بجٹ سے ڈرنا ہے یا لڑنا ہے

196

پاکستانی حکومت کو آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر چلانے والے غیر ملکی ماہرین کو اندازہ نہیں تھا کہ کورونا وائرس ان کے اور عالمی ادارے کے سارے منصوبوں کو خاک میں ملا دے گا۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ کورونا ہی کی آڑ میں ہمارے حکمران ایک نہایت سخت بجٹ لانے جا رہے ہیں۔ پیش بندی کے طور پر یہ خبریں جاری کروائی گئی ہیں کہ 9 ماہ میں حکومت نے قرضوں کے ادائیگی اور دفاع پر 27 سو ارب روپے خرچ کر دیے ہیں جبکہ صوبوں کو بھی کھربوں روپے منتقل کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ اتوار ہی کے اخبار میں یہ خبر بھی ہے کہ نئے بجٹ میں اہداف کم کیے جا رہے ہیں۔ اصل خطرے کی گھنٹی یہ ہے کہ حکومت قرض کی مے نوشی کو سارے مسائل کا حل سمجھ کر مزید 15 ارب ڈالر کا تاریخی قرضہ لینے جا رہی ہے۔ یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ ہوگا۔ منصوبہ بندی اس طرح کی جا رہی ہے کہ 10 ارب ڈالر سے پرانے قرض اتارے جائیں گے اور باقی رقم سے زرمبادلہ کے زخائر مستحکم کیے جا ئیں گے۔ لیکن کیا ایسا ہو سکے گا، کیا معاشی ماہرین کوئی سند ڈبلیو ایچ او سے لے کر آئے ہیں کہ وہ اگلی وبا نہیں آنے دے گی۔ دوسری بات بلکہ پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان کی کسی حکومت نے بین الاقوامی اداروں سے لیے گئے قرضے ان مدوں میں کبھی استعمال ہی نہیں کیے جن مدات میں وہ قرضے لیے جاتے ہیں۔ جتنے قرض پاکستانی حکمران لے چکے اور جتنی امداد لے چکے اگر ان کو جمع کیا جائے تو پاکستان کے قرض شاید ختم ہی ہو جائیں لیکن حقائق دیکھیں تو ہر بچہ ہزاروں روپے کا مقروض ہی پیدا ہو رہا ہے۔ جب سے بین الاقوامی اداروں سے قرض لیے جا رہے ہیں ان کی ادائیگی عوام پر بوجھ بنتی چلی جاتی ہے۔ اب تو تاخیر سے ادائیگی والا قرض بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اس عرصے میں ملک قرض ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا بلکہ اس عرصے میں قرض لینے والی حکومت کے وزرا اور سربراہ بدل جائیں گے پھر نیا والا پچھلے والے کو برا کہتا نظر آئے گا۔ آج عمران خان نواز شریف کو وہ پیپلز پارٹی کو اور پھر یہ دونوں باری بار رہے۔ درمیان میں جنرل پرویز مشرف رہے اور ان کے جتنے بھی وزیر مشیر تھے وہ اب پی ٹی آئی میں ہیں یا اس کے حلیف ہیں۔ سب پچھلوں کو برا کہتے ہیں۔ عوام قرض کا حساب کس سے لیں۔ 15 ارب ڈالر کے نئے قرضوں سے کورونا زدہ معیشت کو مزید دھچکا لے گا۔ یہ حکمران پیداوار بڑھانے کے بجائے گھٹاتے ہیں۔ برآمدات کے فروغ میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے، چینی اور آٹے کے ذخیرے برآمد اور پھر درآمد کے کھیل کھیلتے ہیں۔ یہ قرض کیا ادا کریں گے۔بس ایک آواز آئے گی۔ گھبرانا نہیں ہے۔ لوگ سوچ رہے ہیں کہ بجٹ سے ڈرنا ہے یا لڑنا ہے…