ایک اور آفت!

512

ڈاکٹر طاہر مسعود
ابھی ہم کورونا وائرس کے عفریت سے پوری طرح نمٹنے نہ پائے تھے کہ ہمارے کھیتوں کھلیانوں پر ٹڈی دل کا حملہ ہوگیا اور ہماری فصلیں تباہ و برباد ہوگئیں۔ اس حملے کا منظر ٹیلی وژن اسکرین پر مختلف چینلوں نے دکھایا اور اقوام متحدہ کا یہ انتباہ بھی ٹیلی کاسٹ کیا کہ ٹڈی دل کے حملے سے ہمارے ملک کو کتنے بڑے نقصان کا سامنا ہوگا۔ ماہرین کی یہ پیش گوئی بھی کہ فصلوں کے تباہ ہوجانے سے ملک کو غذائی قلت کا مسئلہ درپیش ہوگا یہاں تک کہ قحط پڑنے کا بھی اندیشہ ہے۔ جمعرات کی شب چینلوں پر ٹڈی دل کے حملے پر جو ہاہا کار مچی اس کی تفصیل جاننے کے لیے جمعہ کی صبح ہم نے اخبار اُٹھایا تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ملک کے سب سے بڑے اخبار ہونے کے دعوے دار اخبار میں ٹڈی دل کے حملے اور ہماری فصلوں کی تباہی کی سرے سے کوئی خبر ہی نہ تھی۔ پچھلے صفحے پر وفاقی وزیر اطلاعات کا بس دو کالمی بیان چھپا ہوا تھا کہ جولائی میں ٹڈی دل کا بڑا حملہ ہوگا۔ اخبار کی بے خبری اور غفلت سے ہم نے قیاس کیا کہ چوں کہ اخبار کے ایڈیٹر انچیف اِن دنوں گرفتار ہیں تو اخبار میں خبروں کی نگرانی کے امور نظر انداز ہورہے ہیں اس لیے اخبار سے کوئی شکوہ شکایت فضول ہے۔
جہاں تک معاملہ ٹڈی دل کے حملے کا ہے، وفاق اور صوبہ سندھ میں ایک نیا تنازع چھڑ گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ٹڈی دل کے حملے کی پیش گوئی پہلے ہی کردی گئی تھی لیکن حکومت کے ذمے داروں نے لاپروائی اور غفلت کا مظاہرہ کیا اور اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس بارے میں ایک شکایتی خط بھی وزیراعظم کو ارسال کردیا ہے۔ وزیراعظم کی گزشتہ ڈیڑھ دو مہینے سے ساری توجہ کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے پر مرکوز ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ ہر معاملے میں ان کو ذمے دار ٹھیرانا درست نہیں۔ حکومت کی وزارتیں اور محکمے اپنی اپنی جگہ کام کررہے ہیں۔ ٹڈی دل کے حملے کا واسطہ جس وزارت اور محکمے سے ہے، یہ ان کی ذمے داری تھی۔ ہاں وزیراعظم پر یہ ذمے داری ضرور عاید ہوتی ہے کہ وہ اس وزارت اور اس کے ذمے داروں سے باز پرس کریں اور اس حملے کے تدارک کا اہتمام کریں۔
لوگوں کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ملک پر یکے بعد دیگرے جو مصیبتیں ٹوٹ رہی ہیں، ان کی وجہ کیا ہے؟ عید سے پہلے پی آئی اے کے المناک حادثے میں ہونے والی ناگہانی اموات اور اس کے فوراً بعد ایک اور آسمانی آفت ٹڈی دل کی صورت میں جس سے قحط کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے یہ سارے حادثے اور سانحے کیا ہمیں خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے ناکافی ہیں؟ ہم متواتر و مسلسل یہ لکھ رہے ہیں کہ کورونا کا جرثومہ دنیا کو اور خود ہمارے حالات اور معاملات کو بدلنے کے لیے آیا ہے اور یہ اس وقت تک ہمارے درمیان رہے گا جب تک ہم اپنے آپ کو بدلنے کے لیے ذہنی اور قلبی طور پر آمادہ نہ ہوجائیں۔ لیکن اب ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ تبدیلی کا امکان معدوم پا کر قدرت نے ہمیں کچھ اور امتحانوں اور آزمائشوں میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کورونا وائرس کے بعد ٹڈی دل کا عفریت ہمارے لیے ایک آزمائش اور عذاب کی ایک صورت ہے۔ ممکن ہے یہ امکان ان لوگوں کے لیے جو عقل سے سوچتے ہیں اور ہر واقعے کے عقلی تجزیے ہی پر اعتبار کرتے ہیں، غیر حقیقت پسندانہ ہو۔ اور سچ تو یہ ہے کہ عذاب یا آزمائش کے کسی واقعے کا ہونا ایک ایسا معاملہ ہے جس کا ٹھوس ثبوت ہمارے پاس بھی نہیں۔ یعنی ایسا ثبوت اور ایسی دلیل جو عقل کو قائل کردے۔ ساری بات تو یہ ہے کہ ہم کسی معاملے پر غور و فکر کرنے کے لیے کون سا زاویہ نظر قبول کرتے ہیں۔ دنیا اور زندگی کے حقائق سبب اور نتیجے یا علّت و معلول کی ڈور سے بندھے ہیں اور انہیں سمجھنے کا شعور ہمیں عقل دیتی ہے۔ لیکن عقل کی مجبوری یہ ہے کہ وہ صرف معلوم حقیقتوں تک رسائی رکھتی ہے۔ نامعلوم حقائق تک پہنچنے کی اس میں طاقت نہیں۔ اور وہاں تک رسائی میں اس کے پَر جلتے ہیں۔ البتہ جب عقل اپنی نارسائی اور اپنی محدودیت کا اعتراف کرلے اور مان لے کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں براہ راست قدرت دخیل ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے قدرت ہی کے حکم اور فیصلے سے ہوتا ہے۔ اس زاویہ نظر کو اختیار کرنے سے عقل کو یہ قوت حاصل ہوجاتی ہے کہ وہ واقعات کے ظاہری اسباب و محرکات کو جاننے کے لیے ایک باطنی تعبیر پر بھروسا کرنے لگے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ظاہر کی دنیا کے واقعات کو باطنی آنکھ سے دیکھنے اور سمجھنے لگے۔ عقل جب یہ مقام پالیتی ہے تو اسے حقیقت کو سمجھنے کی ایک مابعد الطبیعاتی صلاحیت حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن جب تک عقل ’’خبر‘‘ کی مدد سے واقعات کا تجزیہ کرتی رہتی ہے وہ اُس ’’نظر‘‘ سے محروم رہتی ہے جو کسی واقعے کے اصل سبب اور محرک اصلی کو منکشف کردینے کی استعداد سے بہرہ ور ہو۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے کچھ اسباب تو ظاہری ہیں اور کچھ اسباب باطنی ہیں۔ ظاہری اسباب ہر ایک کو نظر آسکتے ہیں اور سمجھ میں آسکتے ہیں لیکن باطنی اسباب صرف ان ہی کو دکھائی دیتے ہیں جو اپنی عقل کو اس زاویہ نگاہ کو اختیار کرنے کی تربیت سے ہمکنار کردیں جس زاویہ نگاہ کی طرف ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں۔
پاکستان کا قیام تاریخ کا علم رکھنے والوں کے نزدیک قدرت کا ایک عظیم معجزہ ہے۔ اس معجزے کو روبہ عمل لانے کے لیے قدرت نے ہمیں جو بطل جلیل عطا کیے ان میں ایک کا تعلق قانون و سیاست سے اور دوسرے کا شعر و ادب اور فلسفہ والٰہیات سے تھا۔ میرا اشارہ قائد اعظم اور حکیم الامت علامہ اقبال کی طرف ہے۔ ان دونوں کی فکری مساعی اور سیاسی جدوجہد سے یہ ملک معرض وجود میں آگیا۔ لیکن جس مقصد کے لیے یہ ملک وجود میں آیا وہ نہ صرف ہنوز تشنہ تکمیل ہے بلکہ ستر پچھتر برسوں میں خائن اور بد دیانت حکومتوں نے اس ملک کو اس بدحالی سے دوچار کیا کہ اس کے عذاب کو ہم بھگتتے چلے آرہے ہیں۔ اس کی ذمے داری صرف حکومتوں ہی پر عاید نہیں ہوتی عوام پر اور اس کے تعلیم یافتہ طبقے پر بھی یہ ذمے داری آتی ہے کہ ان کی اخلاقی، مذہبی اور ذہنی حالت ہی ایسی رہی کہ بددیانت حکومتیں ان پر باآسانی مسلط ہوئیں اور جنہوں نے اس ملک کے نہ صرف دو ٹکڑے کیے بلکہ ہر شعبہ زندگی کو برباد کرکے رکھ دیا۔ عرصہ ہائے دراز کے بعد ایک حکومت ’’تبدیلی‘‘ کے نعرے کے ساتھ برسراقتدار آئی ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ اس حکومت کے اندر بھی ذمے داران سب کے سب ایسے نہیں جن کے ہاتھ اور دامن صاف ہوں۔ قدرت نے یہ ملک ایک معجزے کے ذریعے اس لیے قائم نہیں کیا تھا کہ اسے گدھ نوچ نوچ کر کھالیں، اس کے سارے اداروں کو دیمک چاٹ جائے اور جن لوگوں کی عظیم قربانیوں سے یہ ملک قائم ہوا، ان کا خون اور ان کا ایثار و قربانی رائیگاں چلی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سارے حکمران جنہوں نے اس ملک سے بے وفائی کی ان کا انجام عبرت ناک ہوا، کسی کو جلاوطن ہونا پڑا، کوئی مفلوج ہوا، کسی کو تختہ دار پر چڑھنا پڑا اور کوئی طیارے کی تباہی میں ایسا ہلاک ہوا کہ ٹھیک سے دفن ہونا بھی نصیب نہ ہوا۔ آج بھی اس کے حالیہ حکمرانوں کے انجام پر غور کرلیجیے کہ بیماری اور وطن سے دوری ہی جن کا مقدر ہے۔ یہ ساری شہادتیں اتنی واضح ہیں کہ ان کو ماننے کے لیے مزید کسی عقلی دلیل کی ضرورت نہیں۔ میرا گمان ہے کہ قدرت نے موجودہ حکومت کو بھی ایک موقع عطا کیا ہے، اگر موجودہ حکومت اس موقع سے فائدہ اٹھاتی ہے اور پورے خلوص اور جانثاری سے اس ملک پر ترقی و تعمیر کے دروازے کھولتی ہے تو یہ حکومت مدت پوری کرلے گی ورنہ اسے بھی پچھلی حکومتوں کی طرح بُرے انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
کورونا وائرس کے بعد ٹڈی دل کا حملہ ہم لوگوں کو ایک بار پھر خود اپنی حالت پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، اپنی اخلاقی حالت پر غور کرنے کا۔ ورنہ ہمیں بھی تیار رہنا چاہیے اس تباہی و بربادی کے لیے جو پچھلی امتوں کو درپیش ہوئیں اور ان امتوں کا سب سے بڑا عیب یہی تھا کہ وہ دیکھ کر بھی نہیں دیکھتی تھیں اور سن کر بھی نہیں سنتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی کہ دل تھے مگر محسوس کرنے سے عاری تھے۔
ہماری باتیں ناصحانہ ضرور ہیں اور طبیعتیں نصیحت کو قبول کرنے پر مائل ہی کب ہوتی ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ حقائق کچھ ایسے ہی ہیں۔ کورونا وائرس نے جس طرح عبادت گاہوں کو ویران کردیا ہے اور جو فاصلے ہمارے درمیان قائم کردیے گئے ہیں اور جس طرح ہمیں ماسک پہننا اور بار بار ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے اس میں بھی قدرت کی نشانیاں ہیں، اب یہ نشانیاں ہمیں نظر نہ آئیں تو پھر ٹڈی دل کی صورت میں اور عذاب بھی آسکتے ہیں۔ پس عبرت ہے دیکھنے والوں کے لیے!