پی آر سی کا نیوکلیئر ریسرچ یونیورسٹی بنانے کا مطالبہ

128

آن لائن کانفرنس کے دوران مسئلہ کشمیر اوربنگلادیش میں محصور پاکستانیوں کے مسائل کے حل پر قرادادیں منظور مجلس محصورین (پی آر سی) نے پاکستان کے جوہری دھماکوں کو 22 سال مکمل ہونے کے موقع پر ’’ایٹمی ٹیکنالوجی، ہماری ضرورت اور ذمے داری‘‘ کے عنوان سے ایک آن لائن کانفرنس کا انعقاد کیا، جس کی صدارت معروف دانشور، اسکالراور سابق سعودی سفارت کار ڈاکٹر علی الغامدی نے کی۔ انہوں نے خطاب میں کہا کہ 1998ء کا ایٹمی دھماکا پاکستان کے دفاع کے لیے ایک اہم سنگ میل تھا۔ ایک مضبوط پاکستان پورے عالم اسلام کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کو عظیم کارنامہ انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔
ڈاکٹر علی الغامدی نے مزید کہا کہ پاکستان نے جوہری ٹیکنالوجی سے بجلی، پانی، زراعت، طب اور دیگر ضرویاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے نہ کوئی ادارہ قائم کیا اور نہ کوئی اور فائدہ اٹھایا، جو کہ افسوس ناک ہے۔اس ادارے کے قیام سے نہ صرف پاکستان کو بے شمار فوائد مل سکتے ہیں بلکہ یہ پوری مسلم دنیا کی خدمت بھی کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عظیم جوہری ریاست کو بنگلادیش میں گزشتہ 49 برس سے محصور ڈھائی لاکھ محب وطن پاکستانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ امید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ان پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے جلد ہی موثر فیصلے کریں گے۔ ڈاکٹر علی الغامدی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے پر بھارتی فوج اور بھارتی حکومت کے اقدامات کی بھی مذمت کی اور تجویز کیا کہ مظلوم کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینا ہی مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے بھارت میں بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور مظالم پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
پی آر سی کے کنوینیئر سید احسان الحق نے آن لائن اجلاس میں تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم پاکستان کے جوہری پروگرام سے دیگر فوائد حاصل نہیں کر سکے، اس کے لیے حکومت کو چاہیے کہ حکمت عملی بنائے اور بجلی، زراعت و طب سمیت دیگر شعبوں میں بہتری کے لیے منصوبے بنائے جائیں۔
انجینئر سید نیازاحمد نے کہا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کا صحیح مقام دیاجائے۔ جموں و کشمیر کمیٹی اوورسیز کے مصطفیٰ خان نے پاکستانی قوم کو یومِ تکبیر کی مبارکباد دیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر کی صحت اور طویل العمری کی دعا کی۔ صحافی محمد عامل عثمانی نے کہا کہ میں مختصرا یہ کہنا چاہوں گا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنایا اور ہمیں آزادی دلوائی اور ڈاکٹر قدیر خان نے ہمیں آزادی کی ضمانت فراہم کی۔
دیگر مقررین میں پاک سعودی فرینڈز شپ کے خالد رشید، ایڈوکیٹ الطاف ملک، محمد امانت اللہ، امیرمحمد خان، جمیل راٹھور، ڈاکٹر سعد ہاشمی، سید وصی امام، عبدالرشید خان، حامد الاسالم خان، اسلم تنویر، ڈاکٹرعبدالعلیم خان ،انجینئر نصیر احمد ، سید غضنفر حسن اور سید مسرت خلیل نے بھی شامل تھے، جنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیرکو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
آخر میں سامعین نے مندرجہ ذیل قراردادیں کثرت رائے سے منظور کیں۔
1۔ ہم وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی سربراہی میں ’’نیوکلیئر ریسرچ یونیورسٹی‘‘ قائم کی جائے، جس میں جوہری ٹیکنالوجی کے ذریعے بجلی، زراعت، طب اور صنعتی ضروریات کو فائدہ پہنچانے کی تعلیم دی جائے۔ ساتھ ہی اس سے قوم کو بے شمار فوائد حاصل ہوں گے بلکہ ملک کو زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
2۔ پاکستانی حکومت اسلامی تعاون تنظیم، اقوام متحدہ، امریکا اوردیگر عالمی پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارت پردباؤ ڈال کر مقبوضہ کشمیر اور خود بھارت کے اندر مسلمانوں پر مظالم رکوائے اور عوام کی مرضی کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کا اہتمام کرے۔ خطے میں امن کی خاطر بھارت کو فوری طور پر اپنی فوج کو کشمیر سے نکالنی چاہیے۔
3۔ تمام مذاکرات میں کشمیری رہنما سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو شامل کیا جائے۔
4۔ ہم وزیر اعظم عمران خان سےاپیل کرتے ہیں کہ وہ بنگلادیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی اور بحالی کا عمل دوبارہ شروع کریں۔
5۔ فنڈ کی قلت کو دُور کرنے کے لیے پی آر سی کی تجویز ’’سیلف فنانس کی بنیاد پر پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی آبادکاری‘‘ پر عمل درآمد کیا جائے۔
6۔ ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمیشن کو پاکستانیوں کی خوراک ، صحت اور زندگیکی حفاظت کا خیال کرنے کا پابند کیا جائے۔
7۔ اسلامی تعاون تنظیم پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی آبادکاری کا معاملہ اپنے ایجنڈے میں شامل کرے۔