گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ نے 4 جون کو ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی

210

کراچی (رپورٹ: قاضی عمران احمد) ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکس اسٹاف پر مشتمل گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ (جی ایچ اے) نے 4 جون کو قومی دارہ صحت اطفال میں ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی۔

پریس کانفرنس میں کراچی سمیت سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں تمام ہیلتھ ورکرز کو درپیش مسائل کے حل کے مطالبات رکھے جائیں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس کے مرکزی رہنما اور ترجمان ڈاکٹر محبوب علی نوناری نے ”جسارت“ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ، ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ اور پاکستان پیرا میڈیکس ایسوسی ایشن سندھ پر مشتمل ہے اور گزشتہ دنوں تمام ہیلتھ ورکرز کو سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کے لیے اسے قائم کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر محبوب علی نوناری کا کہنا تھا کہ اس وقت سندھ بھر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں کورونا ایمرجنسی ڈیوٹی دینے والے تمام ہیلتھ ورکرز کے کئی مسائل ہیں جن میں سب سے اہم مریض کے ساتھ ساتھ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت ہے کہ اگر وہ کورونا وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں تو ان کے اہل خانہ کے متاثر ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر محبوب علی نوناری کا کہنا تھا کہ تمام ہیلتھ ورکرز کے بنیادی مطالبات میں ہیلتھ رسک الاؤنس کی فوری ادائیگی، خود حفاظتی سامان (پی پی ایز) کی فراہمی اور ان کی اسکریننگ لازم قرار دیا جانا شامل ہیں۔ ڈاکٹر محبوب علی نوناری کا کہنا تھا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کے پلیٹ فارم سے ہمارا مطالبہ ہے کہ سندھ بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ہیلتھ ورکرز اور ان کے اہل خانہ کے الگ آئسولیشن وارڈز بنائے جائیں اور خدانخواستہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں وینٹی لیٹرز الگ مختص کیے جائیں تاکہ انہیں بھی مکمل علاج کی بروقت سہولت میسر آ سکے اور ان کی جانوں کو لاحق خطرات کا تدارک ہو سکے، کورونا وارڈز میں ڈیوٹی دینے والے تمام ہیلتھ ورکرز کے لیے ہوٹلوں یا اسپتالوں میں رہائش کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ دو ہفتے کی ڈیوٹی کے بعد دو ہفتے خود کو آئسولیٹ کرنے کے بعد اپنے گھر جا سکیں اور ان کے اہل خانہ متاثر نہ ہوں۔

ڈاکٹر محبوب علی نوناری کا کہنا تھا کہ سندھ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں میں ہیلتھ ورکرز کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ان کے تحفظ کے لیے تمام سرکاری اسپتالوں میں پولیس اور رینجرز کو تعینات کیا جائے، دیگر اداروں کی طرح کورونا وائرس سے شہید ہونے والے ہیلتھ ورکرز کے لیے شہدا پیکیج کا اعلان کیا جائے۔