حکومت 12 سوارب کے پیکج میں اوور سیز پاکستانیوں اور کسانوں کا حصہ رکھے‘ سراج الحق

119
لاہور: امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق منصورہ میں پریس کانفرنس کررہے ہیں، امیر العظیم اور قیصر شریف بھی موجود ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سرا ج الحق نے کہا ہے کہ کورونا متاثرین کی مدد کے لیے مختص کیا گیا 12سو ارب کہاں خرچ ہوا خود حکمرانوں کو بھی معلوم نہیں۔ اس 12سو ارب میں اوورسیز پاکستانیوں اور ٹڈی دل سے متاثر ہ کسانوں کا بھی حصہ ہونا چاہیے۔خیبرپختونخوا کے لاکھوں لوگوں کے لیے ملک کے دوسرے شہروں کے بجائے باچا خان ائرپورٹ کھولا جائے اور ایمرجنسی بنیاد پر فلائٹس کی تعداد میں اضافہ کیاجائے ۔ حکومت نے کورونا کی عالمی وبامیں اوورسیز پاکستانیوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔سعودی عرب اور امارات میں پاکستانیوں کا کوئی پرسان حال نہیں اور پاکستانی سفارتخانے اپنے شہریوں سے کوئی تعاون کرنے کو تیار نہیں۔مختلف ممالک سے ایک لاکھ30 ہزار پاکستانیوں نے واپس آنے کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔پی آئی اے نے جو شیڈول دیا ہے اس کے مطابق 10جون تک صرف 30 ہزار لوگوں کو واپس لایا جائے گا۔ شرم کی بات ہے کہ پی آئی اے ٹکٹ کا 4،5 گنا زیادہ وصول کررہا ہے۔کمیشن مافیا مزدوروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی جیبیں بھر رہا ہے مگر حکومت اندھی گونگی بہری بنی ہوئی ہے۔اوورسیز پاکستانیوں نے مشکل کی ہر گھڑی میں قوم کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی مگر ان پر مصیبت آئی ہے تو حکومت نے آنکھیں پھیر لی ہیں۔ حکومت اوورسیز پاکستانیوں سے قرنطینہ میں رکھنے کا ایک رات کا3 ہزار اور کھانے پینے کی مد میں ایک دن کا15 سو وصول کررہی ہے، جو ظلم کی انتہا ہے۔حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو وطن لائے جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن کراچی،کوئٹہ،لاہور ،پشاور اور اسلام آباد کے ائرپورٹس پر فری قرنطینہ سینٹر بنا کر اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ جس کا ٹیسٹ پازیٹو آئے حکومت کا رویہ بھی اس کے ساتھ پازیٹو ہونا چاہیے مگر حکومت ان کے ساتھ دہشت گردوں جیسا رویہ اختیار کرلیتی ہے۔ آئندہ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات ختم کر کے تعلیم اور صحت پر زیادہ پیسہ خرچ کیا جائے ۔ ٹائیگر فورس کا بڑا شور تھا ، مگر وہ کہیں نظر نہیں آئی ۔ٹائیگر فورس کوٹڈی دل کے خلاف استعمال کیا جائے ۔ شور مچانے اور ڈھول بجانے سے ٹڈی دل بھاگ جاتے ہیں ۔ ٹائیگرز کو ڈھول بجانے اور شور مچانے پر مامور کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل امیر العظیم،سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور امور خارجہ کے قائم مقام ڈائریکٹر عبدالقدوس منہاس بھی موجود تھے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اس وقت اوورسیز پاکستانیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ایک کروڑپاکستانی ملک سے باہر اور حکومت کی توجہ کے مستحق ہیں۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں حالات انتہائی پریشان کن ہیں ۔کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کو مردہ خانوںاوراسپتالوں میں منتقل نہیں کرنے دیا جا رہا۔ پاکستانی سفیروں کی عدم دلچسپی سے اوورسیزپاکستانی بے یارو مددگار ہیں۔پوری کوشش کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں کے وزیرسے رابطہ نہیں ہورہا ۔ حکومت فوری طور پر سمندر پار پاکستانیوں کے معاملات کا نوٹس لے اور انہیں وطن لے کر آئے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کی بد انتظامی کی وجہ سے یہاں مرض بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اوورسیزپاکستانیوں نے ہر چیلنج میں فرنٹ لائن پرآکرملک کا ساتھ دیا ہے۔اب ہماری حکومت نے ان کی طرف سے آنکھیں بندکرلی ہیں۔بیرون ممالک میں ہمارے سفارتخانے لوگوں کے کام نہیں آرہے ۔ سفارتخانوں کا کام صرف 14 اگست کی تقریب منعقد کرنا نہیں بلکہ اپنے ہم وطنوں کی خدمت کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شرم کی بات ہے کہ پی آئی اے کا ٹکٹ ملتا نہیں اور اگر ملتا ہے توکئی گنا زیادہ قیمت پر۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران پوری دنیا نے اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے اقدامات کیے۔ہماری حکومت کو بھی اپنے شہریوں کے لیے انتظامات کرنے چاہیے تھے مگر حکومت سوئی رہی ۔پی آئی اے کے پاس فنڈ نہیں تو حکومت کو 12 سو ارب کے کورونا فنڈ سے اوورسیز پاکستانیوںکو واپس لاناچاہیے تھا۔سفارتخانوں کوچاہیے ایمرجنسی یونٹ قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہمارے سفارتخانے اتنے غریب ہیں کہ پاکستانیوں کی لاشیں واپس نہیںلاسکتے ۔ حکومت سے گزارش ہے جو لوگ واپس آرہے ہیں ان کو مجرم سمجھ کر نہ پیش آئے بلکہ ان کے ساتھ مہمانوں کی طرح سلوک کیا جائے۔قرنطینہ میں اوورسیز کو سہولیات دی جائیں۔اوورسیز لاوارث نہیں ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے حکومت پی آئی اے کمیشن کو ختم کرے۔لیبارٹریز سے فری ٹیسٹ کرائے جائیں۔ قرنطینہ میںفری سہولیات دی جائیں۔بے روزگار ہونے والوں کو آسان شرائط پر بلاسود قرضے دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران خود تسلیم کرتے ہیں کہ ایک کروڑ 80 لاکھ لوگ بے روز گار ہوگئے ہیں اورخط غربت سے لاکھوں لوگ مزید نیچے آگئے ہیں۔12 سو ارب کہاںلگایا گیا ہے بیرونی فنڈ کہا ںخرچ کیا گیا ہے۔کیا یہ لوگ اس فنڈ کے حق دار نہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام حکومتی ڈیٹا پر یقین نہیں رکھتے ۔حکومت ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان نہیںدے سکی۔حالانکہ حکومت کا سارا زور کورونا پر ہے اورایسا لگتا ہے کہ دوسری بیماریوں نے چھٹی کر لی ہے۔