قیمت تو کشمیری چکا رہے ہیں…

318

پاکستان نے سلامتی کونسل کو متنبہ کیا ہے کہ اسے غیر ملکی جارحیت اور قبضے کے معاملے میں کارروائی نہ کرنے کی قیمت چکانا پڑے گی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عالمی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم پر بھارت سے جواب طلب کرے۔ دہائیوں پرانے تنازع کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے فلسطین اور دیگر دیرینہ تنازعات کے حل کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ پاکستان کے میڈیا میں منیر اکرم اور دفتر خارجہ کی واہ واہ ہو رہی ہے کہ کیا زبردست بیان دیا ہے لیکن اقوام متحدہ، سلامتی کونسل یا کسی بھی فورم پر کسی مسئلے کو اٹھانے کا طریقہ کار واضح ہوتا ہے۔ ملک کی قومی اسمبلی یا سینیٹ میں بھی کوئی مسئلہ اٹھانا ہو تو تحریری طور پر قرارداد، سوال یا تحریک التوا جمع کرائی جاتی ہے پھر اسمبلی اس پر غور کرکے فیصلہ کرتی ہے۔ سلامتی کونسل پر جتنے بھی الزامات یا ذمے داریاں منیر اکرم نے عاید کی ہیں ان کا اصل مخاطب تو حکومت پاکستان ہی ہے۔ پاکستانی حکومتوں نے سلامتی کونسل میں کب کب سنجیدہ کوششیں کی ہیں؟ بلکہ یہ الزام الٹا پاکستان پر ہے کہ جب پاکستان سلامتی کونسل سے کشمیر میں استصواب رائے منوا سکتا تھا اس وقت بھی کوئی باضابطہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا۔ اور یہ بات بھی بڑی عجیب ہے کہ سلامتی کونسل کو غیر ملکی جارحیت اور قبضے کے معاملات میں کارروائی نہ کرنے کی قیمت چکانا پڑے گی۔ ارے قیمت تو کشمیر کے عوام چکا رہے ہیں۔ بھارت کے کروڑوں مسلمان، بنگلا دیش میں اراکان اور فلسطینی عوام چکا رہے ہیں۔ سلامتی کونسل تو وہ ادارہ ہے جو ہر چیز کی قیمت وصول کرتا ہے۔ پاکستانی حکمرانوں نے تو جو جرائم کیے ہیں اور موجودہ ھکومت نے ان کے ریکارڈ توڑے ہیں ان جرائم کی قیمت بھی کشمیر، بھارت اور پاکستان کے مسلمان چکا رہے ہیں۔ اگر پانچ اگست 2019ء کے بعد سے ہونے والے واقعات کو سامنے رکھا جائے تو یہ بہت بڑا جرم ہے۔ پاکستان مسلسل خاموش ہے۔ صرف بیانات اور ٹیلی گرام نما پیغامات کے ذریعہ اپنے ملک کے عوام کو دھوکا دیا جا رہا ہے۔ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر پاکستانی حکومت نے ایک ایسا قدم بھی نہیں اٹھایا جس سے بھارت کے حوصلے پست ہوتے۔ صرف دو جمعہ تک آدھا آدھا گھنٹہ سڑک پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔ اس کے بعد وہ بھی ختم۔ پھر تو بھارت نے لائن لگا دی۔ بابری مسجد کا متنازعہ فیصلہ، متنازعہ شہریت قانون پر سختی سے عملدرآمد اور پھر ہر معاملے میں مسلمانوں پر افتاد… ان سب کی ذمے داری پاکستان کی موجودہ حکومت پر ہے۔ جنگ اور خطے میں کشیدگی کی دھمکیوں یا امن کی تباہی کے انتباہ سے اقوام متحدہ یا سلامتی کونسل میں حرکت نہیں ہوتی۔ یہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ اسی وقت تشویش میں پڑتے ہیں جب ان کے ایجنڈے سے ہٹ کر کوئی کارروائی ہو۔ بھارت نے جس روز کشمیر میں 5 اگست والا اقدام کیا تھا پاکستانی فوج کو حرکت دی جاتی۔ بلکہ صرف عوام کو سرحد پار جانے کی اجازت دے دی جاتی تو اقوام متحدہ، او آئی سی، انسانی حقوق کی تنظیمیں، ریڈ کراس وغیرہ سب کود پڑتے۔ یہی مواقع ہوتے ہیں قومی معاملات پر درست موقف اختیار کرنے کے۔ لیکن ہماری عمران خان نیازی حکومت یوٹرن لینے میں مصروف رہی۔ یہ رویہ صرف عمران نیازی حکومت کا نہیں ہے۔ میاں نواز شریف، بے نظیر بھٹو، جنرل پرویز سب ہی کا رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے راجیو گاندھی کی پاکستان آمد پر کشمیر ہائوس کے بورڈ اتروائے تھے اور نواز شریف نے واجپائی کے سرخ قالینوں سے استقبال کی خاطر جماعت اسلامی کے احتجاجی کارکنوں کے خون سے لاہور کی سڑکیں سرخ کر دی تھیں۔ ان کی تو مودی سے یاری بھی سب کے سامنے ہے۔ اب یہی یاری عمران خان نبھا رہے ہیں۔ بھارت کی سازشوں، بمباری اور جارحیت کا رونا تو اس وقت زیادہ مناسب ہوتا جب ہم خود کوئی ٹھوس کام کر رہے ہوتے۔ پاکستانی حکومتوں کی جانب سے کشمیر کے معاملے میں بے رغبتی کا اندازہ اس واقعے سے کیا جا سکتا ہے جب اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب احمد کمال نے برملا اعتراف کیا تھا کہ جب ہم کشمیر میں بھارتی مظالم پر سلامتی کونسل میں زیادہ آواز اٹھاتے ہیں تو ہمیں کہیں اور سے نہیں اسلام آباد سے ہدایت ملتی ہے کہ ذرا ہاتھ ہلکا رکھیں۔ اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ صرف بھارتی جارحیت اور سلامتی کونسل کی بے عملی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستانی حکمرانوں کی دوعملی اور خاموشی زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔