نصراللہ خان شجیع کی شہادت کو 6 برس بیت گئے

703

جماعت اسلامی کے تحت چلنے والے ادارے عثمان پبلک اسکول سسٹم کے منتظم و جماعت اسلامی کراچی کے سابق نائب امیر نصراللہ خان شجیع کی شہادت کو 6 برس بیت گئے وہ طالب علم  کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے دریا میں ڈوب گئے تھے۔

عثمان پبلک اسکول سسٹم کے منتظم و جماعت اسلامی کراچی کے سابق نائب امیر نصراللہ خان شجیع دو سال قبل 2 جون 2014 بروز پیر دریا کنہار میں طالب علم سفیان عاصم کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے دریا میں ڈوب گئے تھے ۔

نصراللہ خان شجیع عثمان پبلک اسکول کے طلباء کے ہمراہ مطالعاتی دورے پر بالا کوٹ گئے تھے جہاں اتفاقی طور پر اچانک طالب علم سفیان عاصم وضو کرتے ہوئے پاؤ پھسل جانے کے باعث دریا میں گر گیا تھا جس کی جان بچانے کے لئے نصراللہ خان شجیع نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کی اور تیز بہتے دریا میں کود گئے لیکن پانی کے تیز بہاؤں کے باعث طالب علم اور استاد دونوں ہی ڈوب کر شہادت کے رتبے پر فائز ہوگئے۔

نصراللہ خان شجیع کو حلقہ احباب میں  نہایت اہم مقام حاصل تھا بالخصوص وہ بچوں میں بھی ایک شفیق اور بہترین استاد کے طور پر نہایت مقبول تھے ۔ تعلیم و تدریس کا شعبہ ہو یا عوامی خدمت کا ہر ایک شعبے میں انکی خدمات قابل ستائش تھیں۔

نصراللہ شجیع 1972 کو کراچی میں پیداہوئے دور طالب علمی سے ہی جمعیت سے وابستہ ہوگئے اور طلبہ سیاست میں اہم کردار اداکیا جامعہ کراچی سے انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر کیااور خود کو جماعت اسلامی سے منسلک کرتے ہوئے عملی سیاست میں اپنا کردار اداکیا ۔

آپ1996 سے 1998 تک اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم رہے اس کے علاوہ جمعیت کے مختلف عہدوں پر فایز رہے کچھ عرصےجماعت اسلامی ضلع شرقی کے امیر رہے 2002 کے عام انتخابات میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے حلقہ 116 سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئےاور سندھ اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈرکی حیثیت سے ذمے داریاں انجام دی جون 2014 میں جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر بنے ۔

نصراللہ شجیع بے باک شعلہ بیان اور بہترین مقرر تھے زمانہ طالب علمی میں جمعیت کے تحت ہونےوالے تقریری مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ۔کراچی میں عثمان پبلک اسکول سے منسلک تھے اور کیمپس 13 میں پرنسپل کے عہدے پر فائز تھے۔

سابق نائب امیر کراچی کی لازوال قربانی کے اعتراف میں انہیں بعد از مرگ صدارتی تمغہ شجاعت سے نوازا گیا جبکہ عثمان اسکول کے کیمپس 13 کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے ۔

نصراللہ شجیع کی بہادری اورقربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ وجاوید رہیں گے ۔