ہنسانے والا رُلا کے اُٹھا

280

علی الصباح موبائل کی گھنٹی بجی کیوں کہ خلافِ معمول امر تھا نیم خوابی کی کیفیت میں فوراً بٹن دبا دیا بجائے کسی کی آواز آنے کے کھڑکھڑاہٹ سنائی دی اور آواز بند ہوگئی۔ لمحے بھر بعد پھر وہی گھڑگھڑاہٹ اور بمشکل سنائی دینے والی آواز۔ عماد بخاری بول رہا ہوں، فوری طور پر ذہن شخصیت کا تعین نہ کرسکا لیکن عرض کیا جی بخاری صاحب! مختصر جملہ تھا ’’اطہر خان صاحب کا انتقال ہوگیا ہے‘‘۔ ایک لمحے کے لیے تو ذہن مائوف ہوگیا پھر پوچھا کیا بیمار تھے؟ نماز کہاں ہوگی؟ لیکن عماد کو سوائے مرحوم کی وفات کے کچھ خبر نہیں تھی برادرم سعید آغا، عبدالحکیم ناصف، حیدر حسنین جلیسی سے اس بارے میں رابطے کی کوشش کی لیکن بے سود رہی، مرحوم کی بیگم کا موبائل عرصے سے خاموش تھا، ایک بار پھر کوشش کی کہ شاید وقتی طور پر بند رہا ہو اب کام کررہا ہو، لیکن مایوسی ہوئی۔ اہلیہ جو خود علیل ہیں ان کے کان میں انتقال کی بھنک پڑی تھی پوچھنے لگیں کس کا انتقال ہوگیا؟ میں نے کہا ’’اطہر شاہ خان جیدی کا‘‘ یہ کہتے ہوئے دل پر ایک کھونسا سا لگا۔
توجہ بٹانے کے لیے جسارت دیکھنا شروع کیا تو ادارتی صفحے کے منفرد کالم نگار ’’بابا الف‘‘ نے اپنی آنکھ کے موتیا کا تذکرہ مرحوم اطہر شاہ ہی کے معروف قطعے سے کیا تھا۔
رنگ خوشبو گلاب دے یا رب!
اس دعا میں عجب اثر آیا
میں نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں موتیا اُتر آیا
ایک بار پھر غم زدگی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ قطعہ پڑھ کر یاد آگیا کہ میں نے مرحوم کو بتلایا تھا کہ اس قطعے میں ایک خوبی وہ ہے جس کا شعور آپ کو نہیں اور وہ یہ کہ لفظ پھولوں میں رعایت لفظی بھی ہے کیوں کہ پھولے آنکھوں کی ایک بیماری بھی ہے۔
اطہر شاہ خان مرحوم ریڈیو اور ٹی وی کی مقبول ترین شخصیات میںسے تھے۔ جنہیں ان کی متنوع صلاحیتوں کے پیش نظر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا لیکن اس اعزاز سے قطع نظر مرحوم کی دو خوبیاں وہ تھیں جن کی بنا پر وہ شوبزنس میں اپنا منفرد مقام رکھتے تھے۔ ایک ان کا صاف ستھرا کردار جیسے کچرے کے ڈھیر پر گل لالہ کھلا نظر آتا اپنے کردار کی بلند ترین سطح پر ہونے کے باوجود مرحوم کا دامن ہر قسم کے اسکینڈل (کج روی) سے پاک تھا یہی نہیں اس شعبے کی منفی شہرت کی بنا پر انہوں نے اپنی اولاد (ماشاء اللہ چار ہونہار فرزند ہیں) کو بقول خود شوبزنس کی ہوا تک نہیں لگنے دی تھی اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب وہ مجھے اپنے گھر سے (رات کے قیام کے بعد) محکمہ تعلیم کے مرکزی دفاتر چھوڑنے جارہے تھے اور میں نے ان کے فرزند سے کہا تھا: ادھر ریڈیو اسٹیشن کی گلی سے لے لو، تو وہ بولے ان حضرت کو کیا معلوم کہ ریڈیو اسٹیشن کہاں ہوتا ہے۔ دوسری خوبی مرحوم کا جذبۂ خلوص تھا جس کا ذاتی تجربہ تو مجھے یوں ہوا کہ وہ مشاعروں میں ہر مزاح گو کو دل کھول کر داد دیتے اور اپنے جونیئرز کو تازہ کلام کہنے کی تلقین کرتے تھے۔
مرحوم نے اولاً ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کی جہاں سے ان کا پروگرام ’’جمعے کے جمعے جیدی کے سنگ‘‘ نشر ہوتا مرحوم نے اپنے نام کے ساتھ جیدی کا لاحقہ لگایا ہوا تھا جو ان کے نام کا جزو لاینفک بن گیا تھا۔ جیدی کے سنگ کی مقبولیت کی نوعیت یہ تھی کہ سامعین اور مداحین کے سوالات بقول ان کے بورے بھر کے آتے تھے جن میں سے چند ذہانت آمیز سوالات کا انتخاب کیا جاتا تھا اور جیدی ان کے جواب میں نہلے پر دہلا مارتے تھے۔ مثال کے طور پر ایک سوال آیا تھا کہ جیدی صاحب اگر اللہ تعالیٰ نوزائیدہ بچے کو قوت گویائی عطا فرمادے تو اس کا پہلا سوال کیا ہوگا۔ جواب تھا ممی! ممی میں اردو میڈیم ہوں یا انگلش میڈیم۔ اس مختصر اور بامعنی جواب میں گویا پاکستانی معاشرے کا ایکسرے کرکے پیش کردیا تھا۔ اسی طرح اُن اردو الفاظ کا پُر ذہانت ترجمہ بھی خاصے کی چیز تھا جس سے سننے والے ازحد محظوظ ہوتے تھے مثلاً خالہ گلبدن کا ترجمہ آنٹی فلاور باڈی اور دیکھیے میں آپ کابہت لٹریچر (ادب) کررہا ہوں وغیرہ۔
ریڈیو کے بعد ’’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیان کے لیے‘‘ کے مصداق انہوں نے ٹی وی کو اپنی جولاں گاہ بنایا اور وہاں انتظار فرمایے جیسے مستقل پروگراموں کے اسکرپٹ لکھے۔ مزاحیہ اداکاری میں انہیں اولیت حاصل تھی اور دیگر مزاحیہ اداکار خود کو فخر سے ان کا شاگرد کہتے تھے۔ وہ تخلیق کار (اسکرپٹ رائٹر) بھی تھے، ہدایت کار بھی اور اداکار بھی ان شعبوں میں ان کی کامیابی کی دلیل اُن کا صدارتی ایوارڈ ہے۔
پھر انہوں نے میدان شعری میں فاتحانہ قدم رکھا وہ تالیوں کی گونج میں اسٹیج پر آتے اپنے پُر ذہانت مضمون اور قدرت زبان کے مظاہروں سے سخن شناس طبقے سے بھی داد وصول کرتے اور پہلے سے بڑھ کر تالیوں کی گونج میں واپس اپنی جگہ آتے۔ ان کے اشعار میں رعایت لفظی کا اہتمام ان کی فن شعری پر گرفت کا آئینہ دار ہوتا۔ آنکھ میں موتیا اُتر آیا تو آج ہی کے کالم میں آیا ہے ایک اور قطعے کے فی الوقت تین ہی مصرعے یاد ہیں جن میں رعایت لفظی کے فن کا عمدگی سے اظہار ہے۔
ساس کے صحرا میں آخر کیا کسی کا دل لگے
اک بڑی سالی ہے سو پیرانہ سالی کا شکار
ایک چھوٹی ہے سو وہ بھی خشک سالی لگے
شو بزنس ایسی چیز ہے جس میں چل نکلنے والے لازماً خود کو کچھ سمجھنے لگتے ہیں۔ اس خود پسندی میں لازماً مداحین کے خطوط کو بھی دخل ہوتا ہے کہ
پیراں نمی پرند مریداں می پراند
(پیر نہیں اُڑتے ان کے مرید انہیں اُڑاتے ہیں) لیکن مرحوم میں خود پسندی کا شائبہ تک نہ تھا وہ ہر ادنیٰ و اعلیٰ کے ساتھ انکسار اور تواضع سے پیش آتے تھے۔ مجھ حقیر پر تو مرحوم کے التفات کی کوئی حد نہ تھی مثلاً مشاعرہ پڑھ کر ایک ہی گاڑی میں گھروں کو مراجعت ہے۔ میں ڈرائیور کو اپنی بیٹی کے گھر کا پتا بتاتا تو ارشاد ہوتا آپ اس وقت جا کر بیٹی کو پریشان نہیں کریں گے۔ میرے گھر چلیں گے۔ کوئی دوست کہتا نہیں یار ان کی بیٹی انتظار کررہی ہوگی تو فرماتے یہ وہ بابل نہیں جس کی بیٹی ان کا انتظار کرتی ہے یہ بابل ہر ہفتے اس کے گھر آدھمکتا ہے، پھر گھر پہنچ کر تھرمس میں چائے قلم اور کاغذ سامنے اور صفحہ قرطاس پر قلم رواں ہے۔ اسکرپٹ مضمون یا کالم مکمل کرکے بستر پر جاتے لیکن جانے سے قبل ناشتہ کی تفصیل طلب کرکے
اہلیہ کو بتلاتے۔ ناشتے کے بعد یا خود ساتھ ہوتے صاحبزادے کے ساتھ جہاں جانا ہوتا چھڑواتے۔ دیر میں سوتے تو اٹھتے ہوئے بھی وقت لگتا تھا کچھ دیر کی نشست میں کہیں میں نماز کی تلقین کا ڈول ڈالتا تو آواز لگاتے قدسیہ (بیگم) تبلیغ شروع ہوگئی ہے۔ مرحوم کی قربت کے کن کن واقعات کی یاد تازہ کروں بس یوں سمجھیے مجھے گھر کا فرد سمجھتے، گھریلو معاملات میں مشورہ کرتے ساتھ ہی فقرے بازی بھی جاری رہتی۔ مضمون طویل ہوتا جارہا ہے۔ ایک بار جہاز میں لاہور یا اسلام آباد کا سفر تھا گھنٹہ بھر شعر و شاعری موضوع رہا پھر جب میں نے کہا ’’شاہ جی (دوست انہیں اسی نام سے مخاطب کرتے تھے) مجھ جیسے عام شخص پر آپ کی یہ توجہ اور التفات اور تمام نعمتیں دینے والی ہستی کے لیے دن میں پانچ وقت چند منٹ… قطع کلامی کرتے ہوئے بولے۔ خان صاحب عجیب بات ہے ہائی آلٹی چیوڈپر آکر سماعت معدوم ہوجاتی ہے۔ میں نے کہا جی ہاں لیکن قدرت کا عجیب انتظام ہے اگر کوئی ایک صلاحیت کم ہوجائے تو کوئی دوسری صلاحیت اس کی کمی کی تلافی کردیتی ہے۔ بولے کیا مطلب؟ میں نے کہا سماعت تو آپ کی بقول آپ کے معدوم ہے لیکن گھنٹہ بھر سے آپ میرے ہونٹوں کے اشارے سے مضمون پڑھ کر ہر بات کا جواب صحیح دے رہے ہیں۔ بولے یار آپ بہت تیز ہیں۔ مرحوم سے میری ملاقات اندازاً بیس سال قبل ایک مشاعرے میں اس طرح ہوئی تھی جیسے برسوں سے شناسائی ہو۔ ایک حادثے میں میری ٹانگ ٹوٹی تو غسل خانے میں گرنے کے سبب ان کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ بولے آپ کی پیروی کررہا ہوں۔ پھر وہ رہائش تبدیل کرتے رہے اور رابطہ بھی منقطع رہا۔ آخری ملاقات کینٹ کے ایک فلیٹ میں ہوئی تھی جہاں درون خانہ بھی وہیل چیئر پر تھے۔ میرا اصرار تھا کلام چھپوائیں ان کا عذر تھا نظرثانی کرلوں فلیٹ سے اترتے ہوئے نومی (چھوٹے فرزند) نے کہا ابو آپ سے مل کر بہت خوش تھے۔ میں اکثر آپ کو لے آیا کروں گا اور آج پیرانہ سالی میں دعائے جنازہ میں بھی شرکت سے محروم ہوں البتہ چشم نم اور ہچکیوں کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں عاجزانہ دعائے مغفرت کرسکتا ہوں۔
ہنسانے والا رُلا کے اُٹھا