس آنا پڑے گا کہ:
جو ہونی تھی سو، بات ہو لی کہارو
چلو، لے چلو اب تو ڈولی کہارو