مہنگائی بے قابو ہو چکی ہے

194

تحریک انصاف کی حکومت عوام کے غم میں گھلی جا رہی ہے۔ وزیراعظم بے چین ہیں کہ غریبوں کو کس طرح مزید سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کو غربت کی لکیر سے بہت نیچے دھکیلنے کے بعد ان کی دست گیری کی جائے۔ تاہم صورتحال یہ ہے کہ بڑے مسائل تو ایک طرف، حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے۔ وزیراعظم بننے سے پہلے یہ عمران خان ہی نے کہا تھا کہ مہنگائی بڑھنے کا مطلب ہے کہ حکمران چور ہیں۔ ان کی بات بالکل درست ہے۔ قوم کو پرانے چوروں اور لٹیروں سے نجات ملی مگر اب تازہ دم لٹیرے آگئے ہیں۔ آٹا اور چینی کا اسکینڈل اسی دور حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ کمیٹی اور کمیشن بنانے کا پرانا کھیل کھیلا جا رہا ہے، مجرموں میں عمران خان کے یمین ویسار سر فہرست ہیں۔ لیکن پورا زور اس پر ہے کہ اصل ذمے دار سابقہ حکمران تھے۔ شہزاد اکبر نام کے کوئی صاحب روزانہ ٹی وی چینلز پر آکر کاغذات لہراتے اور الزامات دہراتے نظر آتے ہیں اور دعویٰ یہ کہ نیب غیر جانبدار ہے۔ جہانگیر ترین، خسرو بختیار و فیملی اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کوئی ذکر نہیں۔ کمیشن بننے اور اس کی رپورت وزیراعظم تک پہنچنے کے بعد سوال یہ ہے کہ چینی اور آٹے کی قیمت کم کیوں نہیں ہوئی۔ گزشتہ روز ہی آٹے کی قیمت میں 5 روپے کلو کا اضافہ ہو گیا ہے۔ آٹا پاکستان کے عوام کی بنیادی غذائی ضرورت ہے۔ اس کی قیمت چڑھنے سے نانبائیوں نے روٹی کی قیمت بڑھا دی ہے۔ جو حکومت عوام کو خوراک بھی نہ فراہم کر سکے اس کے اقتدار میں رہنے کا جواز نہیں رہتا۔ اور اب یہ بات عوام کی زبان پر آگئی ہے۔ آٹا 55 روپے سے 60 روپے کلو تک میںبک رہا تھا۔ اب مزید مہنگا ہو گیا۔ چینی اب بھی 85 روپے کلو مل رہی ہے۔ دیگر چیزوں کا تو پوچھنا ہی کیا۔ منافع خوروں سے لے کر عام دکاندار تک اپنی مرضی کی قیمت وصول کر رہا ہے۔ دال، سبزی، گوشت، کون سے شے ہے جس کی قیمت آسمان سے بھی اوپر نہ پہنچ گئی ہو۔ بناسپتی گھی جو دو سال پہلے تک 90 روپے کلو تھا، آج 210 روپے کلو ہے۔ مشہور تھا ’’دال، بچے پال‘‘۔ یعنی دال اتنی سستی ہوتی ہے کہ اس پر غریب کے بچے پل جاتے ہیں جن کو گوشت کھانے کی عیاشی میسر نہیں۔ اب حال یہ ہے کہ دال مسور 180 سے 200 روپے کلو تک مل رہی ہے اور دال مونگ اس سے بھی زیادہ مہنگی یعنی 290 اور 300 روپے کلو۔ پسی ہوئی مرچ حکمرانوں کی آنکھوں میں جھونکنے کے لیے بھی سستی نہیں ہے، 180 روپے کی ایک پائو۔ سنا ہے کہ کہیں پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی ہوتی ہیں۔ وہ کیا کرتی ہیں، یہ ایک راز ہے۔ ایک بات یاد رکھیں اگر دیدہ کور نہ ہو، کہ جب حکمران بدنیت ہوں تو طرح طرح کی آفتیں نازل ہوتی ہیں، قحط سالی، وبائی امراض، سیلاب، زلزلے، سب ٹوٹ پڑتے ہیں۔ لیکن اس سے حکمران طبقہ متاثر نہیں ہوتا۔