اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی عدم سہولیات پرمریض موت کا شکار ہونے لگے

136

کراچی (رپورٹ: قاضی عمران احمد) سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لیے وینٹی لیٹرزمختص کرنے کی وجہ سے عام امراض میں مبتلا مریض وینٹی لیٹر کی سہولیات نہ ملنے سے موت کا شکار ہونے لگے، سندھ حکومت کے اعلان کے باوجود ابھی تک اسپتالوں میں انفارمیشن ڈیسک کا قیام عمل میں نہیں آ سکا ہے جس کی بنا پر کورونا کے مریض رُل گئے ہیں اور انہیںکہیں سے معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ کس اسپتال میں کورونا کے لیے مختص وینٹی لیٹر خالی ہیں، اسپتالوں میں ڈاکٹر اور طبی عملہ تشویش ناک حالت میں لائے جانے والے مریضوں کے علاج معالجے سے گریز کرنے لگا، کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ سے قبل علاج نہیں کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جناح اسپتال میں 45 وینٹی لیٹرز میں 12 کورونا کے لیے مختص کر دیے گئے ہیں، ایسی ہی کچھ صورت حال ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) اور اوجھا انسٹی ٹیوٹ کراچی کی بھی ہے جہاں پہلے ہی مریضوں کی تعداد کے حوالے سے وینٹی لیٹرز کی قلت ہے اور ان میں سے بھی 30سے 50 فیصد وینٹی لیٹرز کورونا کے مریضوں کے لیے مخصوص کر دیے گئے ہیں، کراچی شہر کے 4 بڑے سرکاری اسپتالوں میں صرف 209 وینٹی لیٹرز ہیں جو عام مریضوں کے لیے ہیں، ان میں سے بھی 40 فی صد سے زاید کورونا کے مریضوں کے لیے منتقل کیے گئے ہیں۔ اسپتالوں میں امراض قلب سمیت دیگر امراض میں مبتلا تشویش ناک حالت میں لائے جانے والے مریضوں کو فوری طبی امداد دینے کے بجائے انہیں پہلے آئسولیشن وارڈ میں رکھا جاتا ہے، ان کے کورونا ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں، ان کی رپورٹس میں تاخیراور فوری طبی امداد نہ ملنے کے باعث اکثر مریض جاں بحق ہو جاتے ہیں اور انہیں بھی کورونا میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ حکومت سندھ نے کراچی کے 2نجی اسپتال ضیا الدین اور لیاقت نیشنل اسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کورونا کے علاج کے لیے مقرر کیا تھا، ان کے علاج پر خرچ ہونے والی رقم حکومت سندھ نے دینے کا اعلان کیا تھا مگر ان دونوں اسپتالوں نے اسپتال میں جگہ ’’بھر‘‘ جانے کا اعلان کر دیا مگر حکومت نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔شہر قائد کے وسط میں ایکسپو سینٹر میں قائم 1500 بستروں پر مشتمل قرنطینہ مرکز کو تمام تر مطلوبہ سہولتیں فراہم کردی جاتیں تو کورونا متاثرین کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔