اٹھارہ سال سے کم افراد کو سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد

179

حکومت نے 18 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ شہری آئندہ نسلوں کی صحت وبہبود کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

عالمی دن برائےانسداد تمباکو کے موقع پر معاون خصوصی ڈاکٹرظفر مرزا نے پیغام میں کہا کہ پوری دنیا میں انسداد تمباکو کا عالمی دن منایا جارہا ہے،آج کاموضوع نوجوانوں کو تمباکو کی صنعت میں جوڑ توڑسے بچاناہے، ہمارا مقصد نوجوانوں کو تمباکو اور نیکوٹین کے استعمال سے روکنا ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ تمباکو نوشی سےدنیامیں ہرسال 8.8 ملین افراد ہلاک ہو جاتے ہیں جب کہ 7ملین سے زائد اموات براہ راست تمباکو کے استعمال سےہوتی ہیں اور ایک لاکھ 20 ہزار تمباکو نوشی کےدھویں سے متاثر ہوتے ہیں، 80فیصدسےزائداموات کم اور درمیانی آمدنی والےممالک کے افراد کی ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بہت بڑا چیلنج ہے، پاکستان میں تمباکو نوشی سے سالانہ ایک لاکھ 60 ہزار افراد کی اموات ہوتی ہے اور 6سے15سال کے1200پاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت نے تمباکو کنٹرول پربڑی پیش قدمی کی ہے، وزارت صحت نے تمباکو کنٹرول کے لئے قومی پالیسی کا مسودہ تیار کیا ہے، تمباکوٹیکس اصلاحات میں24ارب کی رقم کی قابل عمل تجویزپیش کی ہے، ٹیکس کی اضافی آمدنی24 ارب روپے جو عوام کی جانیں بچانے کیلئےاستعمال ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سگریٹ کی فروخت 18 سال سے کم افرادپر پابندی عائد کردی ہے میری اپیل ہے کہ شہری آئندہ نسلوں کی صحت وبہبود کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔