کورونا سے 78 ہلاکتیں ،تعلیمی ادارے اگست تک بند رکھنے کی تجویز

42

اسلام آباد،کراچی(نمائندہ جسارت/خبر ایجنسیاں ) ملک میں کورونا سے ایک ہی روز میں 78ہلاکتیں‘نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرنے 15جولائی تک کورونا وبا عروج پر ہونے کے امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے سفارش کی ہے کہ تعلیمی اداروں کو اگست تک بند رکھا جائے ‘وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مقامی سطح پر پھیلاو¿ کی شرح 92 فیصدہے لہٰذا عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں‘آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں نے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات میں 15 جولائی تک توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ‘ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ احتیاطی تدابیرپرعمل نہ کرنے کے باعث کوروناکیسزکی تعدادبڑھ رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کورونا کے متاثرین تیزی سے بڑھنے لگے، ملک بھر میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 66 ہزار 457 تک پہنچ گئی جبکہ ایک روز میں ریکارڈ 78 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ملک بھر میں اموات کی تعداد ایک ہزار 395 ہو گئی، سندھ میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 2429 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ 24 گھنٹے کے دوران 12 ہزار 20 نئے ٹیسٹ کیے گئے، اب تک 24 ہزار 131 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جب کہ کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ ملک بھر میں اب تک 5 لاکھ 32 ہزار 37 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔ کیسز کے حوالے سے بات کی جائے تو پنجاب میں 24 ہزار 104، سندھ میں 26 ہزار 113، خیبر پختونخوا میں 9 ہزار 67، بلوچستان میں 4 ہزار 87، گلگت بلتستان میں 660، اسلام آباد میں 2 ہزار 192 جبکہ آزاد کشمیر میں 234 مصدقہ کیسز ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا سے ایک روزمیں 78 افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 395 ہوگئی۔صوبوں میں مرحلہ وار بات کی جائے تو سندھ میں 427، پنجاب میں 439، خیبر پختونخوا میں 445، گلگت بلتستان میں 9، بلوچستان میں 46 اور اسلام آباد میں 23 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ملک بھر میں کورونا وائرس 66457 کے مصدقہ کیسز ہیں جبکہ 40931 افراد اس وقت زیر علاج ہیں جبکہ 24131 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 462 اسپتالوں میں قائم قرنطینہ مراکزمیںمریضوں کا علاج جاری ہے،ان اسپتالوں میں 7295 بیڈز کا بندوبست کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیںوفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقیات اور خصوصی اقدامات اسد عمر کی زیرصدارت این سی او سی میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ کوویڈ 19 سے متعلق ”طویل مدتی بیماری“ کے عنوان سے طویل اور قلیل مدتی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فورم نے کوویڈ19‘ معاملے پر بہتر پیغام رسانی اور عوامی رسائی کے لیے مواصلاتی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)نے 15جولائی تک کورونا وبا عروج پر ہونے کے امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے سفارش کی ہے کہ تعلیمی اداروں کو اگست تک بند رکھا جائے، این سی او سی نے چاروں صوبوں بشمول آزاد وجموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں انڈسٹری سے منسلک کچھ دیگر شعبے کھولنے کے لیے صوبائی حکومت سے تجاویز اور آرا مانگ لی ہیں‘ ان کی روشنی میں دیگر صنعتیں بھی کھولنے کی سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی۔دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میںکہا کہ پاکستان میں کورونا کے مقامی سطح پر پھیلاو¿ کی شرح 92 فیصد ہے لہٰذا عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ملک میں اب تک 5 لاکھ 32 ہزار کورونا ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مقامی پھیلاو¿ کی شرح 92 فیصد ہے جبکہ صحت یابی کی شرح 36 فیصد ہے۔ان کا کہنا ہے کہ طے کردہ ضابطہ کار اور گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے اور ہم ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔ڈاکٹر ظفرمرزا کا کہنا تھا کہ وائرس سے بچاو¿ کے لیے سرجیکل اور کپڑے کے ماسک استعمال کیے جاسکتے ہیں،مساجد، بازاروں، دکانوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرین میں ماسک پہننالازمی ہوگا۔اس موقع پروزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈویژن ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھا کہ اب تک 33 ہزار پاکستانیوں کو 55 مختلف ممالک سے واپس لاچکے ہیں اور یومیہ ایک ہزار مسافروں کو واپس لارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 10روزمیں 20 ہزار پاکستانیوں کو واپس لائیں گے، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے جلد نئی پالیسیاں لائیں گے۔معید یوسف کا مزید کہنا تھا کہ زمینی سرحدیں ا±سی طرح آپریٹ کررہی ہیں جیسے پہلے کررہی تھیں، بھارت سے 180 پاکستانیوں کو واپس لائے ہیں۔افغانستان سے تجارت کے حوالے سے معاون خصوصی نے بتایا کہ افغانستان کی درخواست پربنیادی اشیائے ضروریہ کی تجارت کی اجازت دی، افغان حکومت کی ہی درخواست پر طورخم اور چمن سے ٹرک جا رہے ہیں اور اس دوران پاکستان سے افغان شہری بھی واپس جا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سیاحوں کو ابھی فی الحال اجازت نہیں دی ہے۔ادھر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں نے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات میں 15 جولائی تک توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کا اطلاق سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں پر ہوگا۔اس سے قبل کورونا کے پھیلاﺅ اور ہیلتھ ایمرجنسی کے تحت23 مارچ سے تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند کر دیے گئے تھے تاہم کورونا وائرس کے پھیلاو¿ میں تیزی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تعلیمی اداروں میں تعطیلات میں 15 جولائی تک توسیع کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت دونوں حکومتوں کے محکمہ تعلیم کی جانب سے یہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے گئے ہیں جب کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیرپرعمل نہ کرنے کے باعث کورونا کیسزکی تعداد بڑھ رہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کورونا وائرس کی صورتحال پرکہا کہ اس وقت کورونا کے 13623 مریض زیرعلاج ہیں جن میں 12565 مریض گھروں میں آئسولیشن میں زیرعلاج ہیں، کورونا کے باعث انتقال کرنے والوں کی تعداد 465 ہوگئی ہے، ہفتے کومزید 38 مریض انتقال کرگئے، اموات بڑھنے پردل بہت افسردہ ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اب تک کورونا وائرس کے 176703 ٹیسٹ کیے گئے، ان ٹیسٹوں کے نتیجے میں اب تک 27307 مریض سامنے آئے، 5481 کے نتیجے میں 1247 نئے مریض ظاہر ہوئے، گزشتہ 24 گھنٹے میں 5481 ٹیسٹ کیے گئے، ہفتے کو522 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو چلے گئے تاہم اس وقت 310 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 13272 ہوگئی ہے جب کہ ہفتے کو1247 نئے کورونا وائرس کے مریض سامنے آگئے۔ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کے باعث کیسوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔