بھارت اور افغانستان

294

افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے عمل دخل کا اندازہ جہاں مختلف سیکٹرز میں اس کی دلچسپی اور سرمایہ کاری سے لگایا جاسکتا ہے وہاں پچھلے کچھ عرصے سے یہاں وقوع پزیر ہونے والے بدامنی کے پے درپے واقعات کے پیچھے بھارتی ہاتھ سامنے آنے سے بھی دنیا پر یہ حقیقت عیاں ہوگئی ہے کہ بھارت افغان سر زمین کو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کررہا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے دنوں کابل کے ایک گورد وارے پر ہونے والے حملے کا الزام شروع میں حسب معمول طالبان پر عائد کیا گیا تھا لیکن انہوں نے نہ صرف اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کردیا تھا بلکہ بعد میں یہ بات بھی سامنے آ گئی تھی کہ اس حملے کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ تھا جو سکھوں کی مقدس عبادت گاہ کو نشانہ بنا کر ایک تیر سے دوشکار کرنا چاہتی تھی لیکن طالبان نے ان حملوں سے اعلان لاتعلقی کرکے اس بھارتی سازش کوناکام بنا دیا۔ اسی طرح گزشتہ دنوں جب افغان حکومت کی جانب سے کابل کے زچہ بچہ اسپتال اور ننگر ہار میں جنازے پر ہونے والے حملے طالبان کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی تو طالبان نے ان دونوں حملوں سے بھی لاتعلقی کا اعلان کر کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ان سازشوں کو ایک باپھر ناکامی سے دوچار کردیا تھا۔
یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ امریکا کے بعد اگر کسی ملک نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور کسی ملک کے افغانستان میں سیاسی واقتصادی اور اسٹرٹیجک مفادات ہیں تو وہ بھارت ہے جو شروع دن سے یہاں اپنے پر پرزے نکالنے کے جتن کرتا رہا ہے۔ بھارت کی افغانستان میں دلچسپی کی بنیادی وجہ تو پاکستان کا گھیرائو ہے جب کہ دوسری جانب و ہ اپنی اس حکمت عملی کے ذریعے افغانستان کے راستے وسطیٰ ایشیا کی ریاستوں حتیٰ کہ روس تک رسائی حاصل کر کے تجارتی اور اقتصادی مفادات بھی حاصل کرنا چاہتا ہے، اس ضمن میں چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر اور اس بندرگاہ سے افغانستان تک ریلوے ٹریک بچھانے میں اس کی دلچسپی سے ہر کوئی واقف ہے۔ بھارت کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا حالیہ اندازہ اس کی جانب سے طالبان امن مذاکرات میں شمولیت کی خواہش کے اظہار سے بھی ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت اس سے پہلے بھی مختلف فورموں پر ہونے والے افغان امن مذاکرات میں دلچسپی ظاہر کرتا رہا ہے لیکن اسے اس ضمن میں کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو قریب لانے میں بھی پس پردہ بھارت نے کردار ادا کیا ہے جس کے ان دونوں افغان راہنمائوں سے خصوصی مراسم ہیں۔ البتہ دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ پروجیکٹ بھارت نے از خود پایہ تکمیل کوپہنچایا ہے یا پھر یہ ’’کارنامہ‘‘ انجام دینے میں اُسے امریکی حمایت حاصل رہی ہے کیونکہ اب تک امریکی آشیرباد کے بغیر اس بیل کے منڈھے چڑھنے کا بظاہرکوئی امکان نظر نہیں آ رہا تھا۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکا کا پس پردہ رہتے ہوئے بھارت کے توسط سے یہ معاہدہ کروانے کے پیچھے اگر ایک طرف طالبان کی ناراضی کا خوف کارفرما تھا تو دوسری جانب اس ڈپلومیسی کے تحت امریکا بھارت کو افغان معاملات میں ایک اہم کردار دلانے کا بھی متمنی تھا جس کا ثبوت پچھلے کچھ دنوں کے دوران کابل سے واشنگٹن اور دوحہ تک افغان معاملات اور امن مذاکرات میں بھارت کا ذکر بار بار سامنے آنے کی صورت میں بھی دیکھاجاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ افغان میڈیا پچھلے دنوں اس حوالے سے یہ دعویٰ کرچکا ہے کہ امریکی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد اس سلسلے میں نہ صرف بھارتی حکام سے ملاقات کرچکے ہیں بلکہ وہ اس حوالے سے طالبان کو بھی اعتماد میں لینے کا اشارہ دے چکے ہیں جب کہ دوسری جانب جب گزشتہ روز امریکا میں متعین پاکستانی سفارت کار اسد خان سے میڈیا نے استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر بھارت طالبان سے امن مذاکرات میں کوئی کردار ادا کرسکتا ہے تو اس پہلو کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے طالبان کا اپنا موقف ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
دریں اثناء افغان امریکا امن مذاکرات کے سربراہ شیر محمد عباس ستنکزئی نے دوحہ سے جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار ہمیشہ منفی رہا ہے کیوں کہ بھارت نے ہمیشہ افغانستان میں غداروں کی مدد اور حمایت کی ہے تاہم بھارت اگر افغانستان میں مثبت کردار ادا کرے تو افغان طالبان کو ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ شیر عباس ستنکزئی نے کہا کہ اگر بھارت نئے افغانستان کی تعمیر کے لیے امن مذاکرات میں مثبت کردار ادا کرنا شروع کردے تو طالبان بھی مذاکرات کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت گزشتہ 40 سال سے افغانستان میں موجود ہے جہاں وہ افغانیوں کے بجائے ایک کرپٹ گروپ کے ساتھ سیاسی، عسکری اور معاشی تعلقات قائم کیے ہوئے ہے۔ لہٰذا اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی منزل اب بھی کوسوں دور ہے کیونکہ یہ سرزمین جب تک بیرونی طاقتوں کے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں نرم چارے کے طور پر استعمال ہوتی رہے گی تب تک یہاں پائیدار اور مستقل امن کی خواہش محض ایک خواب ہی رہے گا لہٰذا توقع ہے کہ افغان قیادت اپنی قوم پر رحم کھاتے ہوئے غیرملکی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بجائے خود مل بیٹھ کر نہ صرف افغانستان کو جاری چالیس سالہ بحران سے نکالنے کی سنجیدہ کوشش کرے گی بلکہ اپنی پچھلی کوتاہیوں اور ایک دوسرے کی زیادتیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل اور اختلافات باہمی گفت وشنید کے ذریعے اسلامی اخوت وبھائی چارے کی مدد سے حل کرنے پر توجہ دے گی۔