پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اثر کب ہو گا؟

147

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں شدید گراوٹ کا شکار ہیں اور اب کبھی ان کے سابقہ پوزیشن پر آنے کی کوئی امید بھی نہیں ہے ۔ عوام کے شدید دباؤ اور مطالبے پر حکومت نے پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کی ہے ۔ اسے حکومت کی ناکامی کہا جائے یا نجی کمپنیوں اور اداروں کی بدمعاشی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اثر کہیں بھی نظر نہیں آیا ۔ یہ معمولات میں شامل رہا ہے کہ جیسے ہی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ، بجلی اور دیگر سہولتوں کے نرخوںمیں فوری طور پر اضافہ کردیا جاتا ۔ نیپرا تو اس حد تک ظلم کرتی ہے کہ گزشتہ مہینوں سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے اور صارف بیچارہ گزشتہ مہینوں کے بھی بقایاجات بھی ادا کرتا رہتا ہے ۔ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کیے ہوئے دو ماہ ہوگئے مگر ابھی تک حکومت نے بجلی کی قیمتوںمیں نہ تو کمی کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی اس کا اطلاق کمی والی تاریخ سے کیا ہے ۔ اسی طرح گیس کی قیمتوںمیں بھی اس کے باوجود کہ یہ اپنے وطن ہی کی پیداوار ہے ، اس بات پر اضافہ کیا جاتا رہا ہے کہ حکومت نے گیس نکالنے والی کمپنیوں سے عالمی قیمت پر خریدنے کا معاہدہ کررکھا ہے ۔ اب جبکہ عالمی قیمتیں کریش کرگئی ہیں تو پھر اس کا اطلاق اب کیوں نہیں ۔ اسی طرح سی این جی کے صارفین بھی ابھی تک عالمی قیمتوںمیں کمی کے فوائد سے محروم ہیں ۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہیے تھا کہ حکومت پہلے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کرے اور پھر اس کے ساتھ ہی ان تمام اشیاء اور خدمات کی قیمتوںمیں کمی کا اعلان کرے ، جن پر پٹرول ، بجلی اور گیس کے براہ راست اثرات پڑتے ہیں ۔ ان میں ہوائی جہازوں اور ریلوے کے کرایے بھی شامل ہیں ۔ لیکن حکمرانوں کو اس امر سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے کہ کون سا ادارہ ملک کوکتنا لوٹ رہا ہے ۔ عوام کو پہلے ہی کے الیکٹرک جیسے اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہو اہے کہ چاہے جتنا زاید بل وصول کرلو ، کہیں کوئی شنوائی نہیں ہے ۔ وطن عزیز میں جتنی کمزور حکومت ہے ، اتنی تو بنانا ریپبلک میں بھی نہیں ہوتیں ۔ حکمرانوں کو عوام اس لیے منتخب کرکے اقتدارمیں لاتے ہیں کہ وہ عوام کے مفادات کا تحفظ کریں گے ۔ سرکار اپنے فرائض سرانجام دینے کے بجائے نہ صرف لٹیروں کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے بلکہ ان کی فرمائش پر عوام کی باقاعدہ چھترول بھی کی جاتی ہے ۔ ان اداروں کو عوام کو لوٹنے کے لیے قانون کی مدد کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والوں کی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے ۔ سرکار جو کچھ پاکستان میں کررہی ہے ، اتنا تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی اپنے دور اقتدار میں نہیں کیا تھا حالانکہ ایسٹ انڈیا کمپنی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی براہ راست نمائندہ تھی ۔