شام میں بمباری سے 5 ایران نواز جنگجو ہلاک،3 لاکھ شہری گھروں کو واپس

125

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں نامعلوم جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 5 ایرانی حمایت یافتہ جنگجو ہلاک اور 3 گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق نامعلوم طیاروں نے یہ حملہ اتوار کے روز مشرقی شہر بوکمال کے نواح میں کیا۔ شامی مبصر نے 20 مئی کو ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ عراقی سرحد کے قریب مشرقی صوبے دیر الزور کے شہر بوکمال میں درجنوں ایرانی حمایت یافتہ جنگجوئوں کی نئی کھیپ پہنچائی گئی ہے۔ انسانی حقوق تنظیم کے مطابق ایرانی جنگجوئوں کو عراق سے بسوں کے ذریعے بوکمال پہنچایا گیا۔ حالیہ عرصے کے دوران ایران نے شام میں اپنے جنگجوئوں کی تعداد بڑھانے کے لیے عراق سے افرادی قوت کی منتقلی کا طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ ایران سول بسوں کے ذریعے عراق سے جنگجوئوں کو شام لا رہا ہے۔ اس سے قبل 16 مئی کو نامعلوم جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں بوکمال میں معیزیلہ فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں کئی جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔ معیزیلہ ائربیس ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے بریگیڈ 47 کا ہیڈ کواٹر ہے۔ اس بریگیڈ کے ہیڈ کواٹر بوکمال اور الہری میں قائم ہیں۔ دوسری جانب صوبہ ادلب میں 6 مارچ کو نافذ کی گئی جنگ بندی کے بعد سے اب تک 2 لاکھ 85 ہزار سے زائد شہری اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ علاقے میں نقل مکانی کے اعداد و شما ر پر کام کرنے والے رابطہ کار محمد خلاج سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اسد انتظامیہ اور اس کے حامیوں کے فوجی کارروائیاں روکنے اور جنگ بندی قائم کرنے کے نتیجے میں اس سے قبل نقل مکانی کرنے پر مجبور ہونے والے شہریوں کی گھر واپسی کاسلسلہ جاری ہے۔ پناہ گزین ادلب اور حلب کے مضافات میں اپنے اپنے گھروں کو لوٹے ہیں۔ گھروں کو لوٹنے والے ان افراد کو شہری تنظیمو ں کی امداد کی ضرورت ہے۔