بھارت کی ٹوٹ پھوٹ میں مودی سرکار کی معاونت

62

سیانے کہتے ہیں ’’من میں چور ہو تو معمولی کھٹکے سے بھی دل دہل جاتا ہے، بندہ ڈر جاتا ہے اور خوف طاری ہو جاتا ہے‘‘۔ حالات بتا رہے ہیں کہ آج کل بھارت بھی اسی کیفیت کا شکار ہے، بلکہ بری طرح خوف سے دوچار ہے۔ بھارت کے اپنے مَن میں چور ہے۔ مودی سرکار پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اپنے ناپاک عزائم پورے کرنے میں کوشاں ہے، خصوصاً پاکستان کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہے۔ کبھی ایل او سی کی خلاف ورزی تو کبھی پاکستان پر بے بنیاد الزامات معمول بن چکے ہیں۔ اپنی خامیوں، کمزوریوں اور نااہلیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی بھارتی روایت تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ بھارتی حکمران اپنے عوام کو مطمئن کرنے کےلیے ہمیشہ جھوٹ کا سہارا لیتے رہے ہیں۔
بھارت کے دل میں دو قسم کے چور ہیں: ایک ملک میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور دوسرا پاکستان کے خلاف سازشیں اور بیشتر میں شرمناک ناکامی۔ جہاں تک بھارت کے اندر کی صورتحال کی بات ہے تو اس میں اسرائیلی مشوروں سے مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی پر ہونے والی جارحیت اہم ہے۔ بھارت مسلمانوں پر مظالم کے جو پہاڑ توڑ رہا ہے، ان کے ردعمل میں وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان ضرور بدلہ لے گا۔ مسلمانوں پر چونکہ بلاجواز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، انہیں بے جرم قتل کیا جا رہا ہے، گھروں اور دیگر املاک کو نذرآتش کیا جا رہا ہے، اس لیے اسے خوف دامن گیر رہتا ہے۔
اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بھی اسے پریشان رکھتے ہیں۔ ظالم کو کبھی چین کی نیند نہیں آتی، جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے، اتنا ہی بڑا بزدل بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے خوف سے مجبور ہوکر مزید ظلم ڈھاتا ہے۔ پھر اس ظلم کے ردعمل سے خوفزدہ بھی رہتا ہے۔ آئے روز ایل او سی کے قریب شہری آبادی پر گولہ باری بھارت کی عادت بن چکی ہے اور ساتھ ہی اس کا اندرونی خوف بھی اسے چین نہیں لینے دیتا کہ کہیں پاکستان اس کا بدلہ لینے کےلیے بھارت ہی میں نہ گھس آئے۔
گزشتہ دنوں ایک کبوتر کو بھارتی فوج نے پکڑ لیا۔ بے چارے بے زبان کبوتر پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ پاکستان کےلیے جاسوسی کرنے بھارت آیا تھا۔ بھارت کے کئی ٹی وی چینلز نے اس خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کیا۔ ہمیشہ کی طرح پاکستان کے خلاف بے تکا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔ اینکرز نے پاکستان کو دھمکانے کےلیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا یہاں تک کہ کبوتر کو دہشت گرد قرار دے دیا۔اسی طرح گزشتہ برس بھارتی پنجاب کے علاقے میں ایک غبارہ گرا، جس پر پاکستان زندہ باد اور عید مبارک لکھا ہوا تھا۔ بھارتی میڈیا نے اس پر بھی شور مچایا تھا کہ پاکستان کی جانب سے یہ دہشت گرد غبارہ بھارت میں آیا ہے۔ ٹی وی چینلز پر اس طرح کی خبریں اب معمول کا حصہ بن چکی ہیں اور خود بھارتی عوام بھی اس کا یقین نہیں کرتے، ہاں حکمران یکطرفہ طور پر خود کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ میڈیا ہمارا ہم آواز ہے۔
بھارت میں انتہا پسند ہندو طبقہ پاکستان سے شدید نفرت کی بیماری کا شکار ہے اور یہ اس حد تک ہے کہ پاکستان کا نام تک سننا گوارہ نہیں کرتے۔ اس میں سب سے زیادہ کردار بھارت کی دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے سر پر ہاتھ رکھے سیاسی جماعتیں خصوصاً بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی ہندوتوا نظریے کو بڑھاوا دیتے ہوئے ملک میں نفرت کا پرچار کررہی ہے۔ ہندو مسلم فسادات اور اسی بنیاد پر نفرت کی سیاست سے بھارتی تاریخ بھری پڑی ہے۔
حال ہی میں اتر پردیش کے شہر گورکھپور میں ایک خاتون ٹیچر کو محض اس لیے معطل کر دیا گیا کہ اس نے بچوں کو آن لائن کلاس پڑھاتے ہوئے اسم کی چند مثالیں دیں جن میں پاکستان کا ذکر کیا گیا۔ پبلک اسکول کی ٹیچر شاداب خانم نے بچوں کو آن لائن پڑھاتے ہوئے مثالوں میں پاکستان سے متعلق مثبت باتیں کیں، جس پر اسکول انتظامیہ نے اسے بدترین غلطی قرار دیتے ہوئے انہیں ملازمت سے فارغ کردیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بھارت میں پاکستان اور مسلمانوں سے نفرت کا زہر اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اسکول میں زیر تعلیم طلبہ کے والدین نے بھی خاتون ٹیچر پر اعتراض اٹھائے۔
سیانے کہتے ہیں کہ فطرت نہیں بدلی جا سکتی، لہٰذا ہندوؤں کی فطرت میں مسلمانوں سے نفرت ہے، جسے مودی سرکار نے مزید زہر آلود کرکے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے، جس کے نتیجے میں یہ انسانیت تو کیا، درندوں سے بھی بدتر ہوچکے ہیں۔ محض جھوٹ بول کر، افواہیں پھیلا کر، جھوٹے الزامات عائد کرکے اور یہاں تک کہ کسی وبائی بیماری کے پھیلنے کا ذمے دار بھی مسلمانوں کو قرار دے کر سرعام تشدد اور قتل جیسے واقعات ہر روز بھارت کے کسی علاقے میں ضرور رونما ہوتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں مودی سرکار کا مقصد ہی لوگوں کو اپنے سیاہ کرتوتوں کے جال میں پھنسانا ہو، وہاں لوگوں کی آنکھوں پر تاریک پردہ چھا جانا فطری بات لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں خصوصاً مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں سے کھلی نفرت کا پرچار کیا جا رہا ہے اور انہیں واضح الفاظ میں ملک چھوڑ کر چلے جانے ، اور بصورت دیگر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ خواتین کی عزت پورے ملک میں محفوظ نہیں۔ دارالحکومت سمیت بھارت بھر میں عصمت دری کے ایک دن میں کئی واقعات ریکارڈ پر آتے ہیں جب کہ اکثر خوف اور دباؤ میں آکر رپورٹ ہی نہیں کرائے جاتے۔ بی جے پی سے واہستہ بھارتی سیاست دان ان تمام جرائم کی پشت پناہی کھلے عام اپنے بیانات سے کرتے رہتے ہیں۔
بھارت کو لگام ڈالے رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے اس کے اندرون و بیرون ملک مظالم کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔ بھارت میں اندرونی طور پر علاحدگی کی کئی تحریکیں جنم لے چکی ہیں اور مودی سرکار کی گھناؤنی حرکتیں ان کی معاون ثابت ہونے کے نتیجے میں بھارت کی تقسیم اب زیادہ دور دکھائی نہیں دیتی۔