سگ نامہ (آخری قسط)

333

یہاں بھی ہمارے دوست پروفیسر لطف اللہ پرنسپل غزالی کالج حیدر آباد مولوی عبدالحق اردو یونیورسٹی کے بنگلے سے ہمارے قریب سے کتے کی زنجیر پکڑے عین اس وقت لان کے برابر سے گزرتے تھے جب ہم لوگ وہاں مغرب کی نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ جی ہاں وہی مولوی عبدالحق جو عالم پیری میں بھی کشکول لیے در در اردو یونیورسٹی کے لیے اعانت مانگتے پھرتے تھے اُن کے ہاتھ سے بھی زنجیر وراثت انگریز نہیں چھوٹی تھی بقول کسے: جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے
چلیے ماضی قریب میں آکر اختتام تحریر کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہمیں ہر کام سے قبل بسم اللہ کہنا یعنی اللہ کا نام لینا چاہیے۔ لیکن ہمارے سابق سے سابق صدر جو فی الوقت بحیثیت معزول آرمی چیف فضا سے زمین پر آنے پر آمادہ تھے اور معاملہ تخت یا تختے کا تھا اس وقت بھی خدا کا نام لینا تو کجا اس کا نام بھی سننے کے بجائے اپنے کتے کے بابرکت نام کی ضمانت پر اترنے پر راضی ہوئے تھے۔ اور پھر موصوف کی پہلی تصویر جو اخبارات کی زینت بنی اس میں وہ ترکی وفد کے استقبال کے لیے کھڑے ہوئے تھے اور اس استقبالیے میں انہوں نے اپنی گود میں کتے کے دو پلوں کو اُٹھایا ہوا تھا۔ اس زمانے میں میرا یہ قطعہ مشاعروں میں خوب چلا تھا۔
ازبسکہ اپنے ملک کے حاکم ہیں سگ پسند
ڈر ہے یہ خُو نہ آئے کہیں اپنی پود میں
کتوں سے اُن کے عشق کا عالم نہ پوچھیے
کتے ہیں گود میں کبھی خودان کی گود میں
قطعے کے تین مصرعوں کی طرح چوتھے کی بھی اس وقت تصدیق ہوگئی جب گیارہ نومبر کو بلند عمارات کی جوڑی ٹوئن ٹاورز کا انہدام ہوا اور امریکا نے انگریزی مقولے کے مطابق کہ Call Him adog and shoot him یعنی جسے چاہو کتا کہہ کر گولی ماردو۔ افغانستان پر حملہ کیا اور کمانڈر ان چیف کا لباس امریکا کی ایک ادنیٰ دھمکی میں ’’نمیدہ‘‘ ہوگیا۔ اس پر بس نہیں ہوا کہ پھٹے میں ٹانگ اڑا کر جس طرح اس تابعدار نے ہزاروں مسلمان مجاہدین اور ان کی لپیٹ میں کتنے معصوم شہریوں کی زندگیوں کے چراغ گل کیے اور پاکستان کی قابل فخر بیٹی سے اس کے بچے جدا کرکے اسے اور دیگر پاکستانیوں ہی کو نہیں پڑوسی ملک کے سفیر ملا ضعیف کو امریکا کے ہاتھوں فروخت کرکے اپنے لیے ڈالر اور قوم کے لیے ذلت و رسوائی کمائی۔ اُس کا المناک بیان بھی کماحقہ ممکن نہیں۔ ہاں ملک سے جاتے جاتے اپنے دور اقتدار کے ایک نوجوان ساتھی کووہ اپنی یاد دلانے کو اک کتوں کا تحفہ چھوڑ گئے
اب ہمارے موجودہ وزیراعظم اپنے سابقہ باس کے اس تحفے یا وراثت کی سیوا کررہے ہیں وہ بھی بقول غالب وفاداری بشرطِ استواری اصل ایماں ہے
پھر جس طرح مجنوں کو لیلیٰ کا کتا پیارا ہوتا ہے موصوف کی ’’پیرسن ’’پیرنی‘‘ کو بھی اس نجس مخلوق کی ہم نشینی پر اعتراض نہیں۔
قارئین آپ کے اس صبرو تحمل کی داد کے ساتھ یہ سگ نامہ وہیں پر آکر اختتام پزیر ہوتا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا یعنی راقم آپ کو سورتی سوسائٹی کی گلیوں میں اس غیر متوقع خبر کے ساتھ لانا چاہتا ہے کہ کتے کا بیری کتا کے مقولے کے برعکس یہاں کے قدیم رہائش پزیر کتے کتیا نے کسی ڈیل یا ڈھیل کے تحت کچھ عرصہ قبل ایک اور جوڑے کو شریک اقتدار کرلیا ہے کہ
you can park here البتہ پارک کا تلفظ انگریزی کے بجائے عربی لہجے میں کیا ہے جس میں پارک بارک بن گیا ہے اور نووارد جوڑے نے امریکا کے دیے ہوئے معروف نعرے بچے دو ہی اچھے کی جگہ اس سال گلی کوچوں کو چار بچے عطا کیے ہیں جب کہ سعودی عرب میں بیرونیوں پر لگائے سالانہ فی کس ٹیکس کے ہر سال ڈبل ہوجانے کے انداز سے اگلے جھول میں آٹھ کتابچے نظر آئیں گے کہ قدرت نے سینہ مادئہ سگ میں اتنی غذا کا تو اہتمام کیا ہے۔ البتہ اخبار کی اطلاع کے مطابق حکومت سندھ کے وزیر صحت و صفائی نے ایک خصوصی اجلاس میں اعلان کیا ہے کہ حکومت پاگل اور آوارہ کتوں کو ختم کرنے کی مہم شروع کررہی ہے۔ اگلے زمانے میں جب رے بیز ایجاد نہیں ہوئے تھے سگ گزیدہ کی پانی سے خوف زدگی کے پیش نظر چادر پانی میں ڈبو کر لگالی جاتی اور سگ گزیدہ کو اس سے ڈھانپ کر یہ مصرع پڑھ دیا جاتا تھا۔ جا تجھے کشمکش زیست سے آزاد کیا۔ پانی کے خوف سے غالب نے کیا خوب مضمون نکالا ہے۔
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد
ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں
امید ہے پیش رفت کے طور پر ایک کمیشن تشکیل پائے گا جو علوم سگیات، علوم اخلاقیات اور ماہرین امراض دماغ پر مشتمل ہوگا۔ اور پورے ملک کے کتوں کا تفصیلی معائنہ کرکے اُن کی ’’آوارگی‘‘ اور خلل دماغ یعنی پاگل پن کی تصدیق یا تردید کے سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔ اب آپ فارسی کا وہ مقولہ نہ سنانے لگ جائیں کہ تا تریاق از عراق آوردہ شود مارگزیدہ ردہ شود۔ یعنی جتنے عرصے میں عراق سے تریاق یعنی دوا موصول ہوگی سانپ کا ڈسا دم توڑ چکا ہوگا۔ واضح رہے کہ مہم ’’کتا مار‘‘ نہیں ’’کتا سدھار‘‘ ہوگی۔ کہ کتوں کو جان سے مارنے کی صورت میں گرے سے بلیک ہونے کا خدشہ ہے۔ چناں چہ کتوں کا ہڑکایا پن ختم کرنے کے انجکشن لگائے جائیں گے۔ اور اگر یہ مقولہ وردِ زبان کرنا ہی ہے تو مارگزیدہ کی جگہ ’’سگ گزیدہ‘‘ کرلیجیے گا۔ کام تو بہرحال سلیقے ہی سے ہوگا ورنہ اگر کوئی آوارہ و پاگل پن کے عوارض سے پاک کتا اس مہم کی زد میں آگیا تو حکومت انجمن انسداد بے رحمی جانوران کی جانب سے کیے گئے ریفرنسز (مقدمات لغت اردو کے متروکات میں شامل ہوگیا ہے جس طرح جلوس ریلیوں کی زد میں آکر معدوم ہوچکے ہیں)۔
میر تقی میر نے غلط تو نہیں کہا تھا
عیب طول کلام مت کریو
کیا کروں میں سخن سے خوگر تھا