بھارت زیر حراست مسلمان طلبہ کو رہا کرے ،ایمنسٹی انٹرنیشنل

124

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کی علمبردار کئی تنظیموں نے مودی سرکار سے سیاہ ترین شہریت قانون کے خلاف احتجاج کی وجہ سے گرفتار کیے گئے مسلمان طلبہ کی صورتحال پرگہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دنیا کی 2 درجن سے زائد حقوق انسانی کی علمبردار تنظیموں نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے نام ایک مکتوب میں ان مسلمان طلبہ کی فوری طور پر رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جنہیں حکومت نے انسدادِ دہشت گردی جیسے سیاہ ترین قوانین کے تحت جیلوں میں قید کر رکھا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاریوں کا کوئی جواز نہیں ہے اور حکومت محض شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے لیے انہیں سزا دے رہی ہے۔ طویل خط میں سب سے پہلا نام جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبہ صفورہ زرگر کا ہے، جو 4 ماہ کی حاملہ ہیں اور گزشتہ 2 ماہ سے دہلی کے تہاڑ جیل میں بغیر کس عدالتی کارروائی کے بند ہیں۔ میران حیدر اور شفاء الرحمن کا تعلق بھی جامعہ ملیہ سے ہے، جب کہ شرجیل امام جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ یہ طلبہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مہم کے روح رواں تھے۔ بی جے پی کی حکومت نے ان جیسے اور بھی کئی افراد کو فسادات برپا کرنے کے الزام میں انسداد دہشت گردی جیسے سخت قانون کے تحت گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا ہے اور ان کی ضمانت کی گنجایش بھی کم ہی نظر آتی ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت یورپ، امریکا، افریقا اور ایشیا سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی25 تنظیموں نے حکومت کے اس قدم پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ کووڈ 19 وبا کے دوران قید میں ان کی زندگی اور صحت کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ان چاروں کارکنان کے ساتھ ساتھ ان تمام افراد کو بھی فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کریں، جو صرف حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے اپنے اظہار رائے کی آزادی کے حق کا استعمال کر رہے تھے۔ ان تنظیموں نے حکومت پر قانون کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان طلبہ کو شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے لیے سزا دی جا رہی ہے۔ ہمیں سخت تشویش ہے کہ بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کو کمزور کرنے اور احتجاج وآزادیٔ صحافت کو دبانے کے لیے (یو اے پی اے جیسے انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین کا باقاعدگی سے غلط استعمال کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل محمود پراچہ کا کہنا ہے کہ اس کیس میں کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لیے حکومت نے دانستہ طور پر یو اے پی اے کا استعمال کیا ہے، تاکہ ضمانت نہ مل سکے۔