توشہ خان ریفرنس؛ نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری

187

احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے نواز شریف،آصف علی زرداری سمیت تمام ملزمان کو11 جون کو پیش ہونےکاحکم دے دیا جب کہ عدالت نے نیب کی جانب سے یوسف رضا گیلانی اور عبدالغنی مجیدکوگرفتارکرنےکی استدعامسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اور 2 سابق وزرائے اعظم کے خلاف احتساب عدالت میں سماعت ہوئی تو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی عدالت میں پیش جب کہ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت میں پیش نہ ہوئے۔

عدالت نے آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو آج عدالت طلب کیا تھا،آصف زرداری،نواز شریف پر تحائف میں ملنے والی گاڑیاں حاصل کرنے کا الزام ہے۔

احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے کیس کی سماعت کی تو نیب نے عدالت میں یوسف رضا گیلانی اور عبدالغنی مجید کو گرفتار کرنے کی استدعا کردی، نیب پراسیکیوٹر کی آصف علی زرداری اور نواز شریف کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی بھی استدعا کی۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو سمن ان کی رہائش گاہوں پر وصول کروائے تاہم  انور مجید اسپتال میں زیر علاج ہیں وہاں سمن وصول نہیں کیے گئے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ میاں نواز شریف کی طرف سے کون پیش ہوا ہے؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ   میاں نواز شریف کی طرف سے کوئی بھی پیش نہیں ہوا۔

دوران سماعت آصف علی زرداری کی آج حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کرتے ہوئے فاضل جج نے کہا کہ آصف علی زرداری کو صرف آج کی حاضری سے استثنا دے رہا ہوں، آیندہ سماعت پر آصف علی زرداری ہر صورت عدالت پیش ہوں۔

سماعت کے دوران سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے عدالت کے روبرو  بیان دیا کہ زرداری صاحب کو تین ممالک کے سربراہوں نے کارتحفے میں دیں اور رولز کو فالو کرتے ہوئےیہ  کاریں دی گئیں۔

احتساب عدالت نےسمن کی تعمیل کےباوجودعدم حاضری پرنوازشریف کےقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جب کہ نواز شریف،آصف علی زرداری سمیت تمام ملزمان کو11 جون کوعدالت میں  پیش ہونےکاحکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

عدالت نے نیب کی جانب سے یوسف رضا گیلانی اور عبدالغنی مجیدکوگرفتارکرنےکی استدعا بھی مسترد کردی۔