جیکب آباد،میگا اسکیم مکمل ہونے کے باوجود شہری پانی سے محروم

64

جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جے یو آئی اور جے ٹی آئی کی جانب سے شہر میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی، بجلی کی لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ، تپتی دھوپ میں دھرنا، سول سوسائٹی، صحافیوں، وکلاءاور بیوپاریوں پر مشتمل واٹر مینجمنٹ بورڈ بنانے کا مطالبہ۔ جیکب آباد میں جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت طلبہ اسلام کی جانب سے جیکب آباد میں سوا دو ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والی میگا واٹر سپلائی اسکیم سے شہریوں کو پانی کی عدم فراہمی کیخلاف ایک احتجاجی جلوس جے یو آئی کے ضلعی امیر ڈاکٹر اے جی انصاری، نائب امیر مولانا فدا احمد ڈول، تعلقہ امیر حافظ میر محمد بنگلانی، مولانا عبدالجبار رند، سٹی فورم کے صدر حماداللہ انصاری، ختم نبوت کے ضلعی صدر مولانا تاج محمد چنا، جے ٹی آئی کے غلام مرتضیٰ حیدری، تاج محمود امروٹی، ای پی سی کے محمد شعبان ابڑو، نیشنل پارٹی کے ممتاز علی برڑو، کرسچن کمیونٹی کے رہنما برونر بی نیوٹن ٹونی، اقلیتی رہنما دلیپ کمار و دیگر تنظیموں کے رہنماو¿ں کی قیادت میں دفتر جے یو آئی سے نکالا گیا۔ مظاہرے میں سیاسی، سماجی، دینی و بیوپاری تنظیموں اور بڑی تعداد میں شہریوں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈز تھے جن پر شہریوں کو پانی فراہم کرو، بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرو، جعلی ڈومیسائل ختم کرو جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین شہر کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے شہر کے اہم ڈی سی چوک اور بعد پریس کلب کے سامنے پہنچے جہاں مظاہرین نے تپتی دھوپ میں دھرنا دیا اور شہر کے مسائل پر نعرے بازی کی۔ اس موقع پر رہنماو¿ں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوا دو ارب روپے کی پینے کے پانی کی میگا اسکیم مکمل ہونے کے باوجود شہریوں کو پانی فراہم نہ کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 ہزار شہریوں نے کنکشن بھی حاصل کیے ہیں مگر اس کے باوجود پانی کی فراہمی جاری نہیں کی جارہی۔ انہوں نے کہا کہ اس میگا اسکیم کو ناکام کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ واٹر سپلائی اسکیم کو مستقل بہتر انداز میں چلانے کے لیے سول سوسائٹی، صحافیوں، وکلا، بیوپاریوں پر مشتمل واٹر مینجمنٹ بورڈ بنایا جائے۔ رہنماو¿ں نے مزید کہا کہ جیکب آباد ایشیا کا گرم ترین علاقہ ہے مگر اس کے باوجود 12 سے 14 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، جس کی وجہ سے شہری عذاب میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہریوں کو پانی فراہم کیا جائے، بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے اور جعلی ڈومیسائل ختم کیے جائیں۔