جسٹس فائز عیسیٰ کیس، وفاق کو ججوں کی جائدادوں سے کیا مسئلہ ہے؟، عدالت عظمیٰ

141

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت سے 4 سوال کے جواب مانگتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ وفاقی حکومت کو ججوں کی جائدادوں سے کیا مسئلہ ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 10رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیٰسی کیخلاف ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ سابق وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور سیکرٹری برائے قانون و انصاف ملائکہ بخاری عدالت عظمیٰ میں حاضر ہوئے۔جسٹس قاضی فائز عیٰسی کے وکیل منیر اے ملک نے فروغ نسیم پر اعتراض اٹھاتے ہوئے عدالت عظمیٰ ایک مقدمے میں واضح کرچکی، سرکار کی طرف سے پرائیویٹ وکیل پیش ہوکر دلائل نہیں دے سکتا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت کو نمائندگی کا مکمل حق حاصل ہے، ایک اٹارنی جنرل انور منصور ریٹائرڈ ہوئے دوسرے اٹارنی جنرل نے مقدمے کی پیروی سے معذرت کرلی، اب عدالت کی معاونت کے لیے وفاقی حکومت نے وکیل تو کرنا ہے، اعتراض مناسب نہیں ہے، ہم آپ کی درخواست پر فیصلہ جاری کریں گے۔فروغ نسیم نے کہا کہ لندن کی 3 جائدادیں معزز جج کے بچوں اور اہلیہ کے نام پر ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ جائدادیں کن ذرائع سے خریدی گئی، پاکستان سے جائدادیں خریدنے کے لیے پیسہ باہر کیسے گیا، جسٹس قاضی فائز عیسٰی منی ٹریل نہیں دیتے تو یہ مس کنڈکٹ ہے۔جسٹس قاضی امین نے کہا کہ وفاق کو ججز کی جائدادوں سے کیا مسئلہ ہے، کیا ججز پر بغیر شواہد اور شکایت کے سوال اٹھایا جا سکتا ہے؟ ٹھوس شواہد نہیں ہیں تو ججز کی ساکھ پر سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے، کیا حکومتی اقدام ججز اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف نہیں؟۔عدالت عظمیٰنے فروغ نسیم سے 4 سوالات پر جواب اور دلائل طلب کرتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ جسٹس قاضی فائز کے خلاف مواد غیر قانونی طریقے سے اکٹھاکیا گیا، آپ نے مواد کو قانونی اکٹھاکرنے پر دلائل دینے ہیں، شکایت اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو کیوں بھیجی گئی اور صدر مملکت یا جوڈیشل کونسل کو کیوں نہیں بھیجی گئی؟۔جسٹس مقبول باقرنے کہا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کس حیثیت سے معلومات اکٹھی کی؟۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو وحید ڈوگر کی شکایت کی کاپی درخواست گزار جج کو فراہم کرنی چاہیے تھی، وحید ڈوگر کی شکایت کی دستاویزات کا 10مرتبہ عدالت نے پوچھا ، میڈیا پر کئی بار دستاویزات دکھائی گئیں لیکن عدالت کو نہیں دی گئیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کیا ہے پہلے یہ بتائیں، شکایت یونٹ تک کیسے پہنچی اور اس یونٹ کا آرٹیکل 209 کے ساتھ کیا تعلق ہے۔عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کردی۔