قوانین میں تضاد ہوتو وفاق کا قانون لاگو ہوگا،عدالت عظمیٰ

62

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں ہاؤسنگ سوسائٹیز فرانزک آڈٹ کیس کی سماعت،عدالت عظمیٰ نے صوبوں میں ایف آئی اے کے دائرہ اختیار سے متعلق معاونت طلب کر لی۔معاملہ کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نیک کی۔دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ اگر صوبوں اور وفاق کے قوانین میں تضاد ہو تو وفاق کا قانون لاگو ہوگا۔اس کا تعین صوبوں اور وفاق کی رپورٹس آنے کے بعد کیا جائے گا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے موقف اپنایا کہ ایف آئی اے کے اختیارات اور ضمانت سے متعلق ایشوز کا تعین ہونا ضروری ہے۔یہ کیسز عام عدالت میں چلیں گے یا خصوصی عدالت میں، یہ بھی دیکھنا ہوگا۔ایف آئی اے نے اس موقع پر نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کی آڈٹ رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشی نے اس موقع پر عدالت کو بتایاکہ ایف آئی اے رپورٹ میں بہت سے لوگوں کو شامل نہیں کیا گیا۔عدالت عظمیٰ نے ایف آئی اے کو معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کر تے ہوئے معاملہ کی سماعت غیر معینہ مدت کیلیے ملتوی کر دی ہے ۔