عزیر بلوچ، نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹس پبلک کرنے کا مطالبہ

186

وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے عزیر بلوچ، نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ پبلک  نہ کرنے کے معاملے پر چیف سیکرٹری سندھ کے خلاف ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔

تفصیلات کے مطابق درخواست سانحہ بلدیہ، لیاری گینگ وارعزیربلوچ اورنثارمورائی کی جے آئی ٹی پبلک نہ کرنے پر دائر کی گئی، درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے جنوری میں تینوں جے آئی ٹیز پبلک کرنے کا حکم دیا تھا اور  عدالتی حکم کے باوجود چیف سیکریٹری سندھ نے تینوں جے آئی ٹیز پبلک نہیں کیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ عزیر بلوچ  نے بھی دہشتگردی اور دیگروارداتوں میں اہم شخصیات کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا،  عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر چیف سیکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ طیارہ حادثے میں شہیدوں کے لواحقین انکوائری رپورٹ پبلک ہونے کے حق میں ہیں، جے آئی  ٹی عوام کے  ٹیکس پر بنتی ہے، میں بھی طیارہ حادثہ انکوائری رپورٹ  پبلک کرنے کے حق میں ہوں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری آگ کی جے آئی ٹی میں ایسے لوگ ملوث ہیں جو آج بھی سیاست کررہے ہیں، بلدیہ فیکٹری میں آگ لگنے کی جے آئی ٹی رپورٹ بھی پبلک ہونی چاہیے جے آئی ٹی کے مطابق بلدیہ فیکٹری میں آگ حادثہ نہیں دہشت گردی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ عزیر بلوچ کی جے  آئی ٹی میں جن کا نام ہے وہ آج بھی ایک پارٹی کے سربراہ ہیں، سندھ ہائی کورٹ نے 28 جنوری کو جے آئی ٹی پبلک کرنے کا فیصلہ دیا تھا، چیف سیکریٹری کو جے آئی ٹی فراہم کرنے کے لیے خط لکھا،آج تک جواب نہیں ملا،کراچی کے عوام کے ساتھ گزشتہ دودہائیوں سے ناانصافی ہورہی ہے۔