سینٹرل کنٹریکٹ نہیں ملک کیلئے کھیلنا ترجیح ہے،وہاب ریاض

73

لاہور (جسارت نیوز)قومی ٹیم کے فاسٹ بولر وہاب ریاض نے کہا ہے کہ ا ن کے لییسینٹر ل کنٹریکٹ نہیں ،ملک کے لیے کھیلنا ترجیح ہے۔تفصیلات کے مطابق وہاب ریاض اور محمد عامر نے گزشتہ برس ریڈ بال کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔محمد عامر نے اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا اور اس کے بعد وہاب ریاض کے بارے میں بھی خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں اور پھر ایسا ہی ہوا اور وہاب ریاض نے ریٹائر منٹ کا اعلان تو نہ کیا لیکن ریڈ بال کرکٹ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔محمد عامر کے ریٹائر منٹ کے اعلان کے بعد سینٹر ل کنریکٹ میں ایک درجے تنزلی کر دی گئی جبکہ وہاب ریاض نے ریٹائر منٹ کا اعلان نہیں کیا اس لیے وہ سینٹرل کنٹریکٹ کی بی کٹگری میں ہی رہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے 2020-21 کیلیے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کرنے سے قبل ہی یہ خبریں سامنے آ گئی تھیں کہ دونوں فاسٹ بولرز کو سینٹر ل کنٹریکٹ نہیں ملے گا اور ایسا ہی ہوا اور جب اعلان ہوا تو فاسٹ بولرز کا فہرست میں نام ہی شامل نہیں تھا۔ وہاب ریاض نے سنٹر ل کنٹریکٹ میں عدم شمولیت کے حوالے سے پہلی مرتبہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنٹر ل کنٹریکٹ کے اعلان سے قبل یہ خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ ہمیں کنٹریکٹ نہیں ملے گا، یہ خالصتا پی سی بی کا فیصلہ ہے لیکن ہمیں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔وہاب ریاض نے کہا کہ ممکن ہے کہ ہمیں ریڈ بال کرکٹ چھوڑنے کی وجہ سے مثال بنایا گیا ہو، یا یہ سوچا ہو کہ اب نوجوان فاسٹ بولرز کو موقع دینا ہے اور سنٹر ل کنٹریکٹ میں رکھ کر گروم کرنا ہے تاہم میری سنٹر ل کنٹریکٹ پہلی ترجیح نہیں ہے، ملک کے لیے کھیلنا پہلی ترجیح ہے اور ہمیشہ رہے گی جب بھی موقع ملا ملک کے لیے کھیلنا اعزاز ہو گا۔ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر نے کہا کہ ریڈ بال کرکٹ میں واپسی کے بارے میں نہ سوچا ہے اور نہ پلان کیا ہے، ابھی اپنے فیصلے پر قائم ہوں، جب لگے گا کہ مجھے کھیلنا ہے تو میں پی سی بی کو اپنے فیصلے کے بارے میں آگاہ کر دوں گا۔وہاب ریاض نے کہا کہ ہمارے بارے میں ایک غلط تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم نے لیگز سے پیسہ کمانے کے لیے ریڈ بال کرکٹ چھوڑی ہے، ایسا کچھ نہیں ہے، ہمیشہ پاکستان کو ترجیح دی، کئی مرتبہ پاکستان ٹیم کے لیے خود کو دستیاب کیا اور لیگز کے معاہدے چھوڑے، ہمارے فیصلوں کو عزت دینی چاہیے، غلط تاثر قائم نہیں کرنا چاہیے۔وہاب ریاض نے کہا کہ میں تو 2017 سے پاکستان یسٹ ٹیم کا مستقل حصہ بھی نہیں تھا، بمشکل ایک ٹیسٹ میچ کھیلا ہوا تھا۔