امریکا:سیاہ فام شخص کی ہلاکت کیخلاف پرتشدد مظاہرے،25 شہروں میں کرفیو نافذ

561

امریکی ریاست منی سوٹامیں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئے ہیں، جس کے باعث ملک کی 16 ریاستوں کے25 شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست مِنی سوٹا کے شہر مینی پولِس میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف ملک گیر احتجاج آج بھی جاری ہے،مشتعل مظاہرین  کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ بھی کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن، نیویارک، لاس اینجلس، ہوسٹن، اٹلانٹا اور لاس ویگاس  سمیت کئی شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں اورہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل کر احتجاج کررہے ہیں،اس دوران پولیس موبائل سمیت کئی گاڑیوں اور دکانوں کو نذرآتش کردیا گیا، مشتعل افراد نے بہت سی دکانوں کے شیشے توڑ کر لوٹ مار کی ہے۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہیں،جبکہ 1400 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیاگیاہے۔

شدید ہنگاموں کے باعث منی سوٹا،کیلی فورنیا،فلوریڈا،واشنگٹن،نیو یارک  سمیت 16 ریاستوں کے 25 شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہےجبکہ مختلف ریاستوں میں حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے نیشنل گارڈز تعینات کیےگئے ہیں تاہم عوام نے کرفیو توڑ کر مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہے۔ خیال رہے کہ دو روز قبل مظاہرین نے امریکی ایوان صدر وائٹہاؤس میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی جو پولیس کی بھاری نفری نے ناکام بنادی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  جارج فلوئیڈ کی موت کو برا سانحہ قرار دیتے ہوئے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ اگر انھوں نے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں خونخوار کتوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس اہلکاروں کا سامنا کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پرایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا گیا کہ سفید فام پولیس اہلکار اپنا گھٹنا سیاہ فام جارج فلائیڈ کی گردن پر رکھ کر دبا رہا ہے،جس کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔