شراب خانے کھولنے کی اجازت دینا عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے

45

ٹنڈوالہٰےار (نمائندہ جسارت) جمعیت علما اسلام ف کے ضلعی پریس ترجمان مولانا عتےق الرحمن بر وہی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شراب خانوں کو بند کرکے سرکاری اسپتالوں میں عوام کا علاج شروع کیا جائے۔ سندھ میں دوسرے صوبوں کے جعلی ڈومیسائل بنانے پر قائم کردہ کمیشن کا خیر مقدم کرتے ہیں، سندھ میں جعلی ڈومیسائل کے کاروبار میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کی جائے، چیف سیکرٹری کی جانب سے قائم کردہ کمیشن تفتیش کرے اگر جعلی ڈومیسائل بنانے کے ثبوت ملتے ہیں تو پھر پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ یہ غلط کام کس طرح ہوا ہے۔ سندھ پر حق صرف اہالیان سندھ کا ہے، نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی ملی بھگت سے غیرقانونی جعلی ڈومیسائل بنائے جا رہے ہیں، لاک ڈاﺅن کے باوجود لاڑکانہ اور دیگر اضلاع میں شراب کے گتھوں پر عائد پابندی ختم کرنے اور انہیں بے دھڑک اجازت دینے کے سندھ حکومت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ ایک طرف مدارس، مساجد اور کاروبار کی بندش سے عام لوگوں کی زندگی اجیرن بنائی گئی ہے تو دوسری طرف شراب کے گتھے کھولنے کی اجازت دینا عذاب خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ سندھ حکومت نے شراب خانے کھولنے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو جے یو آئی کے کارکنان شراب کے گتھوں کی تالا بندی کریں گے، سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے اور ادویات کی مد میں اربوں روپے کا بجٹ کہاں استعمال ہورہا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں خرچ کی گئی رقم کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام علاج نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں، سندھ حکومت کورونا وائرس پر سیاست کرنے کے بجائے عوام کے علاج اور انہیں بنیادی حقوق کی فراہمی پر توجہ دے۔