گیارہ کروڑ پاکستانیوں کا ڈ یٹا35 کروڑ میں فروخت ، حکومت سے جواب طلب

142

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے ساڑھے 11 کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت سے متعلق دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے 24 جون تک حساس ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی۔ جمعہ کو کو جسٹس محمد علی مظہر کی سر براہی میں 2رکنی بینچ نے ساڑھے 11 کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت سے متعلق محمد طارق منصور ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے موقع پروفاقی حکومت کے سائبر سیکورٹی ماہر پیش ہوکر عدالت کو بتایا کہ 11 اپریل کو ٹویٹر کے ذریعے حساس ڈیٹا فروخت ہونے کا آرٹیکل وائرل ہوا تھا اور وفاقی حکومت نے 12 اپریل کو ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق تحقیقات شروع کیں، تحقیقات مکمل ہونے والی ہیں، ڈیٹا لیک ہونے میں کون کونسی کمپنی اور شخصیات ملوث ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے 24 گھنٹے مانیٹرنگ کے انتظامات کیے جارہے ہیں تاکہ سیکورٹی یقینی بنایا جائے ،واٹس اپ کلاسیفائیڈ کے ذریعے کچھ انفارمیشن چوری ہونے کی اطلاعات ہیں، سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 10 اپریل کو ساڑھے11 کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا فروخت کرنے کے لیے ڈارک ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا گیااور شہریوں کا حساس ڈیٹا 35 کروڑ روپے میں فروخت کیا جارہا ہے جبکہ ڈیٹا موبائل صارفین کا شناختی کارڈ نمبرز، مکمل ایڈریس فون نمبر اور دیگر چیزیں شامل تھیں،پاکستان میں اس وقت ساڑھے 16کروڑ موبائل صارفین ہیں،مزید شہریوں کو ڈیٹا بھی فروخت کیا جاسکتا ہے ، دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے، حساس ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لئے جلدی موثر انتظامات مکمل کرنے ہوں گے تاکہ مزید ڈیٹا لیک نہ ہو، بتایا جائے کہ وفاقی حکومت کی تحقیقات میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے بعد ازاں عدالت نے وفاقی حکومت سے حساس ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے حوالے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 24 جون تک ملتوی کردی۔