بیت المقدس سے فلسطینیوں کے بے دخل کرنے کی نئی لہر

107

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کی وادی الجوز کالونی میں رہایش پذیر فلسطینیوں کو صنعتی اور تجارتی نوعیت کی 200 املاک چند ماہ کے اندر اندر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ فلسطینی ایوان صنعت وتجارت کے چیئرمین کمال عبیدات نے بتایا کہ اسرائیلی بلدیہ اور اسرائیل کی پلاننگ و منصوبہ تعمیراتی کمیٹی نے وادی الجوز میں 200 املاک خالی کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ املاک رواں سال کے آخر تک خالی کردی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان املاک میں فلسطینیوں کے ہوٹل، دکانیں اور گاڑیوں کی ورکشاپس شامل ہیں۔ کمال عبیدات کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی صنعتی اور تجارتی املاک خالی کرانے کے احکامات کے ساتھ ساتھ قابض حکام نے یہودی آباد کاروں کو ایسا کوئی نوٹس جاری نہیں کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی ریاست بیت المقدس کو یہودیانے اور تاریخی شہر کے تشخص کو تباہ کرنے کی دانستہ کوشش کررہا ہے۔ دوسری جانب مغربی کنارے کے علاقے میں موجود یہودی کالونیوں پر اسرائیلی ریاست کی خود مختاری کے اعلان اور غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کے صہیونی فیصلے کے خلاف عالمی مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد غرب اردن کی فلسطینی، تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس پر اسرائیلی ریاست کے غاصبانہ قبضے کی توسیع کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ اس مہم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ غرب اردن تاریخی ارض فلسطین کا اٹوٹ انگ ہے۔ یہ علاقہ زمین، باشندوں، قضیے اور تشخص ہراعتبار سے فلسطین کا جز ہے۔ اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف غرب اردن کے عوام نے بھرپور مزاحمت اور بے پناہ قربانیاں پیش کیں۔