سگ نامہ (قسط ۲)

412

بات کتے کے بھونکنے کی ایک خاص باریک لے کی طرح کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچی تو ذکر تھا انگریزوں کی وراثت، علامہ اقبال نے اس وراثت کی قباحت کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے:
دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا
لیکن کالے انگریز جو اپنے آقائوں کی ہرادا، پردل ہار بیٹھے تھے وہ اس وراثت سے کس دل سے گریزاں ہوتے اس طبقے کے مرد تو مرد خواتین تک اس مقدس مخلوق کی زلفِ گرہ گیر کی طرح ذیل خمدار (کتے کی مڑی ہوئی دم جو سوسال بھی نلکی میں رہ کر سیدھی نہ ہو) کی اسیر تھیں بقول لسانُ العصر اکبر الٰہ آبادی:
لندن سے ہوکے آئی ہیں میڈم تو خیر سے
کتا بھی ساتھ لائی ہیں شوہر کے باوجود
میڈم جس لندن سے آئی تھیں وہاں کتوں سے خواتین کی شیفتگی کا واقعہ راقم کی نظر سے ایک اخبار میں خبر کے طور پر گزرا تھا کہ وہاں ایک خاتون شاپنگ کے لیے گھر سے نکلیں تو پیچھے اپنے پہلوٹھی کے معصوم بچے اور اپنے پیارے کتے کو چھوڑ گئیں، بچے کو چاہے فیڈر نہ بھی دی ہو تو کتے کے شغل کے لیے یقینا پلاسٹک کی ہڈیاں اور چھیچھڑے اس کے سامنے بکھیر گئی ہوں گی لیکن اُن کے جانے کے بعد کہ کتا کتا تھا کوئی گدھا نہ تھا، دل ہی دل میں کہا ہوگا کہ؎
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
جب اس کے سامنے پلاسٹک کی سخت ہڈیاں اور گوشت پڑا ہو اور دوسری طرف نرم نرم گرم گرم اور سُرخ سُرخ گوشت تو اس کا انتخاب کیا ہوسکتا تھا۔ ظاہر ہے نوزائیدہ کا نرم ملائم رسیلا گوشت نوش جان کرتے ہوئے بچہ تکلیف سے اپنی ننھی آواز میں چیخا بھی ہوگا لیکن جس طرح چینیوں کو اپنی لذت کام ودہن کے آگے کتے کے پلوں کی چیخ پیخ سے سروکار نہیں ہوتا، کتے پر بچے کی منحنی آواز کا کیا اثر ہوتا۔ اس معاملے میں ہمارے ملک کے کتے زیادہ جری اور بے باک ہیں کہ جو کہ انگریز کتے نے درون خانہ کیا تھا وہ کام یہ کتے برسر عام کرتے ہیں۔ واقعہ کیوں کہ غیر معمولی تھا اس لیے اس کی بازگشت رائونڈ پر موجود پولیس کو بھی ہوگئی اور انصاف تو بقول کسے اندھا ہوتا ہے۔ اس کے سامنے انسان جانور برابر ہیں۔ البتہ بینائی سے محرومی کی تلافی وہ ہاتھوں سے ملزمان کی جیب ٹٹول کر امیر و غریب کا تعین کرلیتا ہے۔ اپنے ملک کی عدلیہ کی بات نہیں کررہا کہ بقول کسے احتیاط اچھی، جج نے کتے کی مالکہ کو اس کے لیے ضمانت قبل از گرفتاری کی بھی مہلت نہیں دی اور کتے کو گولی مار دینے کا حکم دیا اور اپنے سامنے ہی اس حکم کی تعمیل بھی کرادی کہ اگر ریمانڈ دیا جاتا تو انجمن انسداد بے رحمی جانور ان کی اپیل آجاتی۔ اب وہ خاتون جو اپنے پیارے کتے کو گود میں اور مہنگے وکیل کو ساتھ لائی تھی گن فائر کے ساتھ چیخ اُٹھی یہ ظلم ہے! پھر روتے ہوئے نوحہ گر ہوئی کہ بچے تو میں ایسے دس پیدا کرلوں گی مگر ایسی نایاب نسل کا کتا مجھے اب کہاں ملے گا۔ راقم کی حاشیہ آرائی سے قطع نظر خبر واقعی یہی تھی۔ بالی ووڈ والٹ ڈزنی کا تیار کردہ ایک ڈراما بھی نظر سے گزرا تھا۔ Dog King جس میں آنجہانی بادشاہ کی وصیت کے مطابق اس کے محبوب کتے پر تاج زرّیں رکھا گیا تھا۔ ہم چوں کہ اوائل عمر ہی میں خواجہ سگ پرست کی داستان پڑھ چکے تھے اس لیے اس اضافے پر ذرا متعجب نہیں ہوئے، البتہ یہ یاد آگیا کہ ہمارے ادب میں بھی نامور ادیبوں نے کتوں کو نظر انداز نہیں کیا ہے۔ پطرس بخاری کے اس عنوان پر لکھے گئے مضمون کا ایک فقرہ یاد آرہا ہے جو کچھ یوں ہے کہ کہا جاتا ہے کہ جو بھونکتے ہیں وہ کاٹتے نہیں (واضح رہے کہ پطرس کے زمانے میں نیب جیسا کوئی ادارہ وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس لیے اس محاورے کا نیب سے دور کا بھی واسطہ نہیں) لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ یک لخت بھونکنا چھوڑ کر کاٹنا شروع کردیں۔ ادیب شہیر مرحوم مشتاق یوسفی صاحب نے بھی اپنے ’’سیزر‘‘ نامی پالتو کتے پر ایک معرکہ آرا مضمون لکھا ہے جس کی حیاتِ مستعار کے مختلف مراحل اور درونِ خانہ مہمانوں کی ’’تواضع‘‘ سے لے کر ہر بیرونِ در افعال کی بھی پردہ دری کی گئی ہے لیکن مضمون کا آخری حصہ قاری کو تقریباً روہانسا کردیتا ہے۔ جب سیزر کی موت پر گھر کے بچوں کے رنج و الم اور آنجہانی کی بوگن ویلیا(پھولوں کی خاردار بیل) کے تھانولے میں قبر بنا کر اسی بیل کے پھول قبر پر چڑھاتے ہوئے بچوں کی غم انگیز کیفیت بیان کی گئی ہے۔ سیزر سے قطع نظر بھی ایک اور مرغوب سگ خاندان کا ذکر بھی خالی از دلچسپی نہیں جو کچھ یوں ہے کہ سارا خاندان اپنی طویل گاڑی میں بیٹھ کر چند دن تفریحی مقامات پر گزارنے جارہا تھا اور گاڑی میں دادا جان کے ساتھ اُس کتے کو بھی گاڑی میں بٹھایا جارہا تھا تو دادا جان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا ’’میں اس سالے کتے کے ساتھ بیٹھ کر جائوں گا‘‘ اور اس بات پر اَڑ بیٹھے تھے، تو مجبوراً خاندان کو دادا جان کو گھریلو خادم کے سپرد کرکے جانا پڑا تھا (جسے گھر کے دیگر کاموں سے فرصت کے علاوہ کتے کی دیکھ بھال سے بھی فراغت ملنی تھی۔ راقم) یہ سیرز کے علاوہ کسی اور کتے کا ذکر کیا گیا ہے۔ فارسی کا شعر ہے ؎
خوشترآں باید کہ سّردلبراں
گفتہ آید در حدیثِ دیگراں
یعنی بہتر یہ ہے کہ اپنے محبوب کا ذِکر دوسروں کے تذکرے کے طور پر کیا جائے۔
مرحوم یوسفی صاحب نے بچوں کی نوعمری میں سیزر سے یگانگت اور ہوشمندی کی عمر میں اردو زبان سے بیگانگی کا ذِکر کرکے اولاد کے ہمہ گیر طرزِ فکر کی خوب عکاسی کی ہے۔ اولاد تو پھر اولاد ہوتی ہے، مجنوں کو تو لیلیٰ کا کتا بھی پیارا تھا۔ چناں چہ ہم اس تذکرے کا رُخ موڑ کر شیخ سعدی کی طرف چلتے ہیں جنہوں نے کہا تھا اس بستی کے لوگ بھی کیا ظالم ہیں کہ پتھروں کو جما کر رکھتے ہیں (برف باری کا موسم تھا) اور کتوں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ فارسی کے مشہور ومعروف شاعر (لیکن اب تو خود فارسی غیر معروف ہوچکی ہے) نے اپنے معاصر رقیبوں، جن کا ذکر پہلے آچکا ہے کے بارے میں کہا تھا:
عرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں
آواز سگاں کم نہ کُند رزق گدارا
عرفی! تو رقیبوں کے لعن طعن کی ذرا فکر نہ کر کہ کتوں کے بھونکنے سے منگتے کا رزق کم نہیں ہوتا۔ چلیے انگلستان و ایران کی ہانکنے کے بعد واپس اپنے ملک واپس آجاتے ہیں کہ بقول انگریزوں کے۔ مشرق ہو یا مغرب گھر اپنا ہی سب سے اچھا ہے۔ (East or west home is best) جس کا ترجمہ سلیس اردو میں یوں ہوگا کہ جو بات چھجو کے چوبارے نہ بلخ نہ بخارے (چو بارہ مکان کا بالائی چھوٹا کمرہ) لیکن مشکل یہ ہے کہ جسے ہم اپنا گھر کہہ رہے ہیں وہ ہے بھی گھر یا مکان کہ بمطابق جنابِ افتخار عارف ہم بھی دعا گو ہیں کہ بلحاظِ معیشت و سیاست معیشت یہ مغربی گھس پیٹھیوں کا مکان ہمارا گھر ہوجائے۔
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے